قدرت کا معجزہ | Urdu Story World Ad Blocker Detection
Please turn off your ad blocker otherwise you won't be able to access Urdu Story World. Thanks!
What's new

Welcome!

Welcome to the World of Dreams! Urdu Story World, the No.1 Urdu Erotic Story Forum, warmly welcomes you! Here, tales of love, romance, and passion await you.

Register Now!
  • Notice

    فورم رجسٹریشن فری کردی گئی ہے----پریمیم ممبرشپ فیس 95 ڈالرز سالانہ----وی آئی پی پلس 7000 روپے سالانہ----وی آئی پی 2350 روپے تین ماہ اور 1000 روپے ایک ماہ

    Whatsapp: +1 631 606 6064---------Email: [email protected]

قدرت کا معجزہ

قدرت کا معجزہ

Sexy_dick_lhr

Well-known member
User ID
80
Joined
Dec 25, 2022
Messages
620
Reaction score
6,400
Points
93
Location
Lhr
Offline
ایک حاجی صاحب کافی بیمار تھے
کئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھے
اب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہو چکے تھے۔ ایک وقت میں آدھا سلائس ان کی غذا تھی۔ سانس لینے
میں بہت دشواری کا سامنا تھا۔
نقاهت اتنی که بغیر سہارے کے حاجت کیلئے نہ جاسکتے تھے۔
ایک دن چوہدری صاحب ان کے ہاں تشریف لے گئے
اور انہیں سہارے کے بغیر چلتے دیکھا تو بہت حیران ہوئے انہوں نے دور سے ہاتھ ہلا کر چوہدری صاحب کا استقبال کیا
چہل قدمی کرتے کرتے حاجی صاحب نے دس چکر لان میں لگاتے
پھر مسکرا کر ان کے سامنے بیٹھ گئے
ان کی گردن میں صحت مند لوگوں جیسا تناؤ تھا۔ چوہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟ کوئی دوا کوئی دعا کوئی پیتھی، کوئی تھراپی۔ آخر یہ کمال کس نے دکھایا
حاجی صاحب نے فرمایا میرے ہاتھ میں ایک ایسا نسخہ آیا ہے کہ اگر دنیا کو معلوم ہو جائے تو سارے ڈاکٹر، حلیم بیروزگار ہو جائیں۔ سارے ہسپتال بند ہوجائیں اور سارے میڈیکل سٹوروں پر تالے پڑ جائیں
چوہدری صاحب مزید حیران ہوئے کہ آخر ایسا کونسا نسخہ ہے جو ان کے ہاتھ آیا ہے۔
حاجی صاحب نے فرمایا کہ میرے ملازم کی والدہ فوت ہو گئی
میرے بیٹوں نے عارضی طور پر ایک چھ سات سالہ بچہ میری خدمت کیلئے دیا..میں نے ایک دن بچے سے پوچھا کہ آخر کس مجبوری کی بنا پر تمہیں اس عمر میں میری خدمت کرنا پڑی
بچہ پہلے تو خاموش رہا پھر سسکیاں بھر کر بولا کہ ایک دن میں گھر سے باہر تھا
میری امی ابو' بھائی' بہن سب سیلاب میں بہہ گئے میرے مال مویشی ڈھور ڈنگر' زمین پر رشتہ داروں نے قبضہ کرلیا۔
اب دنیا میں میرا کوئی نہیں۔
اب دو وقت کی روٹی اور کپڑوں کے عوض آپ کی خدمت پر مامور ہوں۔
یہ سنتے ہی حاجی صاحب کا دل پسیج گیا اور پوچھا بیٹا کیا تم پڑھو گے بچے نے ہاں میں سرہلا دیا
حاجی صاحب نے منیجر سے کہا کہ اس بچے کو شہر کے سب سے اچھے سکول میں داخل کراؤ۔
بچے کا داخل ہونا تھا کہ اس کی دعاؤں نے اثر کیا قدرت مہربان ہو گئی
میں نے تین سالوں کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا سارے ڈاکٹر اور گھر والے حیران تھے۔
اگلے روز اس یتیم بچے کو ہاسٹل میں داخلہ دلوایا اور بغیر سہارے کے ٹائلٹ تک چل کر گیا، میں نے منیجر سے کہا کہ شہر سے پانچ ایسے اور بچے ڈھونڈ کر لاؤ جن کا دنیا میں کوئی نہ ہو۔
پھر ایسے بچے لائے گئے انہیں بھی اسی سکول میں داخل کرادیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور آج میں بغیر سہارے کے چل رہا ہوں۔
سیر ہو کر کھاپی رہا ہوں اور قہقہے لگارہا ہوں۔ حاجی صاحب سینہ پھلا کر گلاب کی کیاریوں کی طرف چل دئیے اور فرمایا میں اب نہیں کروں گا جب تک کہ یہ بچے اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہو جاتے
حاجی صاحب گلاب کی کیاریوں کے قریب رک گئے اور ایک عجیب فقرہ زبان پر لائے
قدرت، یتیموں کو سائے دینے والے" درختوں کے سائے لمبے کر دیا کرتی ہے
 
فورم وزٹ کرنے کے لیے رجسٹر ہونا لازمی ہے
 
Back
Top