میری نیند آ.. میری بات سُن
میری التجاء، میری آہ سُن...
میری آنکھ کے سبھی راستے
تیری آہٹوں کو ترس گئے
تیری راحتوں کو ترس گئے
تیری بے رخی کی ہے انتہا
تیرے ہجر میں کٹی رات سُن
میری نیند آ... میری بات سُن
تجھے کیا خبر، کئی خواب ہیں
تیری راہ میں کھڑے منتظر...
تری چاہ میں ہوئے منتشر
جنہیں تیری کب سے تلاش ہے
انہی بانجھ آنکھوں کی راہ چُن
میری التجاء، میری آہ سُن....
کئی وسوسے، تجھے گَھیر کر
کہیں دُور لے کر چلے گئے
یوں قصور دے کر چلے گئے
میں نے دی صدا، یہ کہا بھی تھا
زرا رُک تو جا.....۔میری بات سُن
میری نیند آ..... میری بات سُن
تری منتظر جو بِچھائی ہیں
وہی پلکیں دیتی ہیں واسطہ
کبھی بھول آ تُو بھی راستہ...
بھلا یوں بھی جاتے ہیں توڑ کر؟
کُھلا در کو ایسے ہی چھوڑ کر؟
میری آنکھ کے سوالات سُن
میری نیند آ... میری بات سُن
یہاں قحط نیندوں کے پڑ گئے
گویا بخت آنکھوں کے مر گئے
کبھی مُوندھ کر کبھی کھول کر
نہ تھکا اِنہیں یونہی رول کر...
اب لوٹ آ.... یوں سُلا مجھے
میرے خواب سے تُو مِلا مجھے
جو بچھڑ گئے ہیں دِکھا مجھے
جسے چھوڑ کر تُو چلی گئی
اُسی آنکھ کے سبھی راستے
تیری آہٹوں کو ترس گئے.