Ad Blocker Detection
Please turn off your ad blocker otherwise you won't be able to access Urdu Story World. Thanks!

دنیائے اردو کے نمبرون اسٹوری فورم پر خوش آمدید

اردو اسٹوری ورلڈ کے ممبر بنیں اور بہترین رومانوی اور شہوانی کہانیوں کا مزا لیں۔

Register Now

Poetry اردو شاعری

اگر تجھے بھول چکا ہے تو تجھ پر لازم ہے
سکِلز سیکھ ، ڈالر کما ، موجیں مار ____!
جون ایلیاء
 
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں​
فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں​
جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر​
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں​
رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو​
سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں​
تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا​
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں​
یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں​
جو لالچوں سے تجھے مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں​
یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے​
ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں​
نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی​
سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں​
یہ کون ہے سر ساحل کہ ڈوبنے والے​
سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں​
ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے​
ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں​
بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اس کی خیر خبر​
چلو فرازؔ کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں​
 
دل لگانے میں بڑا لطف سہی​
جایے جایے میں باز آیا ۔​
 
یہ دنیا مطلب سے چلتی ہے​
جب مطلب ہو تو آپ کی ہر برائی اچھائی نظر آتی ہے اور​
جب مطلب نکل جائے تو آپ کی اچھائیاں بھی برائی بن جاتی ہیں??​
 
کون کہتا ہے​
کہ موسم چار ہوتے ہیں​
موسم تو پانچ ہوتے ہیں​
پانچواں موسم دل کا ہوتا ہے​
جو تمام موسموں پہ بھاری ہوتا ہے​
 
میری نیند آ.. میری بات سُن​
میری التجاء، میری آہ سُن...​
میری آنکھ کے سبھی راستے​
تیری آہٹوں کو ترس گئے​
تیری راحتوں کو ترس گئے​
تیری بے رخی کی ہے انتہا​
تیرے ہجر میں کٹی رات سُن​
میری نیند آ... میری بات سُن​
تجھے کیا خبر، کئی خواب ہیں​
تیری راہ میں کھڑے منتظر...​
تری چاہ میں ہوئے منتشر​
جنہیں تیری کب سے تلاش ہے​
انہی بانجھ آنکھوں کی راہ چُن​
میری التجاء، میری آہ سُن....​
کئی وسوسے، تجھے گَھیر کر​
کہیں دُور لے کر چلے گئے​
یوں قصور دے کر چلے گئے​
میں نے دی صدا، یہ کہا بھی تھا​
زرا رُک تو جا.....۔میری بات سُن​
میری نیند آ..... میری بات سُن​
تری منتظر جو بِچھائی ہیں​
وہی پلکیں دیتی ہیں واسطہ​
کبھی بھول آ تُو بھی راستہ...​
بھلا یوں بھی جاتے ہیں توڑ کر؟​
کُھلا در کو ایسے ہی چھوڑ کر؟​
میری آنکھ کے سوالات سُن​
میری نیند آ... میری بات سُن​
یہاں قحط نیندوں کے پڑ گئے​
گویا بخت آنکھوں کے مر گئے​
کبھی مُوندھ کر کبھی کھول کر​
نہ تھکا اِنہیں یونہی رول کر...​
اب لوٹ آ.... یوں سُلا مجھے​
میرے خواب سے تُو مِلا مجھے​
جو بچھڑ گئے ہیں دِکھا مجھے​
جسے چھوڑ کر تُو چلی گئی​
اُسی آنکھ کے سبھی راستے​
تیری آہٹوں کو ترس گئے.​
 
‏اب گزری ہوئی عمر کو آواز نہ دینا​
اب دھول میں لپٹا ہوا بچپن نہ ملے گا​
انور جلال پوری​
 
ہائے وہ آنکھیں، جو تعبیر کا رَستہ دیکھیں​
ہائے وہ خواب، جو مِسمار ہوا کرتے ہیں​
 
کہ میری محبت ہے کوئی مجبوری تو نہیں​
وہ مجھے چاہے یا مل جائے یہ ضروری تو نہیں​
اور یہ کیا کم ہے کہ وہ بسی ہے میری سانسوں میں​
وہ سامنے رہے میری آنکھوں کے یہ ضروری تو نہیں​
 

Create an account or login to comment

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top