ہو نہ دنیا میں کوئ ہم سا بھی پیاسا لوگو
جی میں آتا ہے کہ پی جائیں یہ دریا لوگو
کتنی اس شہر کے سخیوں کی سنی تھی باتیں
ہم جو آئے تو کسی نے بھی نہ پوچھا لوگو
اتفاقاً ہی سہی پر کوئ در تو کھلتا
جھلملاتا پس چلمن کوئ سایہ لوگو
اب کوئ آئے تو کہنا کہ مسافر تو گیا
یہ بھی کہنا کہ بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو
بند ہوئ جاتی ہیں آنکھیں کہ پساریں پاوں
نیند سی نیند۔۔ ہمیں اب نہ جگانا لوگو