Welcome!

اُردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم آج ہی اس کے ممبر بنیں اور بہترین کہانیوں سے لطف اندوز ہوں

Register Now

Announcement

Collapse
No announcement yet.

منصور نگر کی دولت

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Classic Story منصور نگر کی دولت

    فرخ ریل کی کھڑکی سے باہر تیز تیز دوڑتے ہوئے درخت، میدان، کھیت دیکھ رہا تھا۔ اس کا ریل سے یہ پہلا سفر تھا۔ دوڑتے بھاگتے منظر اسے بہت اچھے لگ رہے تھے۔
    ’’بھیا ! یہ پیلے پیلے کیا سرسوں کے کھیت ہیں ؟‘‘ اس نے پرویز سے پوچھا۔ پرویز اس کا بڑا بھائی کتاب پڑھنے میں اتنا مصروف تھا کہ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ بھیا بھی خوب ہیں۔ اس نے سوچا، ہر وقت پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ فرخ خاصا شرارتی اور پیارا لڑکا تھا، کوئی دس سال کا ہو گا۔ کسی وقت نچلانہ بیٹھتا ۔ابو امی کے بغیر پہلی دفعہ یہ لوگ گھر سے دور جارہے تھے۔ فرخ اپنے آپ کو خاصا بڑا محسوس کر رہا تھا۔ اس لئے وہ بہت خوش تھا اور چاہ رہا تھا کہ بھائی بھی اسی طرح خوش ہوں۔ اچانک اسے یاد آیا کہ امی نے ریل میں پڑھنے سے منع کیا تھا۔
    ’’مت پڑھیں بھیا۔ ‘‘ فرخ نے کہا۔
    ــ’’اونہہ نہہ۔ کیا ہوا؟‘‘ پرویز نے اب بھی کتاب سے نظریں نہیں ہٹائیں تھیں ۔
    ’’ریل میں پڑھنا آنکھوں کے لئے مضر ہے۔ ‘‘ فرخ نے کہا۔
    ’’ چپ ر ہو۔‘‘ پرویز نے ڈانٹا۔ اور پھر پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔
    پرویز، فرخ سے پانچ برس بڑا تھا۔ دونوں بھائی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے، پرویز خاصا سنجیدہ تھا اور پڑھنے کا بے حد شوقین بھی۔ یہ اپنے بھائی کے مقابلے میں خاصا تندرست تھا۔ کتابیں پڑھنے سے اس کی عام معلومات میں بھی کافی اضافہ ہوا تھا۔ پرویز کی طرف سے مایوس ہو کر فرخ اپنی بڑی بہن سائرہ کی طرف مڑا۔
    ’’سائرہ باجی! یہ منصور نگر کتنی دور ہو گا۔ ہم وہاں کب پہنچیں گے۔ ‘‘
    سائرہ مسکرائی۔ ’’ ابھی تو ہم نے سفر شروع کیا ہے ،کیا تم تھک گئے؟ ‘‘
    ’’ نہیں تو۔‘‘
    ’’ابو نے بتایا تھا کہ منصور نگر ڈھائی سو کلو میٹر ہے۔ ہم تقریباً پانچ گھنٹے میں وہاں پہنچ جائیں گے ۔ ‘‘
    ’’اللہ کتنا مزا آئے گا۔ ہم لوگ قلعے میں رہیں گے۔ ابو نے تو یہی بتایا تھا کہ وہ بچپن میں منصور نگر کے قلعے میں رہتے تھے۔ــ‘‘ فرخ کی خوشی دیکھنے والی تھی۔
    ’’ نہیں، ابو تو شیش محل میں رہتے تھے۔ قلعے میں تو وہ بہت پہلے رہتے تھے۔ جب ابو کے دادا نے شیش محل بنوایا تو یہ لوگ وہیں رہنے لگے ۔‘‘
    ’’آپ نے شیش محل دیکھا ہے؟ ‘‘
    سائرہ نے کہا ۔’’نہیں! میں کیسے دیکھ سکتی تھی۔ ابو شادی کے بعد کبھی بھی منصورنگر نہیں گئے ۔‘‘
    ’’ کیوں کیا انہیں منصور نگر پسند نہیں تھا؟‘‘ فرخ نے پوچھا۔
    ’’کیوں نہیں، انہیں اپنے گھر سے بہت محبت تھی۔ مگر دادا جان ان سے ناراض تھے کیوں کہ انہوں نے ان کی مرضی کے خلاف شادی کر لی تھی۔ انہوں نے امی کو منصور نگر آنے سے منع کر دیا تھا اسی وجہ سے ابو پھر کبھی واپس اپنے گھر نہیں گئے۔‘‘سائرہ نے بتایا۔
    ’’ اور دادا جان نے بھی کبھی انہیں نہیں بلایا ؟‘‘ فرخ کو افسوس ہوا۔
    ’’ نہیں، حالانکہ ابو ان کے اکیلے بیٹے ہیں اور ان کی ساری جائیداد کے وارث بھی وہی ہیں ۔‘‘سائرہ نے کیا۔
    ’’ کیا دادا جان بہت امیر ہیں ؟‘‘ فرخ نے پوچھا۔
    ’’ ہاں، ان کے پاس بہت ساری زمینیں ہیں۔ لوگ تو ان کو کنور صاحب کہتے ہیں۔ ابو نے منصور نگر کے بارے میں مجھے بہت سی باتیں بتائی ہیں۔ کتناز بر دست محل تھا ،بے شمار نوکر چاکر تھے ،بہت سے گھوڑے تھے، ایک ہاتھی بھی تھا۔ اتنی شان دار زندگی گزارتے تھے وہ۔‘‘سائرہ نے کہا۔
    ’’مگر پھر وہ ابو سے کیوں ناراض ہو گئے؟ کیا وہ امی کو پسند نہیں کرتے تھے؟ میرے خیال میں تو امی دنیا میں سب سے اچھی ہیں۔ ‘‘
    ’’ نہیں، یہ بات نہیں۔ امی‘ ابو کے خاندان کی نہیں ہیں۔ ابو اس خاندان سے ہیں جو صدیوں سے اس علاقے پر حکمرانی کرتارہا ہے۔ دادا جان کو اپنے نسب پر بڑا فخرہے۔ گوامی کا تعلق ایک بڑے عزت دار علمی گھرانے سے ہے، لیکن دادا جان چاہتے تھے کہ ابو کی شادی ان کے خاندان میں ہو۔ــ‘‘
    ’’ تو کیا ہوا؟‘‘ فرخ نے کہا۔ ’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟‘‘
    ’’ صدیوں سے ہمارے خاندان کے لوگ دوسرے خاندان میں شادی نہیں کرتے تھے۔ جب دادا جان کو پتہ چلا کہ ابو غیر خاندان میں شادی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بہت خفا ہوئے۔ مگر پھر ابو نے چھپ کر امی سے شادی کر لی۔ اور اس کے بعد سے دادا جان ابو سے کبھی نہیں ملے۔ نہ ابوان سے ملنے گئے اور نہ انہوں نے ابو کو بلایا۔ اور اب دادا جان کی طبیعت بہت خراب ہے ایسا لگتا ہے کہ ان کا آخری وقت آگیا ہے۔ اسی لئے انہوں نے ابو کو خط لکھا کہ وہ ان کے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں ان کے پاس بھیج دیں۔ انہوں نے اب بھی امی اور ابو کو نہیں بلایا۔ اسی وجہ سے ہم اکیلے جارہے ہیں ۔ــ‘‘ سائرہ نے فرخ سے کہا۔
    ــ’’ خدا کرے اسٹیشن پر کوئی ہمیں لینے آئے ۔‘‘ سائرہ نے پرویز سے کہا۔
    ’’ اور اگر کوئی لینے نہ آیا تو ہم خود ہی شیش محل چلے جائیں گے اور وہ لوگ ہمیں دیکھ کر حیران ہو جائیں گے۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’ہر گز نہیں! امی نے کہا تھا کہ شیش محل، منصور نگر کے اسٹیشن سے کافی دور ہے ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔
    ’’ کنور صاحب کی پوتی کو یقینا پیدل نہیں چلنا چاہئے۔ ان کے لئے شاہی بگھی آنی چاہئے ۔ ‘‘پرویز نے مذاق اڑایا۔
    ’’ہاں ہاں تم پیدل چلے جانا۔ ہم تو گاڑی پر ہی جائیں گے ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔
    ٭٭٭٭٭
    (2)
    پانچ گھنٹے اسی طرح باتوں میں گزر گئے۔ پھر منصور نگر آگیا اور گاڑی رک گئی۔ یہ چھوٹا سا اسٹیشن تھا۔ پرویز نے سوٹ کیس اٹھایا، سائرہ نے اپنا بیگ ہاتھ میں لیا۔ فرخ کے ہاتھ میں بھی ایک بیگ تھا اور تینوں ڈبے سے باہر آگئے۔ شام ہو چلی تھی، چراغ جل گئے تھے، انہوں نے ادھر ادھر دیکھا، کوئی ایسا نظر نہ آیا جوانہیں لینے آیا ہو۔
    ’’ چلو اسٹیشن سے باہر چلتے ہیں ۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ابھی یہ باہر نکلے ہی تھے کہ ایک جیپ تیزی سے چلتی ہوئی ان کے قریب آکر رکی اور ایک نوجوان لڑکا نیچے اترا۔
    ’’میں راشد ہوں، تمہارا چچا زاد بھائی۔ تمہارے پر دادا اور میرے پر دادا سگے بھائی تھے، میں تمہیں لینے آیا ہوں۔‘‘ اس نے ان تینوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
    ’’دادا جان کیسے ہیں ؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
    ’’ان کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔‘‘ راشد نے جواب دیا۔
    پھر وہ تینوں جیپ میں بیٹھ گئے۔ راشد ان کو لے کر شیش محل روانہ ہو گیا۔ جیپ ہچکولے کھاتی کچی سڑک پر جارہی تھی کہ سامنے ایک قلعہ نظر آیا۔
    ’’کتنا بڑا قلعہ ہے؟ یہاں کون رہتا ہے ــ۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’ ہم رہتے ہیں۔‘‘ راشد نے کہا۔ تینوں حیرت سے اس کا منہ دیکھنے لگے۔
    ’’ہاں، ہم لوگ اس قلعے میں رہتے ہیں ۔ بڑے ابا بھی پہلے یہیں رہتے تھے، پھر وہ اپنے نئے محل میں چلے گئے۔ ہمارے دادا جان یہیں رہتے رہے، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو ہم بھی یہیں رہے۔‘‘
    ’’ قلعے میں رہنا بڑا عجیب سا لگتا ہے۔ میں تو کبھی نہیں رہ سکتا ۔‘‘ فرخ بولا۔
    . ’’میں بھی نہیں رہ سکتی ۔‘‘ سائرہ بولی۔
    ’’لیکن مجھے تو قلعہ بہت اچھا لگتا ہے۔ کیا میں اسے اندر سے دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’کیوں نہیں۔ ایک طرح سے تو یہ تمہارا بھی گھر ہے، لیکن ابھی نہیں۔ بڑے ابا تمہارا انتظار کر رہے ہیں پہلے ان سے مل لو۔‘‘
    ’’ تم وہ سوراخ دیکھ رہے ہو؟ ‘‘ راشد نے قلعہ کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کے بڑے سے لکڑی کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’ہاں، یہ کیا ہے؟ ‘‘ پرویز نے پوچھا۔
    ’’یہ گولیوں کے نشانات ہیں جو 57ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی فوج نے اس قلعے پر چلائی تھیں ۔‘‘
    ’’اچھاـ، کیوں؟ ‘‘
    ’’ ہمارے خاندان کے لوگ بھی آزادی کی جنگ میں انگریزوں سے لڑرہے تھے۔ بعد میں اس کی سزا بھی ہمارے خاندان کو بھگتنا پڑی۔ ہماری ریاست ختم کر دی ۔‘‘
    کچھ ہی دیر کے بعد جیپ ایک بڑے سے لوہے کے گیٹ کے آگے رک گئی۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا اور جیپ بجری سے بنے رستے پر اندر داخل ہو گئی۔ شیش محل نئے طرز کی عمارت تھی، جس میں پرانی طرز کی محرابیں اور در یچے تھے۔ یہ بہت خوبصورت عمارت تھی اور اتنا ہی خوبصورت باغ تھا، جس کے درمیان میں ایک فوارہ لگا تھا۔ سب لوگ جیپ سے اتر کر دروازے تک پہنچے۔ ایک بوڑھے سے آدمی نے دروازہ کھولا۔ یہ کنور صاحب کا پرانا خدمت گار فیاض تھا۔ ان لوگوں کو دیکھتے ہی اس نے آواز دی۔ ’’چھٹن، بچے آگئے ،ان کا سامان اندر لے جاؤ ۔‘‘ یہ آواز سن کر ایک نو کر باہر آیا۔ اور اس نے پرویز کے ہاتھ سے سوٹ کیس اور سائرہ کے ہاتھ سے بیگ لے لیا۔ اور یہ لوگ اندر ایک بڑے کمرے میں داخل ہوئے۔ یہ کمرہ کافی بڑا تھا۔ کم از کم ان تینوں نے تو اتنا بڑا کمرہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔
    ’’اللہ کتنا بڑا کمرا ہے ۔‘‘ فرخ نے آہستہ سے کہا۔ کمرے میں دیواروں پر بارہ سنگھے اور شیر کے سر ،مختلف قسم کی ٹرافیاں اور تلواریں لٹکی ہوئی تھیں اور فرش پر ایک بڑا سا قالین بچھا تھا۔ بچوں کو یہ سب چیزیں دیکھ کر بہت ہی تعجب ہوا۔ سائرہ کو اس طرح جانوروں کے سر دیواروں پر لٹکے ہوئے بالکل اچھے نہیں لگے ۔اسے ان سے خوف سا آرہا تھا۔ یہ سب لوگ کمرے میں پڑے ہوئے ایک آرام دہ صوفے پر بیٹھ گئے۔
    ٭٭٭٭٭
    (3)
    ’’آپ لوگ آگئے ؟‘‘ ایک لمبا سا آدمی کمرے میں داخل ہوا۔ ’’میں ڈاکٹر امجد ہوں۔ آپ لوگوں کا سفر کیسا گزرا؟‘‘
    ’’السلا م علیکم ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔ ’’میں سائرہ ہوں اور یہ میرے بھائی ہیں پرویز اورفرخ۔‘‘
    ’’دادا جان کا کیا حال ہے ؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
    ’’وہ خاصے بیمار ہیں۔ بہت دیر سے تمہارا انتظار کر رہے تھے، اب سو گئے ہیں۔ میں نے انہیں نیند کی دوا دی ہے ۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے جواب دیا۔
    ’’تو ہم آج ان سے نہیں مل سکیں گے؟ ‘‘سائرہ نے کہا۔ اسے یہ آدمی کچھ اچھا نہیں لگا۔
    ’’ان کو جگانا ٹھیک نہیں۔ کل صبح ہی آپ ان سے ملیں ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔
    ــ ’’اچھا پرویز میں اب چلتا ہوں ،کل پھر آؤں گا۔ــ‘‘ راشد نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
    ’’اچھا خداحافظ ۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ ’’ صابرہ کہاں ہے! اس سے کہو کہ کھانا لگائے ۔‘‘ فیاض نے صابرہ کو آواز دی اور تھوڑی دیر میں ایک چودہ پندرہ برس کی لڑکی کمرے میں آئی۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں بہت ساری چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں اور گلے میں کالے مصنوعی موتیوں کی مالا تھی۔
    ’’سلام صاحب جی ، سلام بی بی جی۔‘‘ صابر ہ نے ان لوگوں کو سلام کیا۔
    ’’ صابرہ، چھٹن کی بیٹی ہے ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے بتایا۔ پھر صابرہ سے بولے۔ ’’ ان کو ان کے کمروں میں لے جاؤ۔ اور پھر کھانا لگاؤ۔ یہ سفر کر کے آئے ہیں۔ انہیں آرام کرنا چاہئے ۔‘‘
    ’’اچھا جی۔ ‘‘ صابرہ ان کو لے کر کمروں کی طرف چل دی۔ پرویز اور فرخ کے لئے ایک کمرہ تھا اور دوسرا کمرا سائرہ کے لئے۔ صابرہ منہ دھونے کے لئے گرم پانی لے آئی۔ ہاتھ منہ دھونے کے بعد سائرہ نے بسترپر بیٹھتے ہوئے صابرہ سے پوچھا۔
    ’’ تم یہاں رہتی ہو ؟‘‘
    ’’ نہیں جی! اباجی اور اماں یہاں رہتے ہیں ۔‘‘
    ’’ تم کہاں رہتی ہو۔ کیا ان کے ساتھ نہیں رہتیں؟‘‘ سائزہ نے تعجب سے پوچھا۔
    ’’ نہیں جی ۔ میں اپنے گھر رہتی ہوں ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔
    ’’اپنے گھر! کیا تمہاری شادی ہو گئی ہے؟‘‘
    ’’ہاں جی ایک سال ہو گیا ۔‘‘
    ’’اچھا بڑی جلدی تمہاری شادی ہو گئی۔‘‘
    ’’ہاں جی ۔‘‘صابرہ نے شرماتے ہوئے کہا۔
    اتنے میں چھٹن نے آکر اطلاع دی کہ کھانا میز پر لگ گیا ہے۔ اور صابرہ انہیں کھانے کے کمرے میں لے آئی۔ کھانے کی خوشبو نے سائرہ کو احساس دلایا کہ وہ بھی بہت بھوکی ہے۔ کھانا بہت مزے کا تھا اور سبھی نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ کھانا کھا کر یہ لوگ اپنے کمروں میں آکر سو گئے۔
    ٭٭٭٭٭
    (4)
    چڑیوں کے چہچہانے سے فرخ کی آنکھ کھل گئی۔ آج امی نے آواز نہیں دی ،اس نے سوچا ،ارے اسے جلد ہی یاد آگیا، وہ تو دادا جان کے محل میں ہے۔
    ــ’’کون اٹھا؟‘‘ سائرہ نے برابر والے کمرے سے آواز دی۔
    ’’ میں۔ ‘‘ پرویز نے کہا ۔’’میں تو نماز کے لئے ہمیشہ ہی پہلے ،اٹھتا ہوں ۔‘‘
    ’’جی نہیں، میں‘‘۔ فرخ نے کہا۔
    ’’اچھا یہ تو غیر معمولی بات ہے۔ تم خود کہاں اٹھتے ہو تمہیں تو اٹھایا جاتا ہے ـ۔‘‘
    وہ منہ دھو کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ صابرہ آگئی۔ اس نے بتایا کہ ناشتہ تیار ہے۔ یہ تینوں کھانے کے کمرے میں آئے۔ ڈاکٹر صاحب ناشتہ کر چکے تھے، اور اٹھنے ہی والے تھے۔ وہ کنور صاحب کے علاج اور دیکھ بھال کے لئے مستقل شیش محل میں ہی رہتے تھے۔
    ’’تمہارے دادا جان اٹھ گئے ہیں، تم ناشتہ کر تو ان کے پاس چلو ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب ان کو دیکھ کر بولے۔ تینوں بچوں کو اپنے دادا سے ملنے کا بڑا شوق تھا، انہوں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دادا جان کے کمرے کی طرف چل دئیے۔ یہ ایک خوبصورت سجا سجا یا کمرا تھا۔ اس میں ایک بڑی سی مسہری بچھی تھی جس پر کنور صاحب آنکھیں بند کئے لیٹے تھے۔ ایک طرف صوفہ سیٹ رکھا تھا۔ فرش پر عمدہ قالین بچھا تھا۔
    ’’ کنور صاحب بچے آگئے ہیں۔ ‘‘ ڈاکٹر امجد نے مسہری کے قریب جا کر کہا۔
    ’’ انہیں میرے پاس لاؤ ۔‘‘ دادا جان نے کمزورسی آواز میں کہا۔
    تینوں دادا جان کے قریب آگئے۔ دادا جان بہت بوڑھے اور کمزور تھے۔ ان کے سر اور مونچھوں کے سارے بال سفید تھے ۔چہرے پر ایک وقار تھا۔ پرویز دادا جان کے قریب گیااورا دب سے انہیں سلام کیا۔
    ’’ تم کون ہو؟ ‘‘انہوں نے نظریں اٹھا کر نقاہت سے پوچھا۔
    ’’ میں پرویز ہوں دادا جان۔ ‘‘
    دادا جان نے غور سے پرویز کو دیکھا ۔ــ’’ اچھا تم پر ویز ہو۔ تم سب سے بڑے ہو ۔‘‘
    ــ ’’جی نہیں! سائرہ باجی مجھ سے بڑی ہیں ۔‘‘ پرویز نے سائرہ کو آگے کرتے ہوئے کہا ۔’’اور یہ فرخ ہے۔ َ‘‘
    ــ’’تم سب سے چھوٹے ہو؟ ‘‘
    ’’جی! ‘‘ فرخ نے جواب دیا۔
    دادا جان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ’’میرے قریب آؤ۔ ‘‘انہوں نے فرخ کو اشارہ کیا۔’’ آؤ تم بھی قریب آجاؤ۔‘‘ انہوں نے پرویز اور سائرہ سے کہا۔ تینوں قریب آگئے تو کنور صاحب پرویز سے بولے ۔’’میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘ ان کی آواز بہت ہلکی تھی، مشکل سے سمجھ میں آرہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو اور نوکر کو کمرے سے چلے جانے کا اشارہ کیا ۔جب وہ چلے گئے تو انہوں نے پرویز سے کہنا شروع کیا۔ ’’دیکھو بیٹے… سرخ کمرے میں …مخمل کا ہر ابکس… خاندانی ورثہ …خفیہ …کسی کو معلوم نہ ہو… تم لے جا نا…اپنے باپ کو دے دینا…میں شاید اب نہ جیوں۔‘‘ وہ بہت مشکل سے بول رہے تھے اور اتنے آہستہ کہ یہ چند الفاظ ہی پرویز کی سمجھ میں آسکے ۔اتنا بولنے سے ہی وہ تھک گئے اور تکیہ پر گر گئے۔ انہوں نے آنکھیں بند کرلیں۔ فرخ نے گھبرا کر انہیں دیکھا۔ ’’ارے دادا جان کو کیا ہوا؟ ‘‘وہ بولا۔ پرویز بھی گھبرا گیا اور کمرے سے باہر نکل کر اس نے ڈاکٹر صاحب کو آواز دی۔ــ’’ ڈاکٹر صاحب! ڈاکٹر صاحب! جلدی آئیے، شاید دادا جان بے ہوش ہو گئے۔ ‘‘سب لوگ ایک دم کمرے میں آگئے۔
    ’’کیا ہوا ؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا۔
    ’’یہ ہم سے باتیں کر رہے تھے کہ ایک دم سے خاموش ہو گئے ، شاید بے ہوش ہو گئے۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’ انہوں نے کیا کہا تھا ؟ ‘‘ڈاکٹر نے پوچھا۔
    پرویز نے کہا۔ ’’کچھ بھی نہیں بس یہ کہ وہ ہم سے مل کر بہت خوش ہوئے ہیں اور بس ایسی ہی باتیں کر رہے تھے۔‘‘
    ڈاکٹر امجد نے جھک کر کنور صاحب کا معائنہ کیا۔ وہ ٹھیک تھے۔ نقاہت اور کمزوری اور کچھ جذبات نے انہیں چپ کر دیا تھا۔ ’’ آپ لوگ اب جائیں اور کنور صاحب کو آرام کرنے دیں۔ یہ ٹھیک ہیں۔ کمزوری ہے۔ ‘‘ڈاکٹر نے پرویز سے کہا۔
    کمرے سے باہر آکر سائرہ نے کہا۔ ’’مجھے تو بتاؤ پرویز! دادا جان نے کیا کہا تھا۔‘‘
    ’’شش! شش! باہر چلو وہاں بتاؤں گا۔‘‘ پرویز نے آہستہ سے کہا۔
    باغ میں جا کر یہ تینوں ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ پرویز نے بتایا کہ دا دا جان پوری طرح تو کچھ نہیں کہہ سکے مگر میں یہ سمجھا ہوں کہ قلعہ میں ایک سرخ کمرا ہے، اس میں ایک ہرابکس ہے جس میں خاندانی زیورات ہیں ،یہ ابو کے ہیں، ہمیں یہ زیورات وہاں سے نکال لینے ہیں۔‘‘
    ’’ مگر یہ چھپے کہاں ہیں۔‘‘ سائرہ نے بے تابی سے پوچھا۔
    ــ ’’ مجھے علم نہیں ہیں۔‘‘پرویز نے بتایا۔
    ’’ چلو پہلے سرخ کمرے کو ڈھونڈتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہرا بکس اسی کمرے میں ہو ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔
    ’’۔ٹھیک ہے چلو ۔‘‘یہ لوگ بینچ سے اٹھے ہی تھے کہ سامنے سے راشد آتا دکھائی دیا۔’’ہیلو کیا ہو رہا ہے ۔‘‘
    ’’ راشد بھائی۔ ہم لوگ خزانے کی تلاش میں جارہے ہیں خزانہ یہیں ہے، کیا آپ چلیں گے ؟‘‘ فرخ نے جوش میں آکر کہا۔
    ــ’’کیسا خزانہ ؟‘‘ اسی وقت جھاڑی کے پیچھے سے سائرہ نے انگلی ہونٹ پر رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
    ’’کچھ نہیں بھائی۔ میں تو مذاق کر رہا تھا۔‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ سائرہ اور پرویز بھی ہنسنے لگے مگر راشد بالکل خاموش رہا۔ وہ حیرانی سے ان تینوں کو دیکھتا رہا۔
    ’’فرخ تمہیں یہ سب کچھ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ ‘‘کمرے میں آکر پرویز نے ڈانٹا۔ ’’خبردار جو تم نے آئندہ ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالا۔‘‘
    ’’معاف کر دیں بھیا! اب خاموش رہوں گا۔‘‘ فرخ نے کہا۔
    دوپہر کے کھانے کے بعد پرویز نے سوچا کہ صابرہ سے سرخ کمرے کے بارے میں پوچھے۔
    ’’ کیا شیش محل بہت بڑا ہے؟ ‘‘ اس نے صابرہ ہے پوچھا۔
    ’’ہاں جی!‘‘ فیاض نے جواب دیا ۔’’ اب تو جی یہاں کچھ نہیں رہا۔ پہلے آپ اس کی شان دیکھتے۔ جب بیگم صاحب زندہ تھیں۔ ہر روز شام کو خوشبوئیں چھڑ کی جاتیں۔ گلدانوں میں گلاب لگتے۔ بڑے بڑے لوگوں کی دعوتیں ہوتیں۔ لاٹ صاحب تک محل میں آئے ہیں۔ کیا زمانہ تھا۔ ‘‘
    ’’پھر یہ سب کیسے ختم ہو گیا ؟‘‘
    ’’ بس جی، بیگم صاحب اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ چھوٹے کنور صاحب نے اپنی مرضی سے شادی کر لی، وہ بھی محل سے چلے گئے۔ بس میں ہی رہ گیا ہوں۔ میں ان کو چھوڑ کر کہاں جاؤں ؟‘‘
    ’’میرا دل چاہتا ہے کہ سارا محل دیکھوں ۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’ہاں صاحب۔ جاؤ صابرہ بیٹا کو بھی محل دکھا لاؤ۔ یہ سب تمہارا ہی تو ہے ۔‘‘ فیاض نے کہا۔
    ’’چلو سائرہ اور فرخ تم بھی چلو… تمہیں بھی محل دیکھ کے بڑی خوشی ہوگی ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔
    صابرہ نے سب سے پہلے ایک بڑا ہال دکھایا۔ یہ خاصا بڑا ہال تھا، جس کے چاروں طرف کمرے تھے ۔فرش پر قیمتی قالین بچھے تھے۔ دیواروں پر بڑی بڑی تصویریں لگی تھیں۔ باہر گیلری میں بہت خوبصورت تصویر یں تھیں۔ اس سے آگے ایک کمرہ تھا جس میں الماریاں تھیں جن میں بے شمار کتابیں، ڈائریاں وغیرہ تھیں۔ یہ دادا جان کی لائبریری تھی۔ تین چار بڑے بڑے کمرے اور تھے۔ ایک گیلری کے سرے پر چکر کھاتی سیڑھیاں تھیں۔ ’’اوپر کیا ہے ؟ ‘‘فرخ نے پوچھا۔
    ’’بہت سے کمرے ہیں۔ جن میں ایک کمرہ ہے جس کی دیواروں اور چھت پر بہت سارے شیشے لگے ہوئے ہیں۔ دادا جان او پر اس کمرے میں اکثر بیٹھ کر چائے وغیرہ پیتے تھے۔ اس کمرے کی بالکونی سے پورا منصور نگر نظر آتا ہے۔ انہیں یہ کمرہ بہت پسند تھا۔ شام کو اکثروہ یہاں آجاتے تھے اور رات تک یہیں رہتے ۔‘‘ اوپر جا کر تینوں بہت حیران ہوئے۔ اوپر والی منزل بھی خاصی بڑی تھی اور اس میں بھی کافی کمرے تھے۔ یہ لوگ دادا جان کے اس کمرے میں گئے۔ جس کے بارے میں صابرہ نے بتایا تھا۔ کمرے میں جا کر یہ تینوں حیران رہ گئے۔ کمرے کی چھت سرخ تھی۔ فرش پر گہرا سرخ قالین بجھا تھا۔ دروازوں کھڑکیوں پر سرخ پھولوں کے پردے پڑے تھے۔ صوفہ سیٹ پر بھی سرخ کشن تھے۔ دو بڑی بڑی الماریاں دیوار کے ساتھ رکھی تھیں جن میں کتابیں بھری تھیں۔ یقینا یہی ’’ سرخ کمرہ ‘‘تھا۔
    ٭٭٭٭٭
    (5)
    ’’تو یہ ہے وہ کمرہ! جس کا دادا جان نے ذکر کیا تھا۔ کتنا شاندار کمرہ ہے اور کتنی ساری کتابیں ہیں ۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’واقعی بہت شاندار کمرہ ہے ۔‘‘ سائرہ نے تعریف کی۔
    ’’بھئی میں تو یہ کتابیں ضرور پڑھوں گا۔ فرخ تم کھیلو گے یا ہمارے ساتھ یہ کتابیں دیکھو گے ؟ــ‘‘پرویز نے پوچھا۔
    ’’ چھوڑیں بھیـ، ایسی موٹی موٹی کتابیں کون دیکھے۔ میں تو باغ میں جا رہا ہوں۔ آؤ صابرہ تم بھی چلو ۔‘‘
    ان کے جانے کے بعد پرویز نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ اب ہم آرام سے ہراڈبہ ڈھونڈ سکیں گے۔ سائرہ تم اس الماری میں ڈھونڈو۔ میں سامنے والی میز د یکھتا ہوں دونوں بڑے انہماک سے ڈبہ ڈھونڈنے لگے۔
    ــ ’’تو بہ ہے کتنی مٹی ہے ۔‘‘ سائرہ نے الماری سے کتابیں نکالتے ہوئے کہا۔
    میز کی درازوں کو ڈھونڈنے کے بعد پرویز دوسری الماری کی طرف آیا۔’’ اف واہ! کس قدر زبر دست کتابیں ہیں ۔‘‘اس نے کتابیں نکالتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھو سائرہ! تاریخ کی یہ کتنی زبر دست کتاب ہے۔ ‘‘اور اس نے صفحے پلٹ کر ادھر ادھر سے پڑھنا شروع کر دیا۔
    ’’ پرویز یہ کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ جلدی سے ڈبہ ڈھونڈو کوئی آنہ جائے …کوئی آرہا ہے… ‘‘ سیڑھیوں پر کسی کے قدموں کی آہٹ ہوئی۔ ’’چلو صوفے کے پیچھے چھپ جاتے ہیں ۔‘‘وہ دونوں جلدی سے صوفے کے پیچھے چھپ گئے۔ کوئی کمرے میں آیا ادھر ادھر جائزہ لیا اور چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد دونوں چپکے چپکے صوفے کے پیچھے سے نکلے۔ اور دروازے کی جھری سے جھانک کر دیکھا اب وہاں کوئی نہ تھا۔ دونوں نے پھر ہرے بکس کی تلاش شرع کر دی۔ خاصی دیر ڈھونڈنے کے بعد پرویز نے عام معلومات کی ایک بہت موٹی سی کتاب الماری سے نکالی ۔’’ارے…یہ رہا!! ‘‘ اس نے جلدی سے الماری کے اندر کتابوں کے پیچھے والی جگہ پر ہاتھ ڈالا۔ ہرے بکس کا کو نا خالی جگہ سے نظر آرہا تھا۔ ہاتھ بڑھا کر پرویز نے ڈبہ نکال لیا۔دونوں نے گھبراہٹ کے عالم میں اسے کھولا۔ اس کے اندر ایک تہ کیا ہوا کاغذ تھا اور ایک لفافہ تھا جس پر مہر لگی ہوئی تھی۔
    ٭٭٭٭٭
    (6)
    لفافہ اور کاغذ لے کر یہ دونوں اپنے کمرے میں آئے۔ پرویز کو خط پڑھنے کی جلدی تھی۔
    ’’میں اندر آجائوں۔ ‘‘فرخ اب کھیل کر واپس آچکا تھا۔
    ’’ہاں!مگر جو کچھ بھی دیکھو اور سنوا سے کسی سے مت کہنا۔ پکی بات۔ ‘‘سائرہ نے کہا۔
    ’’سائرہ باجی وعدہ۔ کسی سے نہیں کہوں گا۔‘‘ فرخ نے کہا۔
    پرویز نے خط کھولا۔ یہ اس کے باپ کے نام لکھا تھا۔
    ’’ پیارے بیٹے۔ ہو سکتا ہے جب یہ خط تمہیں ملے ،میں اس دنیا میں نہ ہوں۔ میں بہت کمزور اور بوڑھا ہوں، نہ معلوم کب مرجاؤں ۔میں ساری زندگی اپنے بیٹے کا انتظار کرتا رہا۔ مگر شاید خدا کو یہ منظور نہ تھا کہ تم ہم سے ملو۔ تمہاری ایک امانت میرے پاس ہے، یہ ہمارے خاندانی جواہرات ہیں اور تمہاری ماں کے زیورات جو انہوں نے تمہاری دلہن کو دینے کے لئے رکھے تھے۔ یہ جواہر اور زیور ایک ڈبے میں بند ہیں جو میں نے قلعے کے عروسی کمرے میں چھپا دیئے ہیں تاکہ محفوظ رہیں۔ تم ڈھونڈو گے تو مل جائیں گے ۔اس لفافے میں ڈبے کی کنجی ہے۔ بہت احتیاط سے کام لینا کیوں کہ دوسرے لوگ بھی ان جواہرات کی تلاش میں ہیں۔ خدا تمہارا مدد گار ہو۔‘‘
    تمہارا ابا جانی۔
    ’’بیچارے داداجان ۔ ‘‘سائرہ نے کہا۔
    ’’بھائی کیا آپ یہ ڈباڈھونڈلیں گے؟با با جان تو ہیں نہیں ۔‘‘ فرخ نے کہا۔
    ’’ہاں کیوں نہیں۔ دادا جان مجھ سے یہی کہ رہے تھے۔ ہم کوشش تو ضرورکریں گے۔‘‘ پرویز نے کیا۔
    ’’کیسا عجیب سالگ رہا ہے، بالکل کہانیوں جیسا ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔
    ’’ ہم لوگوں کو کل ہی قلعے جانا چاہئے ۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’اور ابو امی اس خزانے کو پا کر کتنے خوش ہوں گے۔ خاص طور پر جب ان کو پتہ چلے گا کہ یہ ہم نے خود ڈھونڈاہے۔ ‘‘ سائرہ نے خوش ہو کر کہا۔
    ’’ ہمیں ان جواہرات کو جلد نکال لینا چاہئے۔ دیکھا نہیں دادا جان نے لکھا ہے کچھ اور لوگ بھی ان کی تلاش میں ہیں ۔‘‘
    ’’کون ہو سکتا ہے؟ ‘‘
    ’’ شاید راشد بھائی ہوں۔ ‘‘ سائرہ نے کہا۔
    ’’ نہیں وہ نہیں ہو سکتے۔ وہ تو بہت اچھے آدمی ہیں ۔‘‘ فرخ نے کہا۔
    ’’پھر شاید فیاض ہو ۔‘‘ سائرہ نے خیال ظاہر کیا۔
    ’’ وہ بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ تو دادا جان کا پرانا نوکر ہے اور وفادار بھی، تبھی تو دادا جان کو چھوڑ کر بھی نہیں گیا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’ پھر کون ہو سکتا ہے۔‘‘ سائرہ نے کہا۔
    ’’ میرا خیال ہے ہمیں قلعے کے عروسی کمرے کو دیکھنا چاہئے ۔‘‘
    ’’ہاں کل ہی قلعے چلیں گے ۔‘‘ اتنے میں چھٹن نے آکر کھانا لگنے کی اطلاع دی اور یہ تینوں کھانے کے کمرے میں چلے گئے۔
    اگلے روز یہ لوگ صابرہ کے ساتھ قلعے گئے۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا۔ قلعے کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا باغ تھا۔ د ا ہنی طرف والا حصہ ایک بھائی کے پاس تھا اور بائیں طرف والا دوسرے بھائی کے پاس۔ دائیں ہاتھ والے حصے کی طرف صابرہ نے اشارہ کیا۔’’ ادھر کنور صاحب رہتے تھے۔ اور دوسری طرف راشد بھائی کا خاندان رہتا ہے۔‘‘
    ابھی وہ اندر آئے ہی تھے کہ راشد آگیا۔ اس نے ان سب کو اپنے دادا جان ،دادی جان، امی ابو اور باجی سے ملوایا۔ راشد کی امی نے بڑے پیار سے ان لوگوں کو چائے پلوائی۔ اس کے ساتھ سموسے ، رس ملائی ،رس گلے اور نمک پارے کھلائے۔ چائے سے فارغ ہو کر وہ سب بڑے کمرے میں آگئے۔ راشد کی دادی نے بچوں کو قلعے کی پوری تاریخ سنائی۔ وہ کہنے لگیں۔ ’’بیٹے وہ بھی کیا دن تھے۔ جب تمہارے دادا کی شادی ہوئی تھی۔ بہت شاندار دعوت ہوئی۔ سارا قلعہ تیل کے چراغوں اور مومی شمعوں کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ شہنائی بج رہی تھی، بارات بھی کیا شان دار تھی۔ تمہارے دادا دولہا بنے ایک سجے سجائے ہاتھی پر بیٹھے آئے تھے۔ ان کے ساتھ بے شمار لوگ گھوڑوں اور پالکیوں پر سوار تھے۔ مہینوں پہلے سے مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔ عام دعوت تھی۔ تمہیں کیا بتا ئیں کہ تمہارے دادا کی کیا شان تھی؟ ‘‘
    ’’اللہ کتنا اچھا لگ رہا ہو گا؟ کتنا مزا آیا ہو گا۔ ‘‘ سائرہ نے کہا۔
    تینوں بچے حیرت سے یہ باتیں سن رہے تھے۔
    ’’ پھر بیٹے ۔ ‘‘راشد کی دادی نے کہا۔ ’’تمہارے ابو پیدا ہوئے۔ تمہارے دادا کی خواہش تھی ،ان کی شادی بھی اسی شان و شوکت سے ہو۔ پھر اچانک تمہاری دادی کا انتقال ہو گیا اور پھر یہاں کی خوشیاں غم میں بدل گئیں۔ تمہارے ابو باہر پڑھنے چلے گئے پھر کنور صاحب کی مرضی کے خلاف غیر خاندان میں شادی کرلی۔ کنور صاحب اس قدر غصے ہوئے کہ انہوں نے ساری عمر اپنے بیٹے سے نہ ملنے کا عہد کر لیا ۔‘‘
    ’’ تو کیا ہوا۔ ابو نے اگر شادی کر لی تھی تو دادا جان کو اس قدر ناراض ہونے کی کیا ضرورت تھی؟ ‘‘پرویز نے کچھ ناگواری سے کہا۔
    ’’پرویز! ‘‘ سائرہ نے بھائی کو ٹو کا۔ پرویز خاموش ہو گیا۔ پھر راشد نے پرویز سے سے کہا ’’آؤ تمہیں قلعے کی سیر کرائیں۔ ‘‘
    ’’ چلئے ۔‘‘ پرویز اٹھ کھڑا ہوا۔
    سائرہ اور فرخ بھی اٹھ گئے۔ قلعے کا وہ حصہ جس میں پرویز کے دادا جان رہتے تھے۔ اب ویران پڑا تھا۔ لوہے کے دروازوں پر زنگ لگا تھا۔ جگہ جگہ مکڑیوں کے جالے تھے ۔یہاں چھوٹے بڑے کافی کمرے تھے، جن میں سامان بھی تھا۔ مگر لگتا تھا جیسے برسوں سے صفائی نہیں ہوئی ہو۔ گھومتے پھرتے یہ لوگ اس کمرے میں آگئے جسے عروسی کمرا کہا جاتا تھا۔ ’’یہاں دادا جان کی دلہن بیاہ کر آئی تھیں۔ ‘‘ راشد نے بتایا کہ یہ ہماری خاندانی روایت ہے کہ شادی کے بعد دولہا دولہن اس کمرے میں رہتے تھے جب شادی کی تقریبات ختم ہو جاتی تھیں تو یہ نیچے قلعے میں اپنے کمرے میں آجاتے تھے۔
    ’’ اچھا۔‘‘ پرویز نے سوچا تو یہ وہ کمرہ تھا جس کی طرف دادا جان نے اشارہ کیا تھا۔ کچھ دیر اور یہ لوگ قلعے کی سیر کرتے رہے پھر اپنے محل میں واپس آگئے۔ رات کو گرمی تھی۔ مچھر بھی تھے۔ صابرہ ،سائرہ کے کمرے میں زمین پر چٹائی بچھائے منہ تک چادر تانے لیٹی تھی تاکہ اسے مچھر نہ ستائیں۔ سائرہ اپنے بستر پر لیٹی ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔
    ’’سائرہ باجی کیا آپ پڑھ رہی ہیں ؟‘‘ صابر ہ نے پر چھا۔
    ’’ہاں‘‘
    ’’آپ کو سب کچھ پڑھنا آتا ہے ۔‘‘
    ‘‘ہاں ۔ کیوں نہیں، میں تو کالج میں پڑھتی ہوں ۔‘‘ سائرہ نے کہا۔
    ’’ کیا آپ مجھے پڑھنا سکھا دیں گی۔‘‘ صابرہ نے کہا۔
    ’’ہاں ضرور ۔ تمہیں شوق ہے پڑھنے کا ؟‘‘
    ’’ ہاں جی! بہت ۔‘‘
    ’’اچھا تو میں تمہیں پڑھاؤں گی۔‘‘ سائرہ نے کہا۔
    صابرہ جلدی سے اٹھ کر سائرہ کے بستر پر آگئی۔ ’’ سچ سائرہ باجی آپ مجھے پڑھائیں گی۔ آپ کتنی اچھی ہیں۔‘‘ سائرہ نے کتاب بند کر لی۔ اور میز سے کاغذ پنسل نکال کر اسے پڑھانے لگی۔ یہ دیکھو یہ الف ہے اور یہ بے ہے۔ صابرہ خاصی تیز تھی ذرا سی دیر میں اس نے الف بے یاد کرلی۔ پہلا سبق سکھا کر سائرہ سونے کو لیٹ گئی۔
    اگلی صبح صابرہ ،سائرہ کو لے کر محل سے باہر آئی۔ تھوڑی دور آم کا ایک باغ تھا۔ ایک جگہ پہنچ کر و ہ رک گئی۔ اور بولی۔ ’’ میں آپ کو ایک چیز دکھاؤں۔ یہ میرا راز ہے۔‘‘ اور پھر وہ زمین سے دو بڑے بڑے پتھر ہٹانے لگی جوپتوں سے ڈھکے تھے۔ یہ ایک تہہ خانہ ساتھا۔ سائرہ نے حیرانی سے دیکھا۔
    ’’باجی ! یہ میرا راز ہے۔ یہ ایک جگہ ہے جب بابا مجھ پر خفا ہوتے ہیں تو میں اس میں چھپ جاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ جھک کر اندر چلی گئی۔
    ’’ آئیے باجی اندر آئیے۔‘‘ سائرہ بھی اندر چلی گئی۔ چند سیڑھیاں تھیں اور اس سے آگے ایک تنگ سا راستہ تھا۔ جس میں ایک دری اور کچھ پرانے برتن وغیرہ تھے۔ ایک چھوٹی سی لالٹین بھی تھی۔
    ــ’’یہ میرا محل ہے۔‘‘ سائرہ نے خوش ہو کر کہا۔
    ’’اوہو۔ یہ تو بڑی اچھی جگہ ہے۔ تم یہاں اکثر آتی ہو؟؟‘‘
    ’’ ہاں جی جب بھی بابا مجھ پر غصے ہوتے ہیں۔ ‘‘
    ’’صابر ہ یہ تو ایک زمین دوز راستہ ہے۔ تمہیں پتہ ہے یہ کہاں تک جاتا ہے ؟؟‘‘
    ’’ہاں جی۔ یہ بہت لمبا راستہ ہے اور قلعے تک جاتا ہے۔ ایک دفعہ میں اس راستہ سے اندر گئی تھی۔ دوسری طرف قلعے کا وہ حصہ ہے۔ جہاں آپ کے دادا رہتے ہیں۔ پتہ نہیں جی۔ یہ کس نے بنا یا تھا اور کیوں۔ــ‘‘
    ’’پہلے قلعوں میں ایسے خفیہ راستے بنائے جاتے تھے۔ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے۔‘‘ صابرہ بولی اور یہ لوگ تہہ خانے سے باہر نکل آئے۔ سائرہ نے سب سے پہلے پرویز کو اس راستے کے بارے میں بتایا۔ قلعے تک پہنچنا اب کتنا آسان تھا۔
    (7)
    فرخ شیش محل کے باغ میں حوض کے کنارے بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر امجد آگئے۔
    ’’ بیٹے کیا کر رہے ہو؟؟‘‘
    ’’جی بس ایسے ہی بیٹھا ہوں۔ سائرہ باجی اور پرویز بھیا کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘
    ’’ تمہیں شیش محل کیسا لگا؟ــا چھا ہے ؟ ‘‘
    ’’جی ہاں۔ ‘‘
    ’’چاکلیٹ کھاؤ گے؟ ‘‘ ڈاکٹر صاحب نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر فرخ کو دیتے ہوئے کہا۔
    ــ’’جی! شکریہ! ‘‘ فرخ نے چاکلیٹ لے لی۔ چاکلیٹ ویسے بھی اس کی کمزوری تھی۔
    ’’ تمہارے دادا تو تم سے مل کر بہت خوش ہوئے ہوں گے ۔‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا۔
    ’’جی ہاں۔ مجھے وہ بہت اچھے لگے ۔کیا وہ بہت بیمار ہیں؟‘‘ فرخ نے پوچھا۔
    ’’ہاں بیٹے وہ بہت بیمار ہیں۔ وہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور شاید زیادہ دن تک نہ جی سکیں گے ۔‘‘ ڈاکٹر امجد نے جواب دیا۔ پھر وہ کچھ سوچ کر بولے۔
    ’’ہاں یہ تو بتاؤ۔ پرویز سے انہوں نے کیا باتیں کیں؟ ‘‘
    ’’دادا جان نے انہیں بہت سی باتیں بتائیں۔ وہ کسی خفیہ چیز کا ذکر کر رہے تھے۔جو سرخ کمرے میں ہے۔‘‘ فرخ نے کہا ۔
    ’’ لو یہ ایک اور چاکلیٹ لو۔ تم بہت سمجھ دار لڑکے ہو۔ اچھا تو کنور صاحب نے اور کیا کہا ؟‘ ‘ ڈاکٹرا مجد نے دلچسپی لیتے ہوئے سوال کیا۔
    ’’بس یہی۔ پھر۔ پرویز بھائی اور سائرہ باجی سرخ کمرے میں کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔ ‘‘
    ’’ا نہیں وہاں کچھ ملا؟‘
    ’’ہاں ایک خط تھا۔ ابا جان کے نام ۔‘‘
    ’’کیا لکھا ہے اس خط میں؟ ‘‘ ڈاکٹر نے بے تابی سے پوچھا۔
    ’’اس میں کچھ ہیروں وغیرہ کا ذکر ہے جو قلعے میں رکھے ہیں ۔‘‘ فرخ نے بتایا۔
    مگر وہ سوچنے لگا ڈا کٹر امجد یہ سب باتیں کیوں پوچھ رہے ہیں ۔انہیں کیا مطلب خط سے اور چابیوں سے۔ میں نے کچھ زیادہ تو نہیں بتا دیا۔ ’’لویہ اور چاکلیٹ کھاؤ۔‘‘ڈاکٹر کی آواز نے اسے چونکادیا۔
    ’’جی نہیں، شکریہ۔ اب میں جاتا ہوں ۔‘‘ فرخ اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن ڈاکٹر امجد کے چہرے پر جو خاص قسم کی مسکراہٹ تھی وہ اسے نہیں سمجھ سکا۔ فرخ کمرے میں آیا تو سائرہ اور پرویز کمرے میں باتیں کر رہے تھے۔ اس نے سنا سائرہ کہہ رہی تھی۔ ’’میں بھی تمہارے ساتھ سرنگ میں جاؤں گی۔‘‘
    ’’ نہیں تم یہیں ٹھہرنا میں اکیلا ہی جاؤں گا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’میں تم سے بڑی ہوں۔ اس لئے مجھے بھی تمہارے ساتھ جانا چاہئے ۔‘‘
    ’’ دیکھو سائرہ۔ اس میں خطرہ ہے اور ایسی جگہوں پر لڑکیوں کو نہیں جانا چاہئے۔ جہاں خطرہ ہو ۔‘‘
    ’’ ٹھیک ہے مگر امی نے چلتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ میں تم دونوں کا خیال رکھوں۔ خطرہ ہے تو تمہارے لئے بھی ہے میں تو ضرور جاؤں گی۔‘‘
    ’’اچھا بھئی ٹھیک ہے مگر فرخ نہیں جائے گا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’ہاں فرخ کو نہیں لے جائیں گے ۔‘‘
    ’’میں جانا بھی نہیں چاہتا ۔‘‘ فرخ بولا۔
    ’’کل ہم سرنگ کے ذریعے جائیں گے اور کھانے کے وقت تک واپس آجائیں گے۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’ٹھیک ہے۔ ‘‘ سائرہ نے جواب دیا۔
    فرخ نے ڈاکٹر امجد سے ملاقات کے بارے میں پرویز کو کچھ نہیں بتا یا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں ڈانٹ نہ پڑے۔
    (8)
    اگلے دن صبح ناشتہ سے فارغ ہو کر پرویز اور سائرہ چپکے سے سرنگ میں گھس گئے۔ پہلے تو انہیں اندھیرے میں اندر جاتے ہوئے بہت ڈر لگا۔ مگر ہمت سے کام لے کر وہ آگے بڑھتے ہی گئے۔ یہ خاصی لمبی سرنگ تھی اور دونوں بہن بھائی کافی دیر میں قلعے تک پہنچ سکے۔
    ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے یہ دونوں بہن بھائی جب دوسرے سرے پر قلعے کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ تھوڑی دیر ٹھنڈی ہوا میں لمبے لمبے سانس لینے کے بعد دونوں کچھ تازہ دم ہوئے۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے یہ لوگ عروسی کمرے کے پاس پہنچ گئے۔ سرنگ قلعے کے باغ میں اس دالان کے قریب کھلتی تھی، جہاں سے گزر کر اوپر جانے کے لئے زینے کا راستہ تھا۔ وہ ابھی زینے کے دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ انہوں نے سامنے سے ایک شخص کو ہاتھ میں ڈنڈالئے آتے دیکھا اس نے ان دونوں کو دیکھ لیا تھا اور وہ ان پر حملہ کرنے کی نیت سے ان کی طرف بڑھا۔ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے باغ کی طرف بھاگے۔ وہ آدمی ان کے پیچھے بھاگا۔ اس کے پیچھے ایک آدمی اور تھا۔ بھاگتے بھاگتے سائرہ نے ٹھوکر کھائی اور وہ گر پڑی۔ پرویز سے اٹھانے کو جھکا۔ سائرہ کا پاؤں کسی پتھر سے ٹکرا یا تھا اور اس کے انگوٹھے میں چوٹ لگ گئی۔
    ’’ اللہ کیا کروں۔ ‘‘آنسو اس کی آنکھوں میں بھر آئے ۔
    ’’ ارے کیا ہوا؟ چوٹ لگ گئی ہے؟‘‘
    پرویز نے اس کا بازو تھام کر اٹھانے کی کوشش کی مگر اٹھ نہ پائی۔ اتنے میں دونوں آدمی وہاں پہنچ گئے اور ایک نے پرویز کو اور دوسرے نے سائرہ کو پکڑ لیا۔ اور ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر گھسیٹتے ہوئے ایک طرف کو لے چلے۔
    ’’ چھوڑو مجھے۔‘‘ پرویز نے اس آدمی کو دھکا دیا۔ مگر وہ شخص خاصا صحت مند تھا اس نے اور زور سے پرویز کو پکڑ لیا۔ اور اس کے منہ پر ایک تھپڑ مارا۔ پرویز نے غصہ میں آکر زور سے اس آدمی کو دھکا دیا مگر اس نے دونوں کو زبر دستی پکڑ کر ایک کمرے میں جہاں فرش پر گھاس پڑی تھی ڈال دیا۔ پھر رسی سے دونوں کے ہاتھ باندھ دیئے اور منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔ اور دروازہ باہر سے بند کر کے چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد انہیں قدموں کی چاپ سنائی دی۔ کوئی اس طرف آ رہا تھا۔ دروازہ آہستگی سے کھلا اور ایک لمبا سا آدمی نقاب پہنے آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے داخل ہوا۔ ’’اے لڑکے چابیاں کہاں ہے؟ ‘‘اس آدمی نے پرویز سے کہا۔
    پرویز نے سر ہلایا۔
    ’’ اس کے منہ سے کپڑا نکالو۔‘‘ اس نے حکم دیا اور ایک آدمی نے پرویز کے منہ سے کپڑا نکال دیا۔
    ’’جلدی بتاؤ چابیاں کہاں ہیں؟ ‘‘
    ’’کون سی چابیاں؟ میرے پاس کوئی چابی نہیں۔‘‘ پرویز نے جواب دیا۔
    ’’ وہ جو کنور صاحب نے تمہیں دی ہیں ۔‘‘
    ’’ مجھے نہیں معلوم تم سے کس نے کہا کہ دادا جان نے مجھے چابیاں دی ہیں؟ ‘‘
    ’’اس کی تلاشی لو ۔‘‘ نقاب پوش نے اپنے آدمی کو حکم دیا۔
    اس نے آگے بڑھ کر پرویز کی ساری جیبیں ٹٹول لیں ۔ چابیاں نہیں تھیں۔ سائرہ ڈری ہوئی یہ سب دیکھ رہی تھی ۔
    ’’اس کے پاس چابیاں نہیں ہیں ۔‘‘ وہ ہٹا کٹا آدمی بولا۔
    ’’ اس لڑکی کی تلاشی لو۔‘‘
    سائرہ نے زور سے سر ہلایا کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے ۔مگر اس شخص نے سائرہ کی تلاشی لی۔ چابیاں اس کے پاس بھی نہیں تھیں۔
    ’’ ان کو بند کر دو اور بھوکا پیاسا پڑا رہنے دو۔ جب بھوک لگے گی تو خود ہی قبول دیں گے کہ چابی کہاں ہے، چلو۔ ‘‘نقاب پوش نے کہا اور دونوں دروازہ باہر سے بند کر کے چلے گئے۔
    سائرہ کو نقاب پوش کی آواز جانی پہچانی لگی اور وہ سوچنے لگی۔
    ’’ یہ آواز میں نے کہاں سنی ہے؟ ‘‘ دماغ پر زور ڈالا تو یاد آگیا کہ ارے یہ تو ڈاکٹر امجد کی آواز ہے۔ اس نے دل میں کہا۔
    (9)
    کئی گھنٹے گزر گئے اور سائرہ اور پرویز واپس نہ آئے تو فرخ پریشان ہو گیا۔ اس کا نہ کھیلنے میں دل لگ رہا تھا، نہ صابرہ سے باتیں کرنے میں۔ ایک بجے صابرہ نے آکر کہا ۔’’سائرہ باجی اور پرویز بھائی کہاں ہیں؟ کھانا تیار ہے ۔‘‘
    ’’وہ تو راشد بھائی کے پاس گئے ہیں اور وہ کھانا بھی وہیں کھالیں گے ۔‘‘ فرخ نے کیا۔
    ’’ انہوں نے تو بتا یا نہیں۔ ابو نے پرویز بھائی کی پسند کے کوفتے اور پلاؤ بنایا ہے ۔‘‘
    ’’راشد بھائی نے ان کو بلالیا تھا ۔‘‘
    ’’ تم کیوں نہیں گئے ؟‘‘ صابرہ نے پوچھا۔
    ’’ میرا جی نہیں چاہا ۔‘‘ فرخ نے کہا۔
    ’’اچھا تو چلو تم تو کھانا کھالو ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔
    کھانا کھا کر یہ دونوں باغ میں جا کر کھیلنے لگے۔ مگر فرخ، سائرہ اور پرویز کی وجہ سے پریشان تھا اور اس کا کھیل میں دل نہیں لگ رہا تھا۔
    ’’ کیا بات ہے؟ تم کچھ پریشان ہو ۔‘‘ صابرہ نے پوچھا۔
    ’’ہاں‘‘ فرخ نے کیا پھر اس نے سرخ کمرے ،ہرے ڈبے اور عروسی کمرے کے بارے میں صابرہ کو سب کچھ بتا دیا۔
    ’’ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ صبح کے گئے ہوئے ہیں ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔
    ’’چلوا نہیں چل کر دیکھیں۔ کوئی گڑبڑ تو نہیں ہے ۔ــ‘‘ صابرہ نے فرخ کا ہاتھ پکڑا اور سرنگ کے راستے قلعے کی طرف چل پڑی۔
    (10)
    پرویز اور سائرہ کے ہاتھ پاؤں بندھے بندھے تھک گئے تھے۔ بھوک سے بھی ان کا برا حال تھا۔ پکڑے جانے کے خوف سے پرویز نے بھاگتے بھاگتے دالان کے اندر محراب کے قریب دیوار میں ایک طاق میں چابیاں چھپادی تھیں۔ مگر اب ان کے یہاں سے نکلنے کا کوئی آسرا نہ تھا۔ سائرہ کو رونا آرہا تھا۔ اچانک قدموں کی آواز سنائی دی۔ وہ دونوں چونک پڑے۔ ایسا کون ہے؟ شاید ڈاکٹر امجد پھر آیا ہو۔ آہستہ سے دروازہ کھلا اور صابرہ اندر آگئی۔ اس کے ساتھ فرخ بھی تھا۔ انہوں نے ان دونوں کو حیرانی سے دیکھا۔ پھر صابرہ نے ایک چھوٹے سے چاقو سے ان کی رسیاں کائیں۔ پرویز بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر اس کا نہ تو وقت تھا نہ موقع۔ چاروں دبے پاؤں باہر نکلے ’’جلدی کرو ۔‘‘ صابرہ نے سرگوشی کی۔ آہستہ آہستہ یہ لوگ باہر سرنگ کے پاس پہنچ گئے۔
    ’’ میں جواہرات کا ڈبا لئے بغیر نہیں جاؤں گا ۔‘‘ پرویز نے کہا۔
    ’’ پرویز یہاں سے نکل چلو۔ وہ تم کو مار ڈالیں گے ۔‘‘ سائرہ بہت خوف زدہ تھی۔
    ’’ تم اور فرخ شیش محل واپس چلے جاؤ۔ میں بعد میں آؤں گا ۔‘‘
    ’’ میں تمہارے ساتھ رہوں گی ۔‘‘ صابرہ نے کہا۔
    پرویز کے اصرار پر سائرہ فرخ کو لے کر سرنگ کے راستے شیش محل واپس چلی گئی اور پرویز تیزی سے دالان میں آیا۔ چابیاں طاق میں موجود تھیں۔ صابرہ اس کے پیچھے پیچھے تھی۔ چابی لے کر پرویز عروسی کمرے میں پہنچا۔
    ’’ صابرہ۔ تم باہر رہو۔ میں اندر جاتا ہوں۔ تم باہر سے دروازہ بند کرے چھپ جانا اور تھوڑی دیر بعد آکر دروازہ کھول دینا۔ ٹھیک ہے ۔‘‘ پرویز نے اسے سمجھایا۔
    صابرہ نے پرویز کے کمرے میں جاتے ہی باہر سے دروازہ بند کر کے کنڈی لگادی اور ایک محراب کے اندر در کے پیچھے چھپ کر کھڑی ہو گئی۔ عروسی کمرے میں اندھیرا تھا۔ پرویز نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ جب اس کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو اس نے دیکھا کہ پورے کمرے میں کوئی الماری یا بکس نہیں تھا جس میں چابی لگ سکے۔ پریشان سا ہو کر وہ فرش پر بیٹھ گیا۔ اب کیا کروں۔ اچانک اس کی انگلیاں کسی چیز سے ٹکرائیں۔ یہ تو تالا تھا اس نے جلدی سے ایک چابی اس میں گھمائی ۔اتفاق سے وہی چابی اس تالے کی تھی ۔تالا کھل گیا اور فرش میں چھوٹا ساڈھکنا کھل گیا۔ پرویز نے اندر ہاتھ ڈالا ایک بڑا سا سبز مخملی بکس اندر رکھا تھا۔ یہی وہ بکس تھا جس کی اسے تلاش تھی اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ پھر دروازہ کھولنے کی آواز آئی۔ یہ صابرہ تھی۔ ’’کیا آپ کو مل گیا ہے ؟‘‘اس نے پوچھا۔
    ’’ہاں چلو۔ جلدی سے یہاں سے نکل جائیں ۔‘‘
    یہ لوگ تیزی سے کمرے سے نکلے۔ اپنی خوشی اور جوش میں پرویز نے یہ بھی نہ دیکھا کہ سامنے سے تین آدمی آرہے ہیں اور ان میں سے ایک ڈاکٹرا مجد ہے۔
    (11)
    سائرہ اور فرخ سرنگ سے باہر نکلے تو شیش محل کے باغ میں راشد کو ٹہلتے پایا۔ وہ ان ہی لوگوں سے ملنے آیا تھا اور ان کو محل میں نہ پا کر یہاں باغ میں آگیا تھا۔
    ’’ کیا ہوا ہے ؟‘‘راشد سائرہ کے مٹی سے اٹے کپڑے اور چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر گھبرا گیا۔ راشد کو دیکھ کر سائرہ کو بھی اطمینان ہوا اور اس نے جلدی جلدی ساری کہانی راشد کو سنادی۔ راشد سمجھ گیا کہ کیا قصہ ہے۔ اس نے اپنی ٹار چ سا تھ لی اور اپنے پالتو کتے کی زنجیرپکڑی ۔’’ چلو…‘‘اور وہ تینوں جیپ میں بیٹھ کر قلعے میں پہنچے۔ قلعے کے مغربی حصے میں جاکر راشد نے پرویز کو زور زور سے آواز یںدیں۔ کتے نے بھی زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا۔ مگر پرویز کا کوئی پتہ نہ تھا۔ یہ لوگ عروسی کمرے میں گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ فرش پر ایک خفیہ خانہ ہے جس کا ڈھکنا کھلا ہے اور اندر دیکھا تو خانہ خالی تھا۔ اچانک کتا ایک طرف کو بھونکتا ہوا دوڑا۔ یہ تینوں بھی اس کے پیچھے پیچھے گئے۔ گیلری میں صابرہ کے دوپٹے کا پھٹا ہوا ٹکڑا پڑا تھا۔
    ’’دیکھئے ۔‘‘سائرہ نے وہ ٹکڑا اٹھا لیا۔ ’’یہ صابرہ کے دوپٹے کا ٹکڑا ہے۔ وہ نیلا دوپٹہ اوڑھے تھی۔‘‘
    ’’ تمہیں یقین ہے کہ یہ اسی کا دوپٹہ ہے ۔‘‘ راشد نے پوچھا۔
    ’’ہاں بالکل میں اچھی طرح پہچانتی ہوں ۔‘‘ یہ لوگ اسی راستے پر آگے چل دیئے ۔آگے جاکر انہیں ایسے ہی دو ٹکڑے اور ملے۔ اس کا مطلب ہے ان کو کوئی زبر دستی ساتھ لے گیا ہے۔ سائرہ نے سوچا۔ یہ سب کیسے ہوا۔ یہ کم بخت چوکیدار کہاں گئے۔ راشد کو سخت غصہ آرہا تھا اور وہ پریشان سا تھا۔
    ’’ راشد بھائی۔ ہو سکتا ہے چوکیدار ڈاکٹر کے ساتھ ملے ہوئے ہوں ۔‘‘ سائرہ نے کیا۔
    ’’ہاں ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر قلعے میں اکثر آتا جاتا رہتا ہے ۔‘‘ راشد نے کہا قلعے سے باہر دور تک کوئی نہ تھا۔ راشد نے ادھر ادھر ٹارچ کی روشنی ڈالی۔
    ’’ یہ تو جیب کے پہیوں کے نشانات ہیں۔ ‘‘اس نے کہا۔
    ’’ہاں ایسا لگتا ہے۔ یہ لوگ جیپ میں یہاں سے گئے ہیں ۔ ‘‘سائرہ نے کہا۔
    ’’ چلوان کا پیچھا کرتے ہیں ۔‘‘ اتنے میں راشد کا ڈرائیور بھی کتے کے بھونکنے کی آواز سن کر آچکا تھا۔
    ’’کیا بات ہے صاحب جی ۔‘‘ اس نے کہا۔
    ’’جلدی کرو۔ جیپ نکالو ۔‘‘ یہ چاروں جیپ میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔
    ’’ تیز چلاؤ… اور تیز…‘‘ راشد نے ڈرائیور کو حکم دیا۔ دور سے انہیں جیب کی روشنیاں نظر آرہی تھیں۔
    ’’اب ہم انہیں پکڑ لیں کے ۔‘‘ فرخ نے خوش ہو کر کہا۔
    ’’ہاں ان شاء اللہ ۔‘‘ راشد نے جواب دیا۔
    (12)
    صابرہ اور پرویز کو ڈاکٹر اور اس کے ساتھیوں نے زبر دستی قلعے سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ جب یہ لوگ باہر آئے تو انہوں نے زبر دستی انہیں جیپ میں ڈالا۔ بیش قیمت زیورات و جواہرات کا بکس ڈاکٹر کے ہاتھ میں تھا اور یہ لوگ نا معلوم طرف روانہ ہو گئے۔ سب کی آنکھ بچا کر صابرہ اپنا دوپٹہ پھاڑ پھاڑ کر اس کے ٹکڑے راستے میں پھینکتی گئی۔ تاکہ ان کو ڈھونڈنے والوں کو آسانی ہو۔
    ڈاکٹر نے پیچھے سے آتی جیپ کی بتیاں دیکھ لی تھیں۔ جو اب کافی قریب آچکی تھیں۔ ’’تیز چلاؤ۔‘‘ وہ چیخا۔ ڈرائیور نے جیپ ایک کچے راستے پر اتار دی۔ کچی سڑک پر جیب اچھلتی جارہی تھی ،اچانک جیپ جھٹکے سے رک گئی۔’’ کیا ہوا؟‘‘ ڈاکٹر نے غصے سے پوچھا۔
    ’’ شاید کوئی بڑا پتھر اگلے پہیوں میں آگیا۔ پہیے جام ہو گئے ہیں۔ــ‘‘
    ڈاکٹر نے ڈانٹ کر کہا ۔’’جلدی کرو۔ اتر کر دیکھو کہ کیا ہوا ہے۔‘‘
    ڈرائیور نیچے کو دا اور اس کے ساتھ پرویز کے پاس بیٹھے ہوئے آدمی بھی نیچے اتر کر ڈرائیور کی مدد کرنے لگے۔
    پرویز نے صابرہ کو اترنے کا اشارہ کیا اور دونوں ایک دم جیپ سے کود کر بھاگے۔
    ’’ پکڑو۔‘‘ ڈاکٹر چلایا۔
    یہ دونوں اس طرف بھاگے جدھر سے دوسری جیپ آرہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں جیپ ان کے پاس آکر رک گئی۔
    ’’پرویز یہ تم ہو ۔‘‘ راشد خوشی اور حیرت سے چلایا۔
    سائرہ بھی کود کر جیپ سے باہر آگئی۔’’ ٹھیک تو ہو پرویز ۔‘‘
    ’’ باتیں کرنے کا وقت نہیں راشد ۔‘‘ پرویز نے جلدی سے کہا ’’ جلدی کرو۔ زیوارت کا بکس ڈاکٹر کے پاس ہے ۔‘‘
    راشد نے کہا اور پرویز اور صابرہ جلدی سے جیپ میں بیٹھ گئے۔
    ڈاکٹر اور اس کے ساتھی جیپ کو دھکیل کر پتھر کو ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے ۔اچانک ڈاکٹر نے جیب میں سے زیورات کا بکس اٹھایا اور ایک طرف کو بھاگ نکلا ۔اس کے ساتھی بھی جیپ آتی دیکھ کر ادھر ادھر بھاگ گئے۔ راشد نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ جیپ کے آس پاس کوئی نہ تھا۔ اس نے اپنے کتے کو اشارہ کیا اور وہ جھپٹ کر ڈا کٹرا مجد کے پیچھے دوڑا۔ ڈاکٹر بھاگ رہا تھا مگر جلد ہی کتے نے اسے پکڑ لیا۔ ڈاکٹر زور سے چیخا۔’’ بچاؤ! بچاؤ ۔‘‘
    تھوڑی دیر میں یہ سب ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔ راشد نے ڈاکٹر کے ہاتھ سے جواہرات کا بکس لے لیا۔ اور یہ لوگ ڈاکٹر کو جیپ میں بٹھا کر پولیس اسٹیشن روانہ ہو گئے۔
    (13)
    اگلی صبح تینوں بہت دیر تک سوتے رہے۔ خاصا دن چڑھ آیا تو چھٹن نے آکر انہیں آواز دی۔ ’’پرویز بابو! اٹھیے کنور صاحب آپ سب کو بلارہے ہیں ۔‘‘
    پرویز ایک دم اٹھ گیا۔’’ دادا جان کی طبیعت کیسی ہے ؟‘‘اس نے پوچھا۔
    ’’وہ اب بہت بہتر ہیں ۔‘‘ چھٹن نے جواب دیا۔ چھٹن کی آواز سن کر سائرہ اور فرخ کی بھی آنکھ کھل گئی۔
    اچانک ان کے ابو اور امی کمرے میں داخل ہوئے۔ بچے انہیں دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑے۔فرخ دوڑ کر امی سے لپٹ گیا۔
    ’’ آپ کب آئے؟‘‘ پرویز نے باپ سے پوچھا۔
    ’’ہم ابھی پہنچے ہیں۔ تمہارے جانے کے بعد ہمارا دل بھی چاہنے لگا کہ ہم بھی یہاں آئیں۔ ابا سرکار سے ملے ہوئے کتنے دن ہو گئے تھے۔ نجانے ان کا کیا حال ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا۔ پھر وہ چھٹن کی طرف مخاطب ہو کر بولے۔ ’’کیا ابا سر کار کو ہمارے آنے کی خبر ہو گئی؟ ‘‘
    ’’جی چھوٹے سرکار، اور وہ آپ سب کو یاد کر رہے ہیں ۔‘‘
    پرویز نے پھر جلدی سے اپنی امی کو جواہرات کا بکس دکھایا۔’’ امی ! دادا جان نے ہمیں قلعے سے یہ لانے کو کہا تھا۔ اللہ کا شکر ہے ہم اس کو لانے میں کامیاب ہو گئے۔دادا جان کے ڈاکٹر نے ہی تو ہم کو پکڑ لیا تھا ۔وہ ان زیوارت کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ہم نے را شد بھائی کی مدد سے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا ہے ۔‘‘
    ’’شاباش بیٹے! تم نے تو بہت بہادری دکھائی ۔‘‘ ابو مسکرائے۔
    پھر سب دادا جان کے کمرے میں گئے۔ مسہری کے قریب پہنچ کر پرویز نے کہا۔ ’’داداجان آنکھیں کھولئے۔ دیکھئے تو کون آیا ہے ۔‘‘
    ’’کون آیا ہے، بیٹے ؟‘‘ انہوں نے آنکھیں کھول کر کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔
    ابو دادا جان کے قریب آگئے۔’’ ابا جان! میں ہوں مجھے معاف کر د یجیے ۔‘‘ ابو ان پر جھک گئے دادا جان نے اپنا لرزتا ہوا ہا تھ ان کے سر پر رکھ دیا۔
    ’’ بہو کہاں ہیں ؟‘‘ امی بھی ان قریب آگئیں۔ دادا جان نے ان کے سر پر بھی ہاتھ رکھا۔ ’’ پرویز بیٹے۔ جواہرات مل گئے۔ ‘‘
    ’’جی دادا جان۔ ‘‘ پرویز نے بکس انہیں دیا۔ ’’ یہ لیجئے۔‘‘
    ’’اسے کھولو۔‘‘
    پرویز نے ڈبہ کھولا۔ سب کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ اس بکس میں ایک خزانہ تھا۔ ہیرے جواہرات کا۔
    ’’لو بیٹے !یہ ورثہ ہے تمہارے خاندان کا۔ اس کی حفاظت کرنا ۔‘‘
    اور یہ کہتے ہوئے وہ ڈبا انہوں نے پرویز کے ابا کو دے دیا۔ پھر وہ پرویز کی طرف مخاطب ہوئے۔ ’’تم بہت بہادر ہو۔ آخر تو ہو نہ ہمارے پوتے ۔‘‘​

  • #2
    بہت ہی مزادار کہانی ہے۔۔۔

    Comment


    • #3
      اچھی اور دلچسپ کہانی تھی۔
      امید ہے کہ آپ آگے بھی ایسی مزےدار کہانیاں لکھتے رہیں گے۔

      Comment


      • #4
        شاندار کہانی

        Comment


        • #5
          Boht behtareen or dilchasp Kahani

          Comment


          • #6
            شاندار اور دلچسپ کہانی ہے

            Comment


            • #7
              زبردست

              Comment

              Users currently viewing this topic; (0 members and 0 guests)

              Working...
              X