Life Story | تم کون ہو؟ | Urdu Story World Ad Blocker Detection
Please turn off your ad blocker otherwise you won't be able to access Urdu Story World. Thanks!
What's new

Welcome!

Welcome to the World of Dreams! Urdu Story World, the No.1 Urdu Erotic Story Forum, warmly welcomes you! Here, tales of love, romance, and passion await you.

Register Now!
  • Notice

    فورم رجسٹریشن فری کردی گئی ہے----پریمیم ممبرشپ فیس 95 ڈالرز سالانہ----وی آئی پی پلس 7000 روپے سالانہ----وی آئی پی 2350 روپے تین ماہ اور 1000 روپے ایک ماہ

    Whatsapp: +1 631 606 6064---------Email: [email protected]

Life Story تم کون ہو؟

Life Story تم کون ہو؟

Imranprince

Well-known member
User ID
15
Joined
Dec 24, 2022
Messages
519
Reaction score
7,616
Points
93
Location
Ksa
Gender
Male
Offline
تم کون ہو؟

کلب میں چل رہی موسیقی کے ساتھ حرکت کرتے میں ناچ رہی تھی جب میری ڈرنک ختم ہوئی تو دوسری ڈرنک لینے کے لیے میں نے کاؤنٹر پر جانے کا راستہ بنایا
میں اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے اسکو تھکا دینا چاہتی تھی,رقص کرتے ہوئے اور شراب کے نشے میں بہہ کر اس شخص کو بھول جانا چاہتی تھی
لیکن میرے اندر کہیں یہ ہلکی سی امید ضرور تھی کہ میں اسے دوبارہ دیکھوں گی۔لیکن میں نے تو اس کا چہرہ تک نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی نام جانتی تھی
میں کاؤنٹر تک پہنچی اور اپنی پسندیدہ شراب جیمسن کے لیے چلائی۔کچھ لمحوں بعد وہ میرے ہاتھ میں تھا۔میری پسندیدہ شراب کا گلاس پسی ہوئی برف کے ساتھ جو اس میں گھُلتی جا رہی تھی۔اپنے جسم کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے میں نے ٹھنڈی شراب کا ایک بڑا سا گھونٹ لیا۔سامنے کھڑے شخص کو ادائیگی کرتے میں واپس مڑی جیسے مجھے بقایا کی کوئی ضرورت نہیں تھی
میں ایک میز کی طرف بڑھی جو حیران کن طور پر خالی تھی اور اس پر بہت سے خالی گلاس پڑے ہوئے تھے مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں تھی مجھے صرف ایک خالی نشست کی ضرورت تھی جہاں میں سکون سے اپنا گلاس خالی کرسکوں
دوسرا ویٹر قریب آیا اور میز سے خالی گلاس اٹھانے لگا۔میں نے جلدی سے اس کی مدد کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا
"نہیں میڈم ۔اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔میں خود کر سکتا ہوں "
اور جلدی سے میرے ہاتھوں سے خالی گلاس پکڑ لیے"مجھے مدد کرنے دو"موسیقی کے شور کی وجہ سے میں تھوڑا اونچی آواز میں اس سےمخاطب ہوئی۔میں چاہتی تھی کہ وہ دوبارہ میری طرف دیکھے اور نوٹِس کرے کہ میں نشے میں نہیں ہوں"آپ کا شکریہ .لیکن انتظامیہ والے نہیں چاہتے کہ گاہک مدد کریں۔اور کسی گلاس پر لگے ایک کٹ یا نشان کی جوابدہی بھی مجھے کرنا پڑے گی"اس نے مجھے انتظامیہ کے اصولوں سے آگاه کرتے ہوئے جواب دیا
میں نے وہسکی کا گلاس ختم کیا جب وہ میز صاف کر رہا تھا میں نے مسکراتے ہوئے گلاس اس کی طرف بڑھایا۔جو اس نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجائے مجھ سے لے لیا
میں نے اسے الوداعی اشارہ کیا اور واپس ڈانس فلور کی طرف بڑھی۔موسیقی کی تال میرے دماغ کو ایک ہفتہ پیچھے کو لے گئی

Last week………

مجھے رقص کرتے ہوئے کچھ وقت گزر چکا تھا۔شراب کے کئی پیگ میں چڑھا چکی تھی وہ بھی مفت کے۔کچھ منچلے لڑکوں کی مہربانی سے جو مجھے ٹینا کہہ کر بلا رہے تھے لیکن مجھے کیا۔میں نے سر کو جھٹکا اور مفت کی شراب کے گلاس پہ گلاس خالی کرنے لگی
میں میوزک کی لَے کے ساتھ بہہ رہی تھی میرا جسم تھرک رہا تھا اور ہاتھ حرکت میں تھے.میں اس لمحے نیم مدہوشی کی کیفیت میں تھی۔لیکن اس سے پہلے کہ مجھے پتہ چلتا مجھے اس مدہوش نیند سے کسی نے زبردستی جگا دیا۔کوئی منچلا مجھ سے ٹکرایا تھا اور اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ڈرنک کچھ مجھ پر اور کچھ ڈانس فلور پر گر کر بہہ چکی تھی"اوہ میرے **ا ۔پلیز مجھے معاف کر دو"لڑکوں میں سے ایک کی آواز مجھ تک پہنچی"کوئی بات نہیں یہ ایک حادثہ تھا "میں جلدی سے بولی جب ایک فرش پر گری شراب کی وجہ سے پھسل کر نیچے گر پڑا۔میں ڈانس فلور سے واپس نکلی اور باتھ روم کی طرف بڑھی تاکہ خود پر گری اس مائع چیز کو صاف کر سکوں۔تاکہ بعد میں اسکی وجہ سے چپچپاہٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے
باتھ روم کے لیے دیے گئے نشان مجھے ایک بڑے سے ہال کی طرف لے گئے جس کے دونوں اطراف کمروں کے بند دروازے تھے۔ہال کے اختتام پر پہنچ کر ایک بار پھر میں نے سائنز کو دیکھا جو ظاہر کر رہے تھے کہ باتھ روم دائیں ہاتھ پر کچھ قدم آگے ہیں۔
میں باتھ روم میں پہنچی۔اور اپنا جائزہ لیا۔مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف شرٹ تھی جو گیلی ہوئی تھی میں نے شرٹ اتاری اسے کنگھالا اور ایک ٹوائلٹ کے ساتھ خشک ہونے کے لیے لٹکا دیا۔میں نے سوچا بعد میں جب جاؤں گی تو اسے لے لوں گی
میں نے خود کو آئینے میں دیکھا۔میرا ٹاپر میری ناف تک تھا اور کالے رنگ کا مِنی سکرٹ بمشکل میرے چوتڑوں کو ڈھانپے ہوئے تھا۔میں نے چند لمحے خود کو دیکھا اور واپسی کے لیے قدم بڑھائے۔اپنے نیم خوابیده ذہن کی وجہ سے میں سیدھا چلتی گئی بجاۓ موڑ مڑنےکے۔نتیجتاً میں ایک غلط ہال کے راستے پر جا پہنچی۔یہاں دوسرے ہال کی نسبت قدرے تاریکی تھی
"لعنت ہے"مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔اور واپس جانے کے لیے خود کو گھمایا
اچانک سے دو مردانہ بازوؤں نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا ۔میری کمر سختی سے ایک ٹھوس سینے سے ٹکرائی۔اس سے پہلے کہ میرا ذہن اس اچانک افتاد پر کوئی ردِعمل دیتا۔گرم سانسیں اور نرم ہونٹوں کا احساس مجھے کان کے پیچھے گردن پر محسوس ہوا۔میں ایک لمحے میں پگھل کر رہ گئی میرے جسم میں سردی کی لہر دوڑ گئی میں بل کھا کر رہ گئی کہ ایک گہری مدھر مردانہ آواز نے میرے کان میں سرگوشی کی "میں چاہتا ہوں تم میرے لیے ناچو۔ہلکے ہلکے ۔جیسے پہلے ناچ رہی تھی۔لیکن صرف میرے لیے"
اس نے میرے کان کی لو کو منہ میں لیا ہوا تھا۔اور میرے کان کی لو کو دانتوں سے دبایا۔ایک اور سرد لہر میری ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کرتی گئی اور بے اختیار میرے منہ سے سسکی نکلی"آہ
میں مردانہ گرفت سے آزاد ہو چکی تھی۔لیکن مجھے کوئی احساس نہیں تھا.میں ابھی تک بے خود تھی اس شخص نے مجھے بہکا دیا تھا جس نے ابھی کچھ لمحے پہلے مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ رکھا تھا

میں نے اپنے پیچھے دروازہ کھلنے کی آواز سنی اور ایک سیاہ بالوں والے آدمی کو کمرے کے اندر جاتے دیکھا
"ارے"میں نے اس کا پیچھا کیا اور کمرے میں داخل ہو گئی۔مجھے ایک کرسی کو ہٹائے جانے کی آواز سنائی دی اور ساتھ ہی کسی آڈیو سسٹم کے چلنے کی
میرے دل کی دھڑکن مدھم ہو رہی تھی۔فضا میں گٹار کے ساز سے شروع ہونے والا ایک نغمہ گونجا جلد ہی اس میں دوسرے ساز اور سر بھی شامل ہونے لگے
میں اس اجنبی کو دیکھنے کے لیے پیچھے کو مڑنے لگی۔جب مجھے اس کی آواز سنائی دی
"اپنا رخ موڑ کر مجھے دیکھنے کی ضرور بس رقص کرو۔اگر رخ موڑنا ہوا تو میں تمہیں خود بتاؤں گا"اس کی آواز گرجتے کڑکتے طوفان کے جیسے تھی۔اپنی گرجدار آواز میں وہ مجھے حکم دے رہا تھا اپنی مرضی کے آگے جھکنے پر مجبور کر رہا تھا
اضطراب اور جوش سے میں کانپ رہی تھی۔موسیقی کے ساتھ میں نے اپنے چوتڑوں کو آگے پیچھے حرکت دی یہاں تک کہ میں ایک ردھم کے ساتھ ناچنے لگی
کمرے کے وسط میں روشنی کا ایک گول دائرہ تھا اور اس دائرے کے اندر میں ناچ رہی رتھی۔اپنے منی سکرٹ کی وجہ سے میں آسانی سے حرکت کر سکتی تھی جھک سکتی تھی۔اور میرے ہاتھ فضا میں اِدھر اُدھر حرکت کر رہے تھے
موسیقی مجھے لبھا رہی تھی مدہوش کر رہی تھی۔یہاں تک کہ میں بھول گئی کہ کمرے میں کوئی اور بھی موجود ہے میرے ہاتھ میرے بازوؤں سے کھیل رہے تھے اور اوپر میرے بالوں تک پہنچے جو ابھی تک کلپ میں قید تھے میں نے کلپ کھولا میرے بال آزاد ہو کر میرے کندھوں پر گرے۔میں نے اپنے ہاتھ بالوں میں پھیرے اور ایک ہاتھ نیچے کر کے گردن سے کھیلنے لگی۔جیسے کوئی عاشق اسے چوم رہا ہو
جب میرے ہاتھ نیچے میری رانوں سے کھیل رہے تھے ایک اور کلک کی آواز میں نے سنی۔اپنی بند آنکھوں کے پیچھے سے میں نے ایک تیز روشنی دیکھی۔اپنی پلکوں کی چلمن سے میں نے سامنے دیوار کو دیکھا ۔جہاں مجھے اپنا سایہ تھرکتا ہوا دِکھ رہا تھا۔
مجھے یاد آ رہا تھا کہ کمرے میں کوئی اور بھی موجود ہے۔میں اپنا ردھم بھول گئی۔اچانک سے میں پریشان ہو گئی تو کیا میں ایک اجنبی کے لیے ناچ رہی تھی۔
"واپس گھومو اور ناچو……شرماؤ مت۔تمہیں بے خود دیکھ کر مجھے بہت مزہ آرہا تھا……"
ایک دل کو لبھاتی ہوئی مردانہ آواز مجھے اُکسا رہی تھی کہ میں اپنا رقص جاری رکھوں
آہستہ سے رقص کرتے ہوئے میں پھر اپنے ردھم میں ناچ رہی تھی۔اپنی پلکوں کے جھروکے سے میں نے اسے دیکھنے کی کوشش کی لیکن روشنی کی وجہ سے میں اس شخص کا چہرہ دیکھنے سے قاصر تھی
"تم کھو گئی ہو……دھیان دو اور پھر سے میرے لیے ناچو"
موسیقی کی آواز کے باوجود اس کی آواز ایسے سنی جا سکتی تھی جیسے وہاں کوئی اور آواز نہ ہو۔اس کی آواز تحکمانہ تھی
میں نے کندھے اچکائے۔یہ صرف ایک ڈانس تھا۔تو کیوں نہ اس کا لطف لیا جائے
گٹار کی لَے کے ساتھ میں ایک دفعہ پھر سے ناچ رہی تھی۔تھرک رہی تھی ۔میرے ہاتھ میرے جسم کو چھو رہے تھے سہلا رہے تھے۔گٹار کے سُر کے ساتھ کبھی آہستہ کبھی تیز ۔مجھ پر ایک نشہ سا چھا رہا تھا
میں گرم ہو چکی تھی اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ کون یا کوئی اس وقت یہاں میرے ساتھ موجود ہے۔میں نے اپنے سکرٹ کی زِپ کھولی۔تاکہ آسانی سے اور زیادہ جُھک سکوں
"اسے نیچے گرنے دو"سایے سے ایک تحکمانہ آواز گونجی
میں نے ایسے ہی کیا۔اب میں صرف ایک بلیک ٹاپر میں تھی۔میرے بال سر کے ہر جھٹکے سے
کندھوں پر گرتے
میرے ہاتھ میری چھاتیوں کو ٹاپر کے اوپر سے چھو رہے تھےوہاں سے یہ نیچے کو حرکت کرتے اور میری رانوں کو کھجاتے۔میرے اندر آگ لگی ہوئی تھی میں نے ایک ہاتھ سے اپنی ران کے اندرونی حصے کو رگڑا۔اور میرادوسرا ہاتھ میرے بالوں اور گردن تک پہنچا
میں نےایک تیز نظر اس کی طرف ڈالی۔میری آنکھیں اس سے رحم کی التجا کر رہی تھی۔کہ پلیز آؤاور مجھے چھوؤ
"تم کمال ہو……"
روشنیاں گل ہو گئیں۔اب میں ایک تاریک کمرے میں کھڑی تھی۔میں نے سر پیچھے کیا اور کچھ دیکھنے اور سننے کی کوشش کی۔جب مجھے اپنے پیچھے اس کی موجودگی کا احساس ہوا
وہ ایک قدم آگے ہوا اور مجھے کمر سے پکڑ کر پیچھے کیا۔میری گانڈ اس کے سخت لن سے رگڑ کھا رہی تھی
"ایسا لگا تم خود کو انجوائے کر رہی تھی۔……تمہاری آنکھوں میں دعوت تھی"وہ میرے بالوں میں منہ دیے بول رہا تھا
"ہاں"میرے منہ سے نکلا اس کا سینہ میری کمر سے جڑا ہوا تھا
"تم چاہتی ہو میں تمہیں چھوؤں"اس کے ہاتھ میرے جسم کے اطراف میں پھر رہے تھے۔جب اس کی انگلیاں میری جلد سے ٹکراتیں تو مجھ پر کپکپی طاری ہو جاتی
"ہاں۔پلیز"
واؤ کیا یہ میری آواز تھی۔شہوت میں ڈوبی ہوئی آواز جیسے کسی فحش اداکارہ کی۔میں نے سوچا
اس کی غراہٹ نے جیسے مجھے گھٹنوں پر جھکا دیا اور اب مجھے اپنی آواز کی کوئی پرواہ نہیں تھی اس نے اپنے ہاتھوں سے میری شرٹ کو اوپر اٹھایا اور سر سے نکال کر فرش پر پھینک دیا۔اس کے ہاتھ اب میرے ننگے پستانوں کو سہلا رہے تھے
میرے منہ سے ایک لمبی سانس نکلی جب اس نے زور سے میرے ایک نپل کو مسلا اس کا ایک ہاتھ میرے ٹانگوں کے درمیان پینٹی کے اوپر سے میری چوت پر پھر رہا تھا
"تم پہلے سے بہت گیلی ہو۔میں تمہیں اور زیادہ پرسکون دیکھنا چاہتا ہوں ۔مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔میں ابھی اور مزہ لینا چاہتا ہوں"
اس کے الفاظ اور اس طرح مجھے چھونے سے میں پاگل اور بےخود ہو رہی تھی میری سانس تیز تھی اور بےاختیار میرے منہ سےنکلا
"ہاں"
وہ مجھ سے الگ ہوا اور اچانک اطلس کے کپڑے کی ایک پٹی میری آنکھوں پر آئی۔میں نے اسے چھونے کے لیے ہاتھ اوپر کیا۔تو اجنبی کی آواز آئی
"نو۔نو۔کوئی تانکا جھانکی نہیں "
میں نے ہاتھوں کو نیچے گرایا۔میری دھڑکن تیز تھی۔جوش اور اضطراب سے میرا سارا جسم کانپ رہا تھا۔
اچانک میں اس کے بازوؤں میں جھول گئی۔میرا سر چکرا رہا تھااور دماغ ماؤف تھا۔مجھے اپنی بانہوں میں بھر کر وہ کچھ قدم چلا۔اور مجھے ایک نرم گدے پر لٹا دیا۔مجھے اس کی آواز نہ سنائی دی تو میں نے سر اوپر اٹھایا تاکہ وہ کچھ بولے
"آرام سے لیٹی رہو"
مجھے اپنے پیچھے اس کی آواز سنائی دی۔میں نےاپنا رخ اس کی آواز کی سمت موڑا اگرچہ میں اسے دیکھ نہیں سکتی تھی۔
میں لیٹ گئی اور انتظار کرنے لگی۔انتظار اور انتظار۔
مجھے بےچینی ہونے لگی۔جب ایک نرم اور مخمل جیسی چیز میری جلد سے ٹکرائی میرے رخساروں سے ہوتی ہوئی ناک کے نیچے تک
یہ ایک گلاب تھا جو پھسلتا ہوا میرے ہونٹوں تک آیا پھر ٹھوڑی کے نیچے,جیسےایک انگلی سے کوئی میرے جسم کو چھو رہا ہو۔گلاب میری گردن پر آیااور وہاں چھوٹے چھوٹے دائروں میں پھرنے لگا۔میں تیز سانسیں لے رہی تھی اور زیادہ جوش میں آ رہی تھی
ْ"تم کانپ رہی ہو"
یہ نوٹ کر کے وہ ہنسا۔اسے میرے ساتھ یہ سب کر کے مزہ آ رہا تھا
میں اپنی کپکپاہٹ پر قابو نہیں پا سکتی تھی۔میرا دل کسی دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔میری تمام حسیں بیدار تھیں ۔میں چاہتی تھی کہ انجان شخص میرے ساتھ اس سے بھی بڑھ کر کچھ کرے۔اس کے شہوانی کھیل نے مجھے پاگل کر دیا تھا
کیا میں ابھی تک کلب میں تھی؟یا میں کسی طرح کے چکر میں پھنس گئی تھی کسی خوبصورت انجانی دنیا میں کھو گئی تھی۔
میرے ننگے جسم پر پھسلتا ہوا گلاب اب میری رانوں تک پہنچ چکا تھا۔میرے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں .میں نے اپنی دونوں رانوں کو رگڑا ۔گلاب سے پیدا ہونے والی میٹھی سی خارش سے خود کو سکون دینے کے لیے ۔مجھے جاننا تھا اُسے۔اس لیے میں نے سوال کیا
"تم کون ہو؟"

میرے سوال کویکسرنظراندازکرتےہوئےاس کے ہونٹ نیچے آئے اور میرے ہونٹوں کو کچلتے ہوئے میرے سینے سے سانسیں چُرانے لگے۔اس کی زبان میرے منہ میں پھر رہی تھی جسے اس نے اچانک سے پیچھے کھینچ لیا۔میں اپنی رکی ہوئی سانسیں بحال کرنا چاہتی تھی۔اور دل اور زیادہ کے لیے تڑپ رہا تھا۔
میں اس کے ہونٹوں کے لمس کے لیے تڑپ رہی تھی جو اس نے اچانک سے میرے ہونٹوں سے علیحدہ کر دیے تھے آخر میرے التجا بھرے چہرے اور جسم کی بے چینی سے میرے اجنبی کو مجھ پر رحم آہی گیا
اس کے ہونٹ پھر سے میرے ہونٹوں پر آئے اور ہم ایسے بھوکوں کی طرح کِس کرنے لگے جیسے ہمیں ڈوبنے کے بعد اچانک سے سانس لینے کا موقع ملا ہو۔میں نے اس کے جسم کا وزن محسوس کیا۔اس کا ننگا جسم میرے جسم کو چھپائےہوئے تھا۔اور ہمارے ہاتھ ایک دوسرے کے ننگے جسموں پر پھر رہے تھے۔
خواہشِ نفسانی سے میں پاگل ہو چکی تھی۔میں کسی بھی قیمت پر اس آدمی سے چُدنا چاہتی تھی۔
میں اس کی شناخت سے واقف ہونا چاہتی تھی۔میرا اشتیاق بڑھ رہا تھا
میں نے ماسک اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے۔لیکن وہ درمیان میں آگیا"کوئی تانک جھانک نہیں ۔یاد ہے نہ؟" یہ کہتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ نیچے کیا۔اور اسے میرے سر کے اوپر کر دیا۔
اس نے اپنے لن کا دباؤ میری چوت پر بڑھایا۔میرے منہ سے ایک سسکی نکلی جیسے کوئی چھنال ہو
میری آہیں اور سسکیاں خارج کرتے ہونٹوں کو اس نے چوما
ہمارے ہونٹ جدا ہوئے اور اس نے سرگوشی کی
"کیا تم مجھے چاہتی ہو؟"
اپنی بےقابو سانسوں کے ساتھ میں شرم سے مسکرائی۔اس نے اپنا دباؤ پھر سے بڑھایا
"میں تمہیں جانتی تک نہیں ………"
اس نے مجھ پر اپنا دباؤ اور بڑھایا اور پوچھا
"تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا"
وہ تیزی سے میرے نپلز منہ میں ڈال کر چوسنے لگا۔پھر میری گردن پر آیا اس کے ان اچانک حملوں نے مجھے پاگل کر دیا"اب کیا تم مجھے چاہتی ہو؟"اس نے اپنا سوال دہرایا میرے منہ سے ایک باریک اور تیز آواز نکلی"ایم سوری۔یہ کیا تھا؟"وہ ہنسا جب کہ میں ابھی تک اپنی بکھری سانسوں پر قابو پا رہی تھی"ہاں۔پلیز۔میں تمہیں چاہتی ہوں "کسی فرمانبردار کتیا کی طرح میں نے اپنی ٹانگيں پھیلائیں اور اپنے چوتڑوں کو اوپر اٹھایا
اس کے لن کی نوک میری چکنی چوت کے دہانے کو کھولتے ہوئے اندر جانے لگی"اوہ میرے *دا"میں سسکی اس کا لمبا اور موٹا لن میری چوت کو کھولتا ہوا اندر جانے لگا۔تیز سانسیں لیتے ہوئے مجھے لگا جیسے میں فارغ ہونے والی ہوں ۔اور اس کا پورا لن ابھی میرے اندر بھی نہیں گیا تھا"اوہ……اوہ……" خود کو چھوٹنے سے روکنے کے لیے میں نے شدید کوشش کی لیکن جب اس کے لن کا منہ میرے اندر رحم سے ٹکرایا اور اس کے بالز چوت کے لبوں سے.تو میری برداشت جواب دے گئی اور میں جھٹکے کھاتی ہوئی اس کے لن پہ فارغ ہو گئی"اوہ۔یہ کیا……پہلے ہی" وہ ہنسا اور اپنے چوتڑوں کو آگے پیچھے حرکت دینے لگا۔اس کا لن میری چوت میں اندر باہر ہونے لگا۔فارغ ہونے کی وجہ سے گیلی چوت میں لن پھسلتا ہوا اندر جارہا تھا۔میں پھرسے جوش میں آنے لگی
میں سانس لینے کے لیے ہانپ رہی تھی اور ایک ہاتھ سے اس کی گانڈ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔اس نے اپنی رفتار تیز کر دی
"تمہیں مزہ آرہا ہے"
میں نے اس کے جواب میں اپنے چوتڑوں کو اوپر اٹھایا
"اچھا۔ اب میری باری اور ہاں۔تم آزاد ہو۔جتنی اونچی آواز میں چاہو بولو ۔کوئی ہمیں نہیں سُن سکتا"
مجھے ساتھ لیتے ہوئے وہ اپنے گھٹنوں پر اٹھا۔مجھے اوپر اٹھائے اور پھر نیچے اپنے لن پر گِراتے"اوہ *اڈ۔"میں چلائی جب اس کا لن میری چوت کی گہرائیوں میں اترا"تمہیں اپنی چوت کی گہرائیوں میں اترتا میرا سخت لن پسند آیا؟"مجھے اسی طرح اپنے لن کی سواری کراتے ہوئے اس نے سوال کیا
"ہاں ۔ہاں۔یہ مجھے پسند ہے اور چودو……"
میں نے اپنے ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھ کر خود کو سہارا دیا اور خود سے اپنی چوت کو اس کے لن پر اوپر نیچے کرنے لگی"ہاں۔ایسے ہی چودو میرے لن کو جیسے اب یہ تمہارا ہے "وہ جوش سے چلایا۔جب میں نےایک پوگو سٹِک کی طرح اس کی سواری کی"تمہیں پسند آیا جیسے میں تمہارے لن کی سواری کر رہی ہوں"میں نے اس سے پوچھا اور ایک لمبی آہ بھری میں پھر سے چھوٹنے والی تھی"اوہ ہاں۔اوہ……ایسے ہی کرو۔میں تمہاری چوت کو بھرنے والا ہوں"
"مجھے بچہ نہیں چاہئے"میں نے جیسے اسے یاد دلایا۔میں نہیں چاہتی تھی کہ آئندہ سال اسے بچے کی پرورش کے خرچے کے لیے ڈھونڈتی پھروں"اوہ ۔میں گیا"وہ چلایا اور مجھے گردن سے پکڑ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ دیے۔میں نے اس کے جھٹکے کھاتے لن سے نکلتا گرم لاوا اپنے اندر محسوس کیا۔اس کے ساتھ ہی میں خود بھی فارغ ہو گئی اور اور اس کا لن میرے گرم پانی میں ڈوب گیا
اس نے اپنے ہاتھ میری کمر میں دیتے ہوئے میرے جسم کو سہارا دیا۔اس کا لن ابھی بھی میرے اندر جھٹکے کھا رہا تھا ۔جب ہمارے ہونٹ الگ ہوئے ایک اونچی سسکی میرے منہ سے نکلی
"ہاں"
ہم آپس میں لپٹے ایک دوسرے کو چوم رہے تھے۔ہمارے جسم لذتوں کے آسمان سے واپس آ رہے تھے
جب ہماری حالت کچھ بہتر ہوئی۔اس نے مجھے نیچے اتارا اور کہا"میں تمہارے لیے کوئی کپڑا لاتا ہوں لیکن کوئی تانک جھانک نہیں چلے گی"
وہ ہنستا ہوا ایک گرم کپڑے کے ساتھ واپس آیا اور احتیاط سے میری ٹانگوں اور جسم کو صاف کرنے لگا۔میری سانس پھر تیز ہونے لگی تھی اور منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں"لگتا ہے تمہیں ابھی اور چاہئے"اس کا ایک ہاتھ رانوں سے پھسلتا ہوا میری چوت پر آیااور اسے سہلانے لگا"ہاں سر۔پلیز مجھے اور چاہیے" میں سسکی اس نے چوت کو سہلانا جاری رکھا"اچھی بات ہے ۔کیوں کہ مجھے بھی چاہیے۔وہ ہنسا اور مجھے الٹا کرتے ہوئے ٹانگوں اور ہاتھوں کے بل کر دیا میری گانڈ ہوا میں تھی
بغیر کچھ بھی کہے اس نے پیچھے سے اپنا سخت لن میری چوت میں گھسا دیا۔میں درداور مزے کی ملی جُلی کیفیت سے چیخی"اوہ ہاں۔میرے خیال میں تمہیں دوسری بار میں زیادہ مزہ آئے گا۔تمہاری چوت کمال کی ہے "وہ بولا اور میری گانڈ پر تھپڑ مارنے لگا
وہ مجھے گانڈ سے پکڑ کر اپنے لن پر دبا رہا تھا۔اور میں اس کے ہر دھکے پر سسک رہی تھی
میں مر کر جنت میں آگئی ہوں صرف یہی ایک بات میرے ذہن میں آرہی تھی



ایک نائٹ کلب میں ایک بالکل اجنبی شخص سے میں چدوا رہی تھی۔اور مجھے اس میں مزہ آرہا تھا
وہ بہت اچھے سے میری چدائی کررہا تھا۔ایسا لگتا تھا وہ مجھے جانتا ہو ۔میرے جسم سے واقف ہو۔لیکن میں جانتی تھی کہ یہ لن آج سے پہلے میرے اندر نہیں گیا۔
وہ مجھے مسلسل چود رہا تھا اور میں پھر سے فارغ ہونے والی تھی
"ہاں۔میں تمہارا پانی اپنے لن پر محسوس کرنا چاہتا ہوں"
"اوہ۔۔۔اوہ۔۔۔۔ہاں"میں منزل کے قریب تھی جب آگے مجھ پر جھکتے ہوئے اس کا ایک ہاتھ میری چوت پر پہنچا۔اور وہ بیدردی سے میری چوت مسلنے لگا۔تیز سانسوں کے درمیان میں چلائی"ہاں۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔"اس کے لن کو اپنے اندر دباتے میں فارغ ہو گئی
اس نے اپنا لن باہر نکالا اور مجھے واپس سیدھا لِٹا دیا۔میری ایک ٹانگ اپنے بازو پہ اٹھائی اور اپنا سخت لن دوبارہ میری چوت میں گھسا دیا
"آہ۔۔۔۔تم کمال کی ہو"
اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر آئے اور کسنگ کرتے ہوئے وہ ایک ردھم میں چودنے لگا اور کچھ دیر کی چدائی کے بعد ہم ایک ساتھ فارغ ہو گئے
میں بہت تھک چکی تھی نیند سے آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔مجھے مشکل سے اتنا یاد ہے کہ وہ مجھے کپڑے سے صاف کر رہا تھا۔اور میرا جسم اپنے بازوؤں میں بھرے مجھے پیار سے سہلا رہا تھا۔میں سو چکی تھی
صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں کپڑوں میں تھی اور وہ بھی اکیلی.یہ ایک پرائیویٹ کمرہ تھا جس میں ایک بڑا صوفہ پڑا ہوا تھا.میں حیرانی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔"یہ کیا ہے؟"میں نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ میں کیسے یہاں پہنچی
میں ایک کلب میں تھی پھر کسی پرائیویٹ روم میں ایک بالکل اجنبی شخص سے کسی گشتی کی طرح چدوایا آنکھوں پر پٹی کے ساتھ"اوہ۔نہیں"میں نے اپنی آنکھوں کو رگڑا۔صوفے پر ایک کاغذ کا نوٹ پڑا تھا
تمہیں چھوڑ کر جانا پسند نہیں لیکن افسوس مجھے کام پر جانا تھا ۔تم ایک پرسکون نیند میں تھیں اس لیے یہ نوٹ چھوڑے جا رہا ہوں۔پچھلی رات شاندار تھی۔میں چاہوں گا کہ تم دوبارہ میرے لیے ڈانس کرو اجنبی
"بس اتنا ہی۔"کوئی نام نہیں ۔نمبر نہیں ۔صرف رات شاندار تھی میں یہ دوبارہ کروں
میں نے اپنا سر ہلایا اور ایک شرمندگی بھرے سفر کے لیے خود کو تیار کیا جو مجھے اس کلب سے اپنی گاڑی تک کرنا تھا۔میں جلدی سے کمرے سے نکلی اور اپنی کار کی طرف بڑھی
میں گھر پہنچی۔اور خود کو اس زنا کے بعد صاف کیا جو میں نے شراب کے نشے میں بہہ کر کیا تھا۔میں روئی کیا میں اتنی ارزاں تھی کہ اس نے مجھے اپنا نام بتانا بھی پسند نہ کیا۔لیکن اس پر ہماری پہلے بات ہوئی تھی اور یہ صرف سیکس تھا۔گرما گرم سیکس اور وہ بھی ایک اجنبی کے ساتھ
موجودہ وقت میں کلب کے اندر۔

شراب کے نشے میں دھت مسلسل ناچتے ہوئے میں ایک فراخ اور مضبوط سینے سے جا ٹکرائی"سوری"میں اونچی آواز میں بولی اور اپنی آنکھیں وا کیں۔ایک سیاہ بالوں اور آنکھوں والا پرکشش آدمی جس کے چہرے پر جانی پہچانی ہنسی کھیل رہی تھی
ایک جانی پہچانی گہری مدھر آواز میرے کانوں سے ٹکرائی"کوئی بات نہیں اجنبی آپ ڈانس کرو اور کسی بھی وقت مجھ سے ٹکرا سکتے ہو"
میں خود کو مسکرانے سے نہ روک سکی۔میں نے خود کو موسیقی میں گم کر لیا ۔اس سے پہلے کہ میرا خوبصورت اجنبی پیچھے مجھے پرائیویٹ ڈانس کے لیے لے جائے۔
ختم شُد
 
Back
Top