Ad Blocker Detection
Please turn off your ad blocker otherwise you won't be able to access Urdu Story World. Thanks!

دنیائے اردو کے نمبرون اسٹوری فورم پر خوش آمدید

اردو اسٹوری ورلڈ کے ممبر بنیں اور بہترین رومانوی اور شہوانی کہانیوں کا مزا لیں۔

Register Now

Afsana اشکِ وفا

Joined
Nov 24, 2024
Messages
311
Reaction score
20,541
Location
pakistan
Gender
Male
Offline
چِڑیوں کی چہچہاہٹ اور پرندوں کے سُریلے گیتوں نے ایک نئی صبح کا آغاز کیا ۔کل رات کی موسلادھار بارش کے بعد موسم نہایت خوشگوار ہوگیا تھا۔ سورج کی کِرنیں اپنی روشنی ہر سو پھیلا رہی تھیں۔ دِسمبر کی سرد ہوائیں ایک خوبصورت احساس کی طرح ہر شے کو حسین اِمتزاج بخش رہی تھیں۔ لان میں لگے لہلہاتے پھول اور پتّے مسکراکر اپنے نکھرنے کی نوید دے رہے تھے۔
موسم میں خُنکی شامل ہو گئی تھی۔ کھوئی کھوئی سی عرشیہ اپنے ٹیرس پہ کھڑی کسی گہری سوچ میں گُم تھی۔اپنے شانے پرکسی کے ہاتھ کا دباؤ محسوس کرکے وہ چونکی۔
‘کہاں کھوئی ہوئی ہو کن سوچوں میں گم ہو؟’ وہ اُسکے چہرے کو بغور دیکھتا ہوا بولا
‘ارے آپ کب آئے ؟ ناشتا کرلیا کیا؟’ عرشیہ نے پردے برابر کرتے ہوئے پوچھا۔ وہ ابھی ابھی جوگنگ کرکے واپس لوٹا تھا
‘ ہم ناشتا آپ کے بغیر کرلیتے؟’ اُس نے اُسکے بالوں کو نرمی سے چھوا
‘میں تو بس موسم کا جائزہ لینے یہاں آگئی تھی کتنا خوبصورت موسم ہورہا ہے نا !! ‘ کِھلی ہوئی مسکراہٹ عرشیہ کے چہرے سے ظاہر تھی۔ صبح کی مدھم روشنی، پھولوں کی دھیمی خوشبو اور گیت گاتے پنچھی اُسے اپنی کمزوری لگا کرتے تھے۔اُسے ہمیشہ سے ایسا موسم بہت دلکش لگتا تھا۔
‘تو کیا خیال ہے پھر؟ کیوں نہ ایسے خوبصورت موسم سے لُطف اُٹھائیں اور کہیں ایسی جگہ چلیں جہاں بس میں اور تم۔۔۔۔’
‘شارق۔۔!! میں آپکی شرارتیں خوب سمجھتی ہوں، موسم کا مزہ بھی لیںگے فالحال تو آپ ڈائننگ ٹیبل پر چلیںامّی ہمارا انتظار کررہی ہونگی، آپ نے مجھے بھی باتوں میں لگا لیا۔’
‘جو حُکم ملکئہِ عالیہ کا۔’ شارق نے سر کو ہلکا سا خم دیا اور محبت سے اُسکا ہاتھ تھام کر باہر کی جانب بڑھ گیا
************************


سُمیر یزدانی اور حیدر یزدانی دونوں بھائی تھے۔ دونوں ‘یزدانی پیلیس’ میں نیچے اوپر کے پورشنز میںرہتے تھے ۔ سُمیر یزدانی، حیدر کے بڑے بھائی تھے اور وہ اوپر والے پورشن میںاپنی بیوی زُنیرہ اور بیٹی عرشیہ کے ساتھ رہتے تھے۔ اُنکی تین ہی بیٹیاں تھیں جسمیں عرشیہ کا نمبر سب سے آخری تھا۔ وہ اُنکی سب سے چھوٹی اورلاڈلی بیٹی تھی۔ اُنکی بڑی دونوں بیٹیاں آئزہ اور مہوش شادیوں کے بعدکینیڈا میںمُقیم تھیں۔ جبکہ حیدر یزدانی نیچے والے پورشن میںاپنی بیوی انیلہ اور بیٹے شارق کے ساتھ رہتے تھے۔ شارق اُنکا اِکلوتاسپوت تھا۔ دونوں گھرانوں کے آپس میں بہت اچھے تعلُقات تھے۔ اِن سب نے اپنا آشیانہ بہت خوبصورتی اورڈھیر ساری مُحبتوں سے سجایا تھا۔اِنکا شُمار نہایت سُلجھے ہوئے گھرانوں میں ہوتا تھا۔
عرشیہ اور شارق ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم تھے۔اُن دونوں کی مُحبت کسی سے چُھپی ہوئی نہیں تھی۔ وہ دونوں بچپن سے ساتھ ساتھ ہی رہے تھے اور ہم عُمر ہونے کے باعث دونوں کی اسکولنگ بھی ایک ہی جگہ سے ہوئی تھی۔ دونوں نے ساتھ ہی ایم۔بی۔اے کیا تھا۔وہ دونوں زندگی کے ہر موڑ پر ایک دوجے کے سنگ رہے تھے۔
شارق کے ایم۔بی۔اے کرنے کے دوران ایک دِن اچانک حیدرصاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا جسے وہ برداشت نہ کر پائے اور اِس دارِ فانی سے رُخصت ہوگئے۔ وہ اپنی زندگی میں ہی شارق اور عرشیہ کی منگنی کر گئے تھے۔ اُنکا سارا بزنس اب شارق بخوبی سنبھال رہا تھا۔ کُچھ عرصے بعد دونوں کی شادی کردی گئی اور اب اُنکی شادی کو ایک ماہ ہو چلا تھا۔ عرشیہ شارق کے ساتھ بہت خوش تھی، یہ زندگی کا وہ خواب تھا جو دونوں نے ساتھ مِل کر دیکھا تھا۔لیکن کبھی کبھی نجانے کونسی ایسی بات تھی جو عرشیہ کو ایک انجانی سی پریشانی میں مُبتلاکر دیتی تھی۔ شارق محسوس کرتا تھا لیکن وہ چاہتا تھا کہ عرشیہ خود اُسے اپنی پریشانی بتائے۔
************************
عرشیہ مُلازمہ سے سارے کام کرواکراپنے کمرے میں آگئی تھی۔آٹھ بجنے والے تھے، شارق کے آفس سے آنے کا ٹائم ہو رہا تھا۔ وہ تّیار ہو کر کپڑے طے کرنے کی غرض سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
کچھ ہی دیر میں دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا ۔ اُسے کام میں مصروف دیکھ کر شارق کو شرارت سوجھی۔ آج اُس نے شارق کا پسندیدہ لِباس زیب تن کیا تھا۔ سُرخ و سفید فراک اور پاجامے میں ہلکے کام کا سوٹ پہنے وہ پہلے سے بھی زیادہ نِکھری نِکھری اور دلکش لگ رہی تھی۔ بالوں کو پُشت پر کُھلا چھوڑ دیا تھا۔
‘السّلامُ علیکُم’ عرشیہ نے اُسے آتا دیکھ کر سلام میں پہل کی
‘وعلیکُم السّلام! کیسے مِزاج ہیں ہماری مِسز کے؟ اور یہ کیا کام لیکر بیٹھی ہوئی ہو، مُلازمہ ہے نا اِن سب کاموں کیلئے۔’ شارق نے اُسکے ہاتھ میں پکڑی شرٹ لیکر سائیڈ میں پھینک دی۔
‘ارے! کیا کرتے ہیں شارق میں نے ابھی طے کی تھی وہ شرٹ۔ مُجھے آپکے کام کرنا اچھا لگتا ہے اور اگر سب کام مُلازمہ ہی کریگی تو پھر میں کیا کرونگی؟’ عرشیہ نے سارے کپڑے سائیڈ پر کردئیے جانتی تھی کہ اب شارق اُسے کوئی کام نہیں کرنے دیگا۔
‘تُم صرف مجھے یاد کیا کرو جیسے ہر وقت میں تُمھیں کرتا ہوں۔’ شارق نے اُسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر لبوں سے لگا لیا
‘ہیں! آپ مُجھے ہر وقت یاد کرتے ہیں آفس میں تو پھرکام کون کرتا ہے ؟’ عرشیہ نے اُسے چھیڑا۔ وہ اُسکی گود میں سر رکھ کر نیم دراز ہوگیا اور بولا
‘کام کون دیوانہ کرنا چاہتا ہے، ہم تو بس تُمھیں اور صرف تُمھیں یاد کرنا چاہتے ہیں۔’
‘پر اِن یادوں سے پیٹ تو نہیں بھرنے والا نا! چلیں مُجھے بہت بھوک لگی ہے۔آپ چینج کرلیں پھر کھانا کھاتے ہیں۔ ‘ عرشیہ اُسکی شرارتیں سمجھ گئی تھی تبھی اُٹھتے ہوئے بولی۔
‘یار کبھی تو رومانٹِک ہونے دیا کرو’ اُسنے مُنہ بناکر کہا جس پر عرشیہ کِھلکِھلاکر ہنس پڑی
‘اُس کیلئے ساری عُمر پڑی ہے، چلیں چلیں۔ مُجھے پتا ہے آپکو کتنی بھوک لگی ہوئی ہے ۔ آج میں نے آپکی پسندیدہ ڈِشز بنائی ہیں بِریانی اور شامی کباب۔’ وہ جانتی تھی کہ شارق بھوک کا کتنا کچّا ہے اِس لئے اُسے کھانے کا لالچ دیکر بہلانا چاہا پر شارق پر کوئی اثر نہ ہوا اُلٹا وہ مُنہ بناتا ہوا بولا۔
‘ہونہہ!شامی کباب! مُجھے نہیں کھانے!’ اُسکا موڈ سخت آف ہو چُکا تھا
‘اچھا نا! اب ناراض تو نہ ہو پلیز۔ اِتنے دل سے بنایا ہے میں نے سب کُچھ آپ کیلئے۔’ عرشیہ نے دھیرے سے اُسکے بال بکھیرے اور وہ ہمیشہ کی طرح اُسکی اِس چھوٹی سی ادا پر مان گیا۔
وہ ایسا ہی تو تھا۔۔
عرشیہ کی ایک مُسکراہٹ پر مان جایا کرتا تھا۔وہ اُسے خود سے بھی بڑھ کر چاہتا تھا۔ اپنی زندگی میں شارق نے اگرکسی لڑکی کو بے اِنتہا اور بے حِساب چاہا تھا تو وہ عرشیہ سُمیر ہی تھی۔ اور عرشیہ کا حال بھی اُس سے کُچھ الگ نہ تھا۔ اُسے شارق کے بغیر اپنا آپ نا مکمّل سا لگتا تھا۔ دونوں کی جان بستی تھی ایک دوسرے میں۔
************************
کِھڑکی میں کھڑی گُم سُم اور گہری سوچ میں ڈوبی عرشیہ کو دیکھ کر شارق اُسکے قریب چلا آیا۔
‘آشی! کیا سوچ رہی ہو؟’ وہ اُسے اکثر آشی کہہ کر مُخاطب کرتا تھا۔ آج شارق نے سوچ رکھا تھا کہ اُسکی پریشانی کی وجہ جان کر رہے گا۔ وہ کبھی بیٹھے بیٹھے کھو جاتی ۔ اچانک گم سم ہو جایا کرتی۔ بظاہر سب کُچھ ٹھیک تھا، وہ اسکے ساتھ بہت خوش باش بھی تھی لیکن کوئی ایسی بات ضرور تھی جو وہ اپنے دل میں چُھپا کر بیٹھی تھی اورجو کہیں نہ کہیں اسے پریشان کر رہی تھی۔
‘نہیں کسی سوچ میں نہیں۔ میں تو بس یونہی کھڑی تھی۔’ وہ نظریں جُھکا کر بولی جانتی تھی کہ اُسے جھوٹ بولنا بالکل نہیں آتا تھا
‘اِدھر آؤ! یہاں بیٹھو!’ وہ اُسکا ہاتھ پکڑ کر بیڈ کے پاس لے آیا اور بیڈ پر بِٹھا کر خود اسکے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا
‘کیا بات ہے؟ میں بہت دن سے دیکھ رہا ہوں تم کچھ پریشان لگتی ہو۔ تم مجھ سے شئیر کرسکتی ہو۔ بتاؤ کیا اُلجھن ہے؟’
‘نہیں! نہیں تو! ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔’ وہ اسکے ا ج اچانک پوچھ لینے پر کچھ گھبراگئی تھی
‘آشی! کیا تمھیں لگتا ہے کہ میں تمھاری پریشانی نہیں سمجھونگا؟ اگر ایسا ہے تو جب میں تمھیں اِس قابل لگنے لگوں تب مجھ سے اپنی پریشانی بانٹ لینا۔’ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھنے کو تھا جب عرشیہ نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے آگے بڑھنے سے روک لیا۔
‘نہیں پلیز! ایسا کچھ نہیں ہے شیری! میں بس ایک بات کی وجہ سے تھوڑی سی پریشان رہتی ہوں کہ کہیں اسکی مُجرم میں تو نہیں ہوں؟’
‘کس کی مجرم؟ کیا بتانا چاہ رہی ہو جان پلیز کُھل کر بتاؤ۔’ شارق سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
‘روحیل کی!’ عرشیہ نے اُسے آج سب بتانے کا تہےّا کر لیا تھا
‘روحیل ؟ یہ اپنا روحیل سکندر؟ دیکھو مجھے کُھل کر سب بتاؤ تبھی کچھ سمجھ پاؤنگا۔’ وہ اپنائیت سے بولا تو عرشیہ اسکے مقابل کھڑی ہوکر رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
‘آپ مجھے سمجھیں گے نا؟ میری بات کو غلط تو نہیں سمجھیں گے نا؟ میں نہیں چاہتی کہ کوئی چھوٹی سی بات بھی ہمارے اِس پیارے سے رشتے کو خراب کرے۔ میں آپکو کھونا نہیں چاہتی۔’ اُسکی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ وہ بہت حسّاس طبیعت کی لڑکی تھی۔
‘ارے میری جان! مجھ پر بھروسہ کرو اور کھل کر سب بتاؤ پلیز۔ ہو سکتا ہے میں تمھاری پریشانی دور کردوں۔’ عرشیہ کو اسطرح پریشان دیکھ کر وہ سچ میں کچھ گھبرا گیا تھا۔ شارق نے اسکے گِرد بازو حمائل کر کے اُسے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔
عرشیہ کے ذہن کے پردے پر ماضی کے واقعات ایک فلم کی طرح گردش کرنے لگے۔۔۔
************************
عرشیہ اور شارق کی اسکولنگ ایک ہی اسکول سے ہو ئی تھی۔ ان ہی کی کلاس میں ایک روحیل سکندر بھی تھا۔
وہ بہت خوبرو اور اچھی شکل و صورت کا مالک تھا۔
نہایت گوری رنگت۔۔
سُرخی مائل ہونٹ۔۔
کُشادہ پیشانی۔۔
سیاہ روشن آنکھیں۔۔ اُس پرگھنی پلکیں۔۔
سیاہ گھنے بال۔۔
غرض کہ وہ سب لڑکوں میں سب سے اچھے قد کاٹ کا لڑکا تھا۔
روحیل اور اسکی ایک چھوٹی بہن رابیل تھی۔ یہ دو ہی بھائی بہن تھے۔ اُن کے والدسکندرصاحب کا لیدر گارمنٹس کا بزنس پورے پاکستان میں پھیلا ہوا تھا۔ انکا شمار کراچی کے امیر ترین صنعتکاروں میں ہوتا تھا۔ اپنے ماں باپ کا اکلوتابیٹا ہونے کی وجہ سے وہ کافی لا اُبالی اور لاپرواہ طبیعت کا مالک تھا۔ پڑھائی میں بھی خاص اچھا نہ تھا اور اسی وجہ سے وہ عرشیہ کو ایک آنکھ نہ بھاتا ۔دوسری طرف وہ بہت ہی سلجھی ہوئی طبیعت کی ، اور ذہین ہونے کے باعث پڑھائی میں بھی بہت تیز تھی۔ہر ٹیچر کی آنکھ کا تارا۔ اِسی ذہانت اور قابلیت کی بدولت اسے ہر سال کلاس کا لیڈر بنادیا جاتا جسکی تمام تر ذمہ داریاں وہ بخوبی سنبھالتی تھی۔
عرشیہ کا مِزاج دھیما ضرور تھا لیکن وہ غصُے کی بہت تیز تھی۔ کسی کی غلط بات برداشت کرنا اُسنے سیکھا نہیں تھا۔ اُسکے غصُے کی وجہ سے ہی کسی بھی لڑکے کی اُس سے بات کرنے کی ہمُت نہیں ہوتی تھی۔اور خصوصاً روحیل سے تو اسے سخت چِڑ تھی، کیوں؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
نویں جماعت کے امتحانوں سے کچھ دن قبل عرشیہ شدید بیمار پڑگئی تھی۔ جب وہ کافی دن کی غیر حاضری کے بعد اسکول آئی تو سب ہی اسکے لئے فکرمند تھے اور اسکی خیریت دریافت کر رہے تھے۔ ایسے میں روحیل بھی اُسکے پاس چلا آیا۔
‘کیسی ہو تم؟ اب طبیعت کیسی ہے تمھاری؟’
‘ٹھیک ہوں!’ عرشیہ نے منہ موڑتے ہوئے ناگواری سے جواب دیا۔ اسوقت روحیل کی موجودگی اسے سخت زہر لگی تھی۔
‘اور تمھارا کام؟ وہ میں کردوں؟’ وہ اپنائیت سے پوچھ رہا تھا
‘جاؤ اپنا کام کرو۔ میرے کام کی فکر نہ کرو۔’
روحیل کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اُداس چہرہ لئے وہاں سے چلاگیا۔
***********************
اُنکی اسکول وین ‘روحیل وِلا’ کے آگے خراب ہوگئی تھی۔ وہ سب کو اپنے گھر کے اندر لے گیا کیونکہ وین ٹھیک ہونے میں ابھی کافی وقت لگنا تھا۔ سب خوشی خوشی اُسکے گھر کے اندر چل دئیے سوائے عرشیہ کے، وہ بار بار بولنے پر بھی اندر نہیں گئی تھی اور باہر ہی کھڑی ہو گئی ۔ اُسے اِسوقت شارق پر شدید تاؤ آرہا تھا جو اُسے باہر اکیلا چھوڑ کر خود اندر جاکر بیٹھ گیا تھا۔ ابھی عرشیہ دل ہی دل میں شارق کو گالیوں سے نواز رہی تھی کہ کسی نے چُٹکی بجا کر اُسے اپنی طرف متوجّہ کیا۔ وہ روحیل تھا۔ اُسے دیکھ کر عرشیہ کا غصّہ اور بڑھ گیا تھا۔
‘تم بھی چلو نا اندر، یہاں کیوں کھڑی ہو؟’
‘نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں!’ عرشیہ نے سپاٹ لہجے میں کہا
‘چلو پلیز کب تک یہاں کھڑی رہوگی، وین ٹھیک ہونے میں ٹائم لگ جائیگا۔’ روحیل نے اسے منانا چاہا
‘کہہ جو دیا کہ نہیں جانا بس، ہر بات میں بحث مت کیا کرو۔’ وہ غصّے سے بولی
‘اچھا ٹھیک ہے مت جاؤ ۔’ یہ کہہ کر وہ بھی اُس سے کچھ فاصلے پر ہی کھڑا ہوگیا
‘اب میرے سر پہ کیوں کھڑے ہو، جاؤ یہاں سے۔ اور پلیز اندر سے شارق کو بھیج دو بد تمیز مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر چلاگیا۔’ وہ اسکے ہٹ دھرمی سے وہیں کھڑے رہنے پر مزید غصّہ ہوئی تھی۔
‘میں۔۔۔۔’ روحیل کے اور کچھ بھی کہنے سے پہلے وہ اُسے گھورتے ہوئے بولی
‘دفع ہوجاؤ یہاں سے ابھی اسی وقت!’ روحیل اپنی اِس بے عِزّتی پر دانت پیستا تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
***********************
جب سے الوینہ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ روحیل عرشیہ کو پسند کرنے لگا ہے تب سے اُسکی نفرت بڑھتی جارہی تھی۔ اُسے وہ شخص ناقابلِ برداشت لگنے لگا تھا جو زبردستی اُسکی پُر سکون زندگی میںداخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اُسے اکثر نظر انداز کردیتی اور کبھی کھری کھری سنا دیتی ۔ پر عجیب شخص تھا وہ، عرشیہ کی کسی بھی بات کا بُرا نہیں مانتا تھا۔ اسکی ہر کڑوی کسیلی بات کو مسکرا کر سن لیتا اور اُسکا یہی انداز عرشیہ کو اور آگ لگادیا کرتا تھا۔
وقت اپنی رفتار سے چل رہا تھا یہاں تک کہ انکے اسکول کے آخری ایاّم بھی آگئے۔ میٹرک کے امتحانات سے فراغت کے بعد سب فئیروِل کی تےّاریوں میںبڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ اور پھر فئیروِل کا آخری دن بھی آپہنچا۔
پورے اسکول کی عمارت جدید برقی قمقموں سے جگمگا رہی تھی۔ گراؤنڈ کو بھی نہایت خوبصورتی اور نفاست سے سجایاگیاتھا ۔ گراؤنڈ کے بیچ و بیچ بڑا سا اسٹیج بڑی مہارت سے بنایا گیا تھا جس کی ڈیکوریشن سے اُس جگہ کی خوبصورتی اور کُھل کر سامنے آرہی تھی۔
بلیک جینز پر آف وائٹ فُل سلیوز کی شرٹ پہنے روحیل کا سراپا قابلِ ستائش لگ رہا تھا۔ سلیقے سے سجائے گئے گھنے بال اسکی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہے تھے۔ لیکن جس وجود کی روحیل کی آنکھوں کو تلاش تھی وہ دشمنِ جاناں ابھی تک سامنے نہ آئی تھی۔ وہ یونہی انتظار میں ٹہل رہا تھا جب الوینہ نے اسکے شانے پردھموکہ دیا۔
‘کیا بات ہے ہینڈسم اتنی عُجلت میں کیوں ہو؟’
‘یار وہ ابھی تک نہیں آئی۔’ روحیل نے بے خیالی میں کہہ ڈالا اور پھر خجل سا ہو گیا
‘کون؟ کس کی بات کر رہے ہو؟ میں سمجھی نہیں!’ الوینہ نے شرارت سے اسے دیکھا
‘بکو مت! سب کچھ جاننے کے بعد بھی انجان بننے کا کیا مطلب ہے؟ ‘ روحیل اسے گھورتا ہوا بولا۔ الوینہ اور وہ کلاس فیلوز ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے دوست بھی تھے۔ دونوں کے گھر بھی ایک دوسرے کے برابر برابر ہی تھے۔
‘ہا ہا ہا ہا۔۔ ارے میرے اچھے دوست میں تو مذاق کررہی تھی۔ ویسے تم نے کافی مشکل لڑکی پسند کرلی ہے پھر بھی میں دعا گو رہونگی کہ الّلہ ہمیشہ تمھارا ساتھ دے۔ اور میری ابھی نشاء سے بات ہوئی تھی وہ بس پہنچنے ہی والی ہوگی۔’ اور یہ کہتے ہی الوینہ نے گیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شرارت سے کہا
‘لو! آگئی تمھاری بد تمیز سی عرشیہ۔’ روحیل نے اسے گھور ا اور پوری طرح سے گیٹ کی طرف گھوم گیا
سیاہ رنگ کا چوڑی دار پاجامہ اور فراک۔۔
کان میں چھوٹے سے چمکتے ہوئے جُھمکے۔۔
چہرہ ہر قسم کے میک اپ سے بے نیاز۔۔ انتہائی سادہ حسن۔۔
کمر تک آتے لمبے بالوں کی نفاست سے چوٹی بنائے وہ کوئی اپسرہ لگ رہی تھی۔۔
کچھ شریر لٹیں اُسکے چہرے پر جھول رہی تھیں جن سے الجھتے ہوئے وہ بار بار انکو کان کے پیچھے اُڑس رہی تھی۔ سر پر دوپٹّہ ہونے کے باوجود لٹیں بار بار اُسکے خوبصورت چہرے کا احاطہ کر رہی تھیں۔ روحیل نے نوٹ کیا تھا اسکے سر پر ہمیشہ دوپٹّہ رہتا تھا۔
ایسا کیا تھا عرشیہ میں؟ روحیل نے اپنی سترہ سالہ زندگی میں اپنے آس پاس اس سے کہیں زیادہ حسن دیکھا تھا۔ جس کلاس سے وہ تعلق رکھتا تھا وہاں حسن ایک عام سی بات تھی، اُسکے اپنے خاندان میں ایک سے بڑھ کر ایک حسین لڑکی موجود تھی۔لیکن کوئی خاص بات تو تھی عرشیہ میں جو وہ اسکے معصوم حسن سے گھائل ہوا تھا۔ شاید سادگی حسن کو اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔


وہ یک ٹک اسے دیکھے جارہا تھا جب عرشیہ کی زوردار آواز سے وہ خیالوں کی دنیا سے لوٹ آیا۔
‘کہاں ہے وہ؟ شارق کے بچّے۔۔۔ ‘ وہ گلا پھاڑ کر چیخی اور اسکی چیخ سن کر سب اسکے قریب آگئے تھے۔ روحیل بھی اسکی جانب بڑھا تھا۔
‘کیا ہوا؟ کیوں چیخی تم؟’ نشاء نے فکرمندی سے پوچھا۔ سب حیران کھڑے تھے۔
‘کہاں ہے شارق؟ آج میں اُسے چھوڑونگی نہیں۔۔’
‘ارے ہوا کیا ہے کچھ تو بتاؤ لڑکی؟’ نشاء نے اسے گھورا
‘یار میں قریب ہی بیکری پر چاکلیٹس لینے اُتری اور شارق سے کہا کہ انتظار کرو میں بس ابھی ا ئی ۔وہ مجھے وہاں اکیلا چھوڑ کر خود یہاں بھاگ آیا۔ اگر مجھے راستے میں سجل نہ ملتی تو میں کیسے آتی یہاں وہ بھی اتنی تیاری کے ساتھ۔’ وہ پریشانی سے کہتے ہوئے وہیں قریب رکھے صوفے پر بیٹھ گئی
‘سوری یار معاف کردو’ شارق نجانے کہاں سے نمودار ہوا
‘دفع ہو جاؤ بد تمیز بات مت کرو مجھ سے۔ گھر چلو چاچا سے خوب ڈانٹ پڑواؤنگی تمھیں۔’ وہ اسے دھمکاتے ہوئے بولی
‘یار بابا کو بیچ میں کیوں لا رہی ہو، غلطی ہوگئی نا اب بلیک میل تو مت کرو بابا کے نام پر۔ آئی ایم سوری نا!’ وہ اتنی معصومیت سے بولا کہ عرشیہ کو ہنسی آگئی لیکن وہ اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولی۔
‘بہت ستاتے ہو تم! میں ڈر گئی تھی اگر کچھ ہو جاتا تو؟’
‘ارے ایسے ہی کچھ ہونے دے دیتا میں تمھیں۔ یار میں وہیں تھا بس تمھیں تنگ کرنے ادھر اُدھر ہوگیا تھا وہ تو سجل نے این ٹائم پر آکر سارا کھیل خراب کردیا۔’ عرشیہ اسکی بات پر کھلکھلا کر ہنس پڑی اورکچھ فاصلے پر کھڑے روحیل کو لگا جیسے کسی نے اس کے آس پاس پھول ہی پھول بکھیر دئیے ہوں۔ روحیل کی پُر تپش نگاہوں کو محسوس کرکے اسنے اپنا چہرہ اٹھا کر سامنے دیکھا اور کچھ لمحے دیکھتی رہ گئی۔
‘کیا بلا کاحسن ہے اس بندے میں۔’ اور اگلے ہی لمحے وہ اپنی سوچ پر لاحول پڑھتی اٹھ کھڑی ہوئی
سب گراؤنڈ کی طرف چلے گئے تھے۔ عرشیہ بھی گراؤنڈ کی جانب بڑھنے لگی جب روحیل اسکی راہ میں آگیا۔
‘یہ کیا بد تمیزی ہے؟’ وہ غصّے سے بولے
‘تم آج بہت اچھی لگ رہی ہو ۔’ وہ اپنائیت سے کہہ رہا تھا۔ آنکھوں میں چمک در آئی تھی۔
‘معلوم ہے مجھے۔ آپکو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔’
‘کبھی تو پیار سے بات کرلیا کرو۔’ وہ افسوس سے کہہ رہا تھا جس پر عرشیہ دبی دبی آواز میں چیخی
‘شٹ اپ! اپنی اوقات مت بھول جایا کرو۔ تم ہو کون جس سے میں پیار سے بات کروں۔ اینڈ فار گاڈ سیک آج میرا موڈ خراب مت کرو۔’
یہ کہہ کر وہ رکی نہیں تھی ۔ روحیل اسے بے بسی سے جاتا دیکھتا رہا۔نجانے وہ کیوں اتنا بے بس ہو جاتا تھا اُسکے سامنے۔
(اتنی نفرت۔۔ کیوں عرشیہ؟) وہ بس سوچ کر رہ گیا۔
***********************
فئیرول کی تقریب رات تک اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔
جہاں سب نے اس ایونٹ کو انجوائے کیا تھا وہیں سب کے چہروں پر افسردگی بھی تھی۔ نجانے کس کی قسمت کہاں لے جاتی۔ آج اُنکے ساتھ کا آخری دن تھا اور وہ سب یہاں سے بہت اچھی یادیں سمیٹ کر لے جارہے تھے۔ جہاں سب افسردہ تھے وہاں روحیل سب سے زیادہ گم سم اور اُداس تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اُسکی نہایت ہی قیمتی چیز اس سے دور جا رہی ہو۔ وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں عرشیہ کو دیکھے جارہا تھا جیسے اس منظر کو ہمیشہ کیلئے اپنی آنکھوں میں قید کرلینا چاہتا ہو۔ عرشیہ اور شارق سب سے ملکر نکلنے لگے تھے لیکن عرشیہ نے ایک نگاہِ غلط بھی روحیل پر نہ ڈالی۔ وہ اُس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن عرشیہ نے اُس سے ملنا تک گوارہ نہ کیا ۔ اِس عزّت افزائی پر روحیل بیچ و تاب کھا کر رہ گیا لیکن بول کچھ نہ سکا، دل کے ہاتھوں مجبور جو تھا۔ وہ عرشیہ کے سامنے خود کو ہمیشہ ایسے ہی بے بس اور کمزور محسوس کرتا تھا۔
‘تم یہاں رکو میں ڈرائیور کو دیکھ کر آتا ہوں، پتا نہیں گاڑی لیکر کہاں کھڑا ہے وہ!’ شارق نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا
‘نہیں شیری اتنے اندھیرے میں مجھے ڈر لگے گا، دیکھو تو کتنا سنسان ہورہا ہے۔’ اسنے جھرجھری لی
‘اوہو یار! تم اتنا ڈرتی کیوں ہو؟ پتا نہیں بعد میں میرا کیا ہونے والا ہے’ شارق نے شریر سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا جس پر عرشیہ جھینپ سی گئی۔ ابھی شارق کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ روحیل گیٹ سے باہر آتا دکھائی دیا۔ اسنے وہیں سے ہانک لگائی۔
‘اوئے روحیل سُن!’
اسے دیکھتے ہی عرشیہ کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوگئی اور ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں(اسکو بھی ابھی آنا تھا)
‘ارے تم لوگ ابھی تک یہیں ہو؟’ روحیل اُنکے پاس چلا آیا
‘ ہاں یار میں ذرا ڈرائیور کو دیکھ کر آتا ہوں، تم عرشیہ کے پاس رُکو اصل میں اِن محترمہ کو ڈر بہت لگتا ہے اندھیرے سے۔’ وہ شرارتی انداز میں بولتے ہوئے وہاں سے بھاگ گیا اور عرشیہ دانت پیس کر رُخ موڑ گئی (اسے بتانے کی کیا ضرورت تھی کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے) روحیل نے چونک کر عرشیہ کو دیکھا تھا (بظاہر اِتنی مضبوط نظر آنے والی لڑکی اندر سے اتنی ڈرپوک ہے) اور اس سوچ کے ساتھ ہی روحیل کے چہرے پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ اُمڈ آئی۔
‘عرشیہ!’ روحیل نے آواز دی جسے وہ نظر انداز کر گئی
‘عرشیہ!’ روحیل اِس بار تیز آواز میں بولا تھا اِسلئے جواب دئیے بِنا چارا نہ تھا۔ اسنے سپاٹ لہجے میں پوچھا
‘جی فرمائیے؟’
‘تم مجھے اتنا بُرا انسان کیوں سمجھتی ہو کہ کبھی سیدھے منہ بات تک نہیں کرتی؟ ایسا کیا کردیا ہے میں نے جو تم کبھی بھی پیار سے بات کرنے کے قابل نہیں سمجھتی مجھے؟’
‘اوہ پلیز روحیل! کیا ہر وقت پیار کا راگ الاپتے رہتے ہو، اسکے علاوہ بھی کوئی کام ہے تمھیں؟’ وہ ناگواری سے بولی
‘ہاں نہیں ہے کوئی اور کام! کسی کو پسند کرنا کوئی غلط نہیں ہے اور تم نے کبھی مجھے کچھ کہنے کا موقع نہیں دیا۔ کبھی سنا ہی نہیں کہ میرا دل کیا چاہتا ہے۔ میں تمھیں بتانا چاہتا ہوں کہ۔۔۔۔’
‘کیا مطلب ہے تمھارا؟ میں کوئی راہ چلتی گری پڑی لڑکی ہوں جو تمھیں موقع فراہم کرونگی!’ اسنے ایک ایک لفظ چبا کر بولا
‘ نہیں نہیں! میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا۔ تم غلط سمجھ رہی ہو۔ میں تو یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ۔۔۔’
‘بس بس! مجھے کچھ نہیں سُننا۔ اور آئندہ مجھ سے کوئی فضول بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے، سمجھے تم!’ اس بات پر روحیل کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
‘مطلب تمھیں اُمید ہے کہ آئندہ بھی ہم ضرور ملیں گے؟’ روحیل کے جملے میں چھپا طنز وہ بخوبی سمجھ گئی تھی
‘خدا کرے ہم کبھی نہ ملیں روحیل سکندر! مجھے تم جیسے نا قابلِ برداشت اور قابلِ نفرت شخص کو اپنی زندگی میں دوبارہ کبھی نہ دیکھنا پڑے!’
‘اور میں دعا کرونگا کہ ہم دوبارہ ضرور ملیں!’ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا اور اسکی یہ مسکراہٹ عرشیہ کو آگ ہی لگا گئی تھی
‘ہونہہ! تم جیسوں کی تو دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔’ الفاظ تھے یا نشتر۔۔ اُسکا چہرہ تذلیل کے احساس سے سُرخ پڑگیا
‘تم! تم سمجھتی کیا ہو اپنے آپ کو؟’
‘میں جو بھی سمجھتی ہوں وہ تمھیں بتانا ضروری نہیں ۔ اب میرا خیال ہے کہ تمھیں یہ آخری ملاقات ہمیشہ یاد رہے گی۔ خدا حافظ!’
یہ کہہ کر وہ رُکی نہیں تھی، شارق بھی گاڑی لیکر وہاں پہنچ چکا تھا۔ روحیل پیر پٹختا اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔وہ تینوں ہی نہیں جانتے تھے کہ آگے آنے والے کچھ سالوں میں قسمت ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والی ہے۔ کیونکہ ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو انسان سوچتا ہے، جو اِنسان چاہتا ہے بلکہ کبھی کبھی انسان قسمت کے ہاتھوں مات کھا جاتا ہے پھر وہ دعائیں بھی قبول ہوجاتی ہیں جن کا قبول ہوناہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔
************************
زندگی کے چار سال بے حد مصروف لیکن مزے میں گزرے تھے۔ عرشیہ اور شارق نے حال ہی میں شاندار نمبروں سے گریجویشن مکمل کیا تھا۔ گریجویشن مکمل ہونے کے ساتھ ہی دونوں کی منگنی کی رسم طے پائی تھی۔
‘اُف اُف! ! شارق بھائی کی تو خیر نہیں آج!’ وانیہ عرشیہ کو دیکھتے ہی اسکے گلے لگی تھی۔ اِن دونوں کی دوستی کالج میں ہوئی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے گہری دوستی میں تبدیل ہوگئی تھی۔
‘کہو پھر کیسی لگ رہی ہے ہماری عرشیہ؟’ عرشیہ کی بڑی بہن آئزہ نے اُسکو پچکارتے ہوئے پوچھا۔ آئزہ اور مہوش دونوں منگنی میں شرکت کیلئے پاکستان آئی ہوئی تھیں۔
‘ہائے آپی کیا بتاؤں! میں نے تو ہمیشہ عرشیہ کو اتنا سادہ دیکھا ہے کہ آج اس روپ میںدیکھ کر سچ میں شارق بھائی سے جیلسی ہورہی ہے۔’
عرشیہ نے حیران ہوکر اُسے دیکھا۔
‘کیوں؟ اُن سے جیلسی کیوں؟’
‘کہ کاش میں لڑکا ہوتی تو کبھی تمھیں اُنکا نہ ہونے دیتی’ وانیہ ایسی آنکھیں پٹپٹا کر بولی کہ سب کی ہنسی نکل گئی۔ آئزہ اُسکا گال تھپتھپا کر عرشیہ کو باہر لانے کا اِشارہ کرکے چلی گئیں اور اُنکے جاتے ہی عرشیہ نے اُسکے شانے پر ایک مکّا رسید کیا۔
‘اوئی ماں! کتنی زور کا مارا ہے ظالم۔ بعد میں شارق بھائی کا بھی یہی حال کروگی کیا؟’
‘وہ تمھاری جیسی باتیں نہیں کرتے!’ عرشیہ نے ہنستے ہوئے کہا
‘پھر کیسی باتیں کرتے ہیں وہ جناب؟’ وانیہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئی جس پر عرشیہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ محبت وہ خوبصورت احساس ہے جس کے مِلتے ہی اُس رِشتے سے جُڑے لوگوں کے ساتھ گُزرا ہر پل پُر اثر اور پُر رونق ہوجاتا ہے۔یہی حال عرشیہ کا بھی تھا۔ شارق سے جُڑی اُسکی محبت بہت خالص تھی۔وہ آج بہت زیادہ خوش تھی اور یہ خوشی اُس کے گُلاب رنگ چہرے سے صاف ظاہر تھی۔ وہ اسے سہارا دیتے ہوئے باہر لان میں لے آئی جہاں اسٹیج بنایا گیا تھا۔
 
پرپل اور دھانی کلر کا بھاری کام کا غرارہ پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ دھیمے دھیمے قدم اُٹھاتی وہ شارق کے دل کی نگری میں عجب ہلچل مچا رہی تھی۔ آج سے پہلے بھی شارق نے اسے بہت بار دیکھا تھا، بچپن سے وہ نظروں کے سامنے رہی تھی لیکن آج کچھ خاص تھا جو وہ آنکھوں کے راستے سیدھا دل میں اُتر رہی تھی۔ سُنہری آنکھوں پر خوبصورت سا میک اپ اُسکے صبیح چہرے کی خوبصورتی کو اور بڑھا رہا تھا۔ شارق کی گہری نگاہیںاُسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ اسکی پُر تپش نگاہوں کو محسوس کرکے عرشیہ نے بھی اسے پورے ذوق سے دیکھا تھا۔
کتنا اچھا لگ رہا تھا وہ۔۔
لائٹ براؤن کڑھائی والے کُرتے پاجامے میں۔۔
نفاست سے جمائے گئے بال اور اُس پر اُسکی ہنستی مسکراتی دو گہری براؤن آنکھیں۔۔
کتنا وجیہہ لگ رہاتھا وہ۔۔
آج دونوں کے دل ایک نئی لے پر دھڑک رہے تھے۔۔
آج کی شام اپنی تمام تر رعنائّیوں کے ساتھ جلوہ گر تھی۔ عرشیہ کو اسٹیج پر شارق کے برابر بِٹھا دیا گیا تھا۔
‘بیوٹی فُل آشی!’ شارق نے مسکراتی نظروں سے اُسے سراہا۔ عرشیہ بلش کر گئی اور مسکرانے لگی
‘ایسے کیا دیکھ رہے ہیں شارق بھائی؟پری لگ رہی ہے نا ہماری عرشیہ ؟’ وانیہ نے پُر جوش انداز میں پوچھا اور عرشیہ کے کان میں سرگوشی کی
‘دیکھا! میں نے کہا تھا نا دیکھتے رہ جا ئیںگے۔ اب دیکھو لگ رہا ہے جیسے اپنی آنکھیں تمھارے اوپر گِروی رکھوائی ہیں۔’ سرگوشی اتنی تیز تھی کہ شارق نے بخوبی سُنا اور اُسکا چھت پھاڑ قہقہہ فضاء میں گونج اُٹھا۔
‘ہاہاہاہا! پھر کیا خیال ہے وانیہ، نکاح بھی آج ہی پڑھوالوں؟’ عرشیہ نے اپنے چہرے کو مزید جُھکا لیا تھا ، آج پہلی بار اُسے شارق کے جُملے نروِس کر رہے تھے۔
‘ارے واہ نیک کام میں دیر کیسی؟ میں ابھی۔۔۔ ‘ اِس سے پہلے کہ وانیہ آگے کچھ بولتی عرشیہ نے اُسکی کمر پر چُٹکی لی
‘ چُپ ہو جاؤ ورنہ بہت پِٹوگی!’ اوراِس جُملے پر شارق کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مُشکل ہو گیا ، وہ عرشیہ کے اِس روپ پر دل و جان سے فِدا ہو گیا تھا۔
‘چلو اِس نیک کام کو کچھ عرصے کیلئے مُلتوی کردیتے ہیں، ابھی صرف منگنی کر لیتے ہیں۔’ شارق آج بہت شوخ ہورہا تھا ۔ اُسکا یہ انداز بالکل نیا تھا جو عرشیہ کو شرمانے اور جھینپنے پر مجبور کر رہا تھا۔ آج دونوں نے ایک دوسرے کے نام کی انگوٹھی پہن کر اپنا آپ ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے کیلئے لکھ دیا تھا۔
*************************

الارم کی تیز آواز پر وہ ہڑبڑا کر اُٹھی ۔
‘اُف ! یونیورسٹی کا پہلا دِن اور اتنی دیر!’
وہ جلدی سے بیڈ سے اُتری اور وارڈروب سے پریس کئے کپڑے کھینچ کر باتھ روم کی طرف بھاگی۔ دس منٹ میں نہا کر وہ باہر آئی اور ساتھ ہی بال ڈرائیر سے خشک کرکے وہ ابایا اوراِ سٹول پہننے لگی جب دروازہ کھول کر شارق اندر آیا ۔
‘لڑکی! کتنی دیر لگا دی تم نے۔ آج ہمارا یونیورسٹی کا پہلا دن ہے اور ہم اچھے خاصے لیٹ ہو چکے ہیں۔ ‘
‘سو سوری! پتا نہیں کیسے آنکھ نہیں کُھلی۔ میں بس دو منٹ میں نیچے آرہی ہوں آپ جب تک گاڑی نکالیں۔’
شارق نیچے چلاگیا اور وہ بھی اسکے پیچھے بیگ اُٹھا کر تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آئی ۔
‘بیٹا ناشتا تو کرتی جاؤ’ زُنیرہ بیگم نے فکرمندی سے کہا۔ عرشیہ نے جلدی میں صرف جوس پیا تھا
‘ماما یونیورسٹی میں کچھ کھالونگی، آل ریڈی بہت لیٹ ہوگیا ہے۔ لو یو، بائے!’ زُنیرہ بیگم کا رُخسار چوم کر وہ باہر کی طرف بھاگی
‘پتا نہیں کیا بنے گا اِس لڑکی کا! ذرا جو اپنا خیال رکھتی ہو!’ انھوں نے مسکرا کر اُس پر دعائیں پڑھ کر پھونکی اور شارق کو کال کرکے اسکو کچھ کھلانے کا کہنا نہ بھولی تھیں۔
یونیورسٹی پہنچ کر شارق گاڑی پارک کرکے آنے کا کہہ کر گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔ وہ تیزی سے اپنی کلاس کی طرف بھاگی اِتنے میں اُسکا فون بج اُٹھا۔ وانیہ کا نمبر اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔
‘کہاں ہو یار تم لوگ؟’
‘بس پہنچ گئے، تم کلاس سے باہر آؤ۔’ عرشیہ نے فون بند کرتے ہی دوڑ لگادی۔ وہ اپنی دُھن میں کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی جب بہت زور سے کسی سے ٹکرائی ۔
‘اُف! اندھے ہیں کیا آپ، دِکھائی نہیں دیتا؟’ عرشیہ نے بمشکل خود کو سنبھالا
‘آنکھیں تو آپ کے پاس بھی ہیں، میں نہیں دیکھ پایا تو آپ دیکھ لیتیں!’ وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ اُسے ایک لمحہ لگا تھا سامنے کھڑی لڑکی کو پہچاننے میں۔
اِتنی شناسا آواز۔۔
عرشیہ نے تیزی سے نظریں اُٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا ۔۔
وہ روحیل تھا۔۔ روحیل سِکندر!
اُسکے کان میں چار سال پہلے کا جُملہ بازگشت کرنے لگا تھا۔۔ ‘اور میں دعا کرونگا کہ ہم دوبارہ ضرور ملیں!’۔۔
‘اُف۔۔’ وہ چکرا کر رہ گئی
‘کیا ہوا عرشیہ؟ تم ٹھیک تو ہو؟ ‘ وانیہ نے اُسے پکڑ کر قریب رکھی بینچ پر بِٹھادیا
‘یا وہشت! کون پیچھے لگ گیا تھا تمھارے جو تم دیوانہ وار بھاگ رہی تھیں؟’ شارق تیزی سے اُسکی طرف آیا اور خفگی سے اُسے گھورنے لگا۔ خیال آنے پر پیچھے کھڑے شخص سے معذرت کیلئے پلٹا۔
‘یار معاف کرنا یہ میری کزن۔۔۔ ارے! روحیل تو!’ ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ دونوں بغل گیر ہوئے ۔ جب تک عرشیہ اپنے آپکو سیٹ کرکے کلاس میں داخل ہوچکی تھی۔
‘کہاں تھا یار تو؟ تجھے پتا ہے ہم پورے چار سال بعد مِل رہے ہیں۔ کوئی خیر خبر نہیں تھی کہاں رہا اِتنا عرصہ؟’ شارق نے اُس سے شکوہ کیا
‘یہ عرشیہ تھی نا؟’ روحیل نے پوچھا
‘ہاں نا! کیا تو عرشیہ کو بھول گیا ہے؟ ‘ روحیل جو اپنی سوچوں میں گم تھا ۔اُس کے سوال پر چونک سا گیا
(عرشیہ! اُسے کیسے بھول سکتا ہوں ! چار سال دور رہ کر بھی ہر پل وہ میری آنکھوں کے سامنے رہی ہے ) روحیل کو لگا جیسے کسی نے اُسے تپتے صحرا سے لاکر ٹھنڈی چھاؤں میں کھڑا کردیا ہو۔ محبت کی ہلکی ہلکی پوھار پھر سے ہونے لگی تھی۔
‘بھول گیا کیا؟ سب سے زیادہ ڈانٹ تو نے ہی تو کھائی ہے اُس سے اسکول کے زمانے میں پھر بھی ذہن پہ زور ڈال رہا ہے۔ ‘ شارق نے آنکھ دباتے ہوئے کہا تو روحیل کی بھی ہنسی نکل گئی۔
‘شارق بالکل نہیں بدلا تُو!’
‘ہا ہا ! نہیں یار اب تو کافی بدل گیا ہوں، تھوڑی سنجیدگی بھی لانی پڑی ہے اپنے اندر۔’ شارق کے ذہن میں عرشیہ کا سراپا لہرا گیا
‘وہ کیوں؟’ روحیل نے حیرانی سے پوچھا
‘وہ پھر کبھی بتاؤںگا ابھی کلاس میں چلتے ہیں’ وہ دونوں عرشیہ اور وانیہ کے پیچھے والی بینچ پر جاکر بیٹھ گئے تھے
‘اور بتا! تو غائب کدھر تھا اتنے عرصے سے؟’ شارق کو دلی خوشی ہوئی تھی اُس سے مِل کر
‘کچھ عرصہ پہلے ہی اِنگلینڈ سے گریجویشن کرکے لوٹا ہوں۔ چار سال وہیں رہا اور اب اِتنا بھی نا لائق نہیں رہا جتنا لوگ مجھے سمجھتے تھے۔’ ‘لوگ’ پر کافی زور دیا گیا تھا جس پر شارق ہنس ہنس کر دوہرا ہوگیا ، وہ اُسکا طنز سمجھ گیا تھا اور عرشیہ کو یہ سن کر شدید غصّہ آیا ۔ وہ یقیناً اُسے جلانے ہی کہہ رہا تھا۔ اِس سے پہلے کہ شارق کچھ لُقما لگاتا عرشیہ غصّے سے پلٹی۔
‘مسٹر شارق حیدر! اگر آپ اور آپکے یہ دوست اپنی زبان کو تھوڑا کنٹرول میں رکھیںگے تو ہمیں لیکچر سمجھنے میں آسانی ہوگی!’
‘جو حکم آپکا!’ شارق معصومیت سے بولا اور روحیل کی طرف جُھک کر سرگوشی کی
‘جب یہ بہت غصّے میں ہوتی ہے نا تب میرا پورا نام لیتی ہے۔’ عرشیہ نے پلٹ کر قہر برساتی نظروں سے اُسے گھورا تو شارق واقعی سٹپٹا گیا
‘اچھا سوری!’ شارق نے بات ختم کی
روحیل کی مسکراہٹ کچھ اور بھی گہری ہوگئی تھی (بالکل بھی نہیں بدلی۔۔)
**************************
رابیل کتابوں میں سر دئیے بیٹھی تھی جب باہر اُسے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی۔
‘رابی ! رابی! رابی!’ دھڑام سے دروازہ کھول کر روحیل اندر داخل ہوا
‘رابی!’ وہ تقریباً بھاگتا ہوا بیڈ تک پہنچا اور رابیل کو ہاتھوں سے تھام کر بیڈ سے نیچے اُتار دیا۔ وہ اُچھل پڑی
‘کیا کر رہے ہیں جانی بھائی، میں گِر جاؤنگی۔ آخر ہوا کیا ہے پتا تو چلے؟’
‘رابی! میری جان آج میں بہت خوش ہوں! بہت بہت خوش!’ روحیل کی حد درجہ خوشی پر وہ فدا ہی تو ہو گئی تھی۔ اُسے اپنا یہ اکلوتا بھائی جان سے بڑھ کر عزیز تھا۔
‘ماشاء الّلہ! آپ ہمیشہ ایسے ہی مسکراتے رہیں اور آپکی خوشیوں کی عُمر دراز ہو۔’ ا س نے ہمیشہ اپنے بھائی کی دائمی خوشیوں کی دعا کی تھی
‘میری پیاری بہن! صرف تمھاری اور ممی کی دعاؤں کی وجہ سے آج میں یہ دن دیکھ پایا ہوں۔ آہ! چار سال کا طویل انتظار اب ختم ہوا ہے۔’
وہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتا بیڈ پر نیم دراز ہوگیا۔ رابیل نا سمجھی کی کیفیت میں گھری تھی۔
‘اُٹھ کر بیٹھیں یہاں اور مجھے بتائیں کہ آخر چکّر کیا ہے؟ ایسا کیا دیکھ لیا آپ نے آج؟’
‘عرشیہ!!’ روحیل کا اتنا کہہ دینا کافی تھا اور وہ سب سمجھ گئی ۔ وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی اور اگلے ہی لمحے وہ خوشی سے بے قابو ہوتے ہوئے بولی
‘سچ؟ آپ سچ کہہ رہے ہیں؟ میری بھابھی مل گئیں !’ روحیل کی ہنسی چھوٹ گئی
‘ہاہاہا! ابھی سے وہ تمھاری بھابھی کیسے ہو گئی؟ ابھی تو میں نے اُسے اپنے دل کی بات بتائی بھی نہیں ہے۔’ وہ کچھ سوچ کر بولا۔ اُسے چار سال پہلے کی رات آج بھی یاد تھی۔
‘ارے میرے بھائی کو دیکھ کر وہ اپنے آپ مان جائینگی۔ آپ دیکھئے گا وہ میری بھابھی ضرور بنیںگی۔ اچھا بتائیں نا اُن کو کہاں دیکھا، کیا کہا، اُف! میں تو اتنی ایکسائٹڈ ہورہی ہوں۔ میں کب مل پاؤنگی ان سے؟ اُن کو گھر کب لائیںگے؟ ‘ رابیل کے سوالات کی بوچھاڑ دیکھ کر وہ ہنس پڑا
‘ہائیں! پگلی ابھی کیسے گھرلے آؤں۔ ذرا دھیرج دھیرج!’ اُس نے مسکرا کر کہا اور آج کی ساری روداد رابیل کے گوش گزار کردی۔ پھر ایک ٹھنڈی سانس بھر کر بولا۔
‘تم دعا کروگی نا میرے لئے گُڑیا؟’
‘ہاں ہاں کیوں نہیں! عرشیہ کو ہر صورت اِس گھر میں میری بھابھی بن کر آنا ہی پڑیگا۔ مجھے الّلہ پر پورا بھروسہ ہے!’
روحیل اپنی چھوٹی بہن کی بے شمار محبت پر نہال ہوگیا تھا۔ وہ رابیل کو ہنستا چھوڑ کر حرا بیگم کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ آخر اُنھیں بھی تو یہ خوشخبری سنانی تھی۔
**************************
مئی کی چِلچلاتی دھوپ ہر شے کو ایک تپش کا احساس دے رہی تھی۔یونیورسٹی میں موجودتقریباً سب ہی اِسٹوڈنٹس دھوپ کی تپش سے بچنے جگہ جگہ لگے گھنے درختوں کی گہری چھاؤں اورمختلف کوریڈورز میں بیٹھے تھے۔ وانیہ اور عرشیہ کلاس اٹینڈ کرکے نکلے اور ایک گھنے سایہ دار درخت کے نیچے اپنی کتابیں اور بیگ رکھ کر بیٹھ گئے۔ شارق آج نہیں آیا تھا۔ کل رات سیڑھی پر پاؤں پھسلنے کی وجہ سے موچ آگئی تھی اور وہ دو تین دن کیلئے مکمل بیڈ ریسٹ پر تھا۔ اسی وجہ سے عرشیہ کا بھی یونیورسٹی میں آج دل نہیں لگ رہا تھا، اُسکا سارا دھیان شارق کی طرف تھا۔ اُس نے ساری کتابیں ایک طرف سِرکا دیں اور رجسٹر بند کرکے اُس پہ پین تقریباً پٹخا تھا۔ وانیہ نے چونک کر دیکھا۔
‘خیریت؟ کس کا غصّہ اس بیچارے پین پر اُتارا جارہا ہے؟’ عرشیہ نے زبردستی کی مسکراہٹ دی
‘سانو ایک پل چین نہ آوے!
سانو ایک پل چین نہ آوے!
سجنا تیرے بِنا!’
وہ بلند آواز میں گنگنارہی تھی ۔ عرشیہ نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے گھورا
‘یہی وجہ ہے نا آپکے اُداس ہونے کی؟’ وانیہ نے شرارت سے اُسے ٹہوکا دیا
‘جی نہیں! ایسی کوئی بات نہیں ہے وہ تو بس ایسے ہی۔۔۔’
‘ہاں ہاں کہہ دو کہ گرمی کی وجہ سے دماغ گرم ہو رہا ہے’ وانیہ نے مصنوعی خفگی سے اُسے دیکھا
‘ہاں نا! چلو تم سمجھی تو!’ عرشیہ اُسے چڑانے کیلئے انجان بن کر بولی اور وہ واقعی چڑ گئی تھی
‘غضب خُدا کا! کبھی جو یہ لڑکی کُھل کر سامنے آئے۔ چلو بتاؤ شارق بھائی کیسے ہیں اب؟’
عرشیہ اُسکی بات پر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور جیسے ہی سامنے نظر پڑی روحیل مسکراتی نظروں سے کچھ فاصلے پر کھڑا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اُسکی ہنسی پل بھر میں غائب ہوئی تھی پھر وہ قدرے سنجیدگی سے بولی۔
‘زیادہ اچھی نہیں ہے۔ ابھی ڈاکٹر نے اُنھیں مکمل بیڈ ریسٹ کا کہا ہے کچھ دن ۔’
‘اوئے اگر میں غلط نہیں ہوں تو یہ روحیل ہی ہے نا؟’ عرشیہ نے اسکی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور رجسٹر کھول کر نوٹس بنانے لگی
‘اوہ! یہ ہینڈسم تو ہماری طرف ہی آرہا ہے!’ اُسکی بات پر عرشیہ نے چونک کر سر اُٹھایا ، وہ واقعی اِس طرف آرہا تھا۔ عرشیہ کا آج ویسے ہی کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ شارق کی طبیعت کی وجہ سے وہ پہلے ہی کافی پریشان تھی اور ایسے میں روحیل کو دیکھ کر اُسکا رہا سہا موڈ بھی غارت ہوگیا تھا جسے وانیہ نے بھی نوٹ کیا تھا۔
‘السّلامُ علیکُم!’ روحیل نے دونوں کے قریب پہنچ کر مؤدبانہ انداز میں سلام پیش کیا اور وہیں قریب پڑے پتھّر پر بیٹھ گیا
‘وعلیکُم السّلام!’ وانیہ نے خاصی گرمجوشی سے جواب دیا جبکہ عرشیہ خاموشی سے کتاب پر جُھکی رہی
‘سلام کا جواب دینا ہر کسی پر فرض ہے غالباً!’ اُسکی بات پر عرشیہ نے سر اُٹھا کر اُسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے نظریں جُھکا گئی۔ کیسی والہانہ چمک تھی اُسکی روشن آنکھوں میں کہ وہ پل بھر بھی نظر نہ ملا سکی ۔ وہ کچھ دیر اُسکے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر بولا۔
‘شارق کیسا ہے اب؟’ عرشیہ نے اِس سوال کو بھی سُنی ان سنُی کردیا
‘کیا آپکی دوست کے منہ میں زبان نہیں ہے ؟’ روحیل نے شوخی سے وانیہ سے دریافت کیا۔ وہ بھی عرشیہ کی اِس ہٹ دھرمی پر کافی شرمندہ ہوئی تھی تبھی اُسکے کان میں سرگوشی کی۔
‘جواب تو دو کیا بد تمیزی ہے یہ؟’
‘نمبر ہے نا آپکے پاس فون کرکے خود ہی پوچھ لیں!’ عرشیہ تُنک کر بولی اور جلدی جلدی کتابیں سمیٹ کر ابایا جھاڑتے ہوئے کھڑی ہو گئی
‘وانیہ تمھیں آنا ہے تو آجاؤ، میں گھر جا رہی ہوں۔’
‘تُم ذرا بھی نہیں بدلیں اور میں نے کہا تھا نا کہ ہم دوبارہ ضرور ملیںگے، اب دیکھ لو ہم ایک دوسرے کے سامنے ہیں’ وہ پلٹی تھی جب وہ اُسکے پاس سے گزرتا ہوا ایک بھرپور مسکراہٹ دے کر وہاں سے چلا گیا اور عرشیہ اسکی پُشت کو گھورتی رہ گئی۔
***************************

ایک بھرپور انگڑائی کے ساتھ وہ کافی دیر کی پُر سکون نیند لیکر بیدار ہوئی۔ آج سنڈے تھا تبھی وہ سب کل رات گئے تک لاؤنج میں بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوںمیں مصروف رہے تھے اِسلئے آج وہ دیر سے سو کر اُٹھی تھی۔ شارق کی طبیعت بھی اب پہلے سے بہت بہتر تھی اسلئے وہ بھی ہلکی پھلکی ہوگئی تھی۔ وارڈروب سے کپڑے نکال کر وہ باتھ روم میں گھس گئی۔ ٹھنڈے پانی سے شاور لیکر وہ خود کو بہت تروتازہ اور فریش محسوس کر رہی تھی۔ لائٹ پِنک کلر کے لان کے سوٹ میں وہ بہت بھلی لگ رہی تھی۔ دوپٹّہ نفاست سے دونوں شانوں پر پھیلاتی وہ کمرے سے باہر آگئی۔اُسکا رُخ شارق کے کمرے کی طرف تھا، آج اُسکا شارق کے ساتھ ناشتہ کرنے کا موڈ تھا۔ دروازے پر دستک دینے کی اُسے کبھی سے بھی عادت نہیں تھی۔ وہ اُسکے کمرے میں ہمیشہ بلاجھجک آتی تھی سو ابھی بھی ناشتے کے لوازمات سے بھری ٹرالی گھسیٹتی وہ دروازاہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی۔
‘صبح بخیر! کیسی طبیعت ہے اب؟ آپ نے بھی ابھی تک ناشتہ نہیں کیا ہوگا، چلیں ساتھ ہی کرتے ہیں۔ میں ناشتہ۔۔۔’ یہ کہتے ہی اُس نے بیڈ پر دیکھا وہ خالی تھا۔ غیر اِرادی طور پر اُسکی نگاہ سائیڈ میں رکھے صوفے پر گئی جہاں بیٹھے شخص کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی ۔آگے کا جُملہ اُسکے منہ میں ہی رہ گیا تھا۔ وہاں روحیل بڑی شان سے براجمان تھا اور محبت پاش نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اِس سادھے سے حُلیے میں بھی وہ روحیل کو بہت پیاری لگ رہی تھی۔ کمر سے نیچے تک آتے لمبے بال اُسکی پُشت پر جھول رہے تھے جِنکی پوروں سے پانی کے ننھے قطرے ابھی بھی ٹپک رہے تھے۔ عرشیہ گڑبڑا کردو قدم پیچھے ہٹی اور اپنا دوپٹّہ کھینچ کر سر پر ڈال لیا (یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟)
اُسکا تقریباً آدھا چہرہ دوپٹّے کی اوٹھ میں چُھپ گیا تھا پھر بھی دوپٹّے کے ہالے سے اُسکا سُرخ سُرخ چہرہ اور تنے ہوئے نقوش صاف نظر آرہے تھے۔
‘السّلامُ علیکُم’ روحیل نے مسکراتے ہوئے ہمیشہ کی طرح سلام میں پہل کی
‘ وعلیکُم السّلام! شارق کہاں ہے؟’ مصلحتاً سلام کا جواب دیتے وہ رُخ موڑ گئی
‘میں کھا گیا اُسے!’ روحیل نے ہنس کر چوٹ کی جس پر عرشیہ نے نہایت برہمی سے اُسے گھورا
‘مذاق کررہا ہوں! ‘ روحیل اُسکی خفگی دیکھ کر بولا
‘میرا اور آپکا مذاق کا کوئی رشتہ نہیں ہے!’
‘رشتہ بن بھی تو سکتا ہے۔’ روحیل اپنی جگہ سے اُٹھا اور چلتا ہوا اُسکے سامنے آ کھڑا ہوا
‘دِماغ ٹھیک ہے ؟ کیا مطلب؟’ وہ نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی
‘مطلب تو صاف ہے۔ البتہ اگر تم اور کُھل کر وضاحت چاہتی ہو تو یہاں نہیں! کسی اچھی سی جگہ بیٹھ کر میں تمھیں سارے مطلب سمجھا دوںگا۔’
‘مائنڈ یور لینگویج مسٹر! لگتا ہے چار سال پہلے کی آخری مُلاقات تم بھول گئے ہو۔ میں آج بھی وہی عرشیہ ہوں اور اسوقت جہاں تم کھڑے ہو نا، یہ گھر میرا ہے۔ چاہوں تو دو منٹ میں تمھاری عزّت دو کوڑی کی کردوں لیکن تم جیسوں سے تو بات کرنا بھی میں اپنی توہین سمجھتی ہوں ۔ ہٹو میرے راستے سے اور ہاں یاد رہے ! آئندہ اگر ایسی فضول باتیں دوبارہ میرے ساتھ کیں تو میں سارا لحاظ بالائے طاق رکھ کرسامنے آؤںگی۔ بہت برداشت کرلیا میں نے، یہ لاسٹ وارننگ ہے تمھاری!’ وہ اُسکی طرف اُنگلی سے اِشارہ کرتے ہوئے بولی اور تیزی سے باہر نکل گئی۔ روحیل نے شدّتِ غم سے آنکھیں بند کرلیں۔
وہ تقریباً بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی جب شارق نے اُسے آواز دے کر روکا۔
‘آشی! روحیل آیا ہوا ہے، میری عیادت کو آیا ہے خاص طور سے ۔وہ ناشتہ میرے ساتھ ہی کریگا۔ تم ذرا چائے کے ساتھ ناشتہ میرے کمرے میں بھجوادو پلیز۔’ یہ بات سُنتے ہی عرشیہ کا غصّہ عود کر آیا تھا
‘بھاڑ میں جائیں آپ اور آپکا دوست!’ وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گئی
‘ہیں! اِسے کیا ہوا؟’ وہ کندھے اُچکاتا کچن کی جانب بڑھ گیا
***************************
برقی قُمقموں سے سجی یہ بڑی سی خوبصورت کوٹھی تھی۔ سُرخ و سفید اینٹوں سے بنی یہ محل نُما کوٹھی اندر رہنے والے مکینوں کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھی۔اِس کوٹھی کے در و دیوار کے این وسط میں ‘روحیل وِلا ‘ کا نام جگمگا رہا تھا۔وہ شارق کے ہمراہ اُسکی گاڑی میں بیٹھی تھی۔ بڑا سا براؤن گیٹ ہارن کی آواز پر کُھلا اور شارق گاڑی لیکر پورچ میں داخل ہوگیا۔ خوبصورت لان کی جگمگاہٹ آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ وہ سرائے بِنا نہ رہ سکی۔ وہ پہلی مرتبہ روحیل کے گھر آئی تھی اسلئے شارق کی موجودگی کے باوجود کافی نروس ہو رہی تھی۔ روحیل کے انداز اُس سے چُھپے ہوئے نہیں تھے۔
‘اوہ شِٹ! میں اپنا موبائل گھر پر ہی بھول آیا۔ ایک بہت ضروری کال آنی تھی۔’ شارق نے جھنجھلا کر کہا
‘اوہ! تو موڑ لو گاڑی۔’
‘بہت دیر ہوجائے گی اچھا نہیں لگے گا، تم ایسا کرو تم اندر جاؤ ، میں بس یوں گیا اور یوں واپس آیا’ شارق نے تیزی سے حل پیش کیا
‘ہرگز نہیں! میں اکیلی اندر نہیں جاؤنگی۔’ عرشیہ منہ بنا کر بولی اور سیٹ پر جم کر بیٹھ گئی
‘اوہو! چلو میں تمھیں اندر تک چھوڑ آؤں، اب چلو بھی!’ شارق نے زبردستی اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے گاڑی سے باہر نکالا اور وہ نہ نہ کرتی رہ گئی۔
روحیل کسی سے باتوں میں مصروف تھا ۔ جونہی نگاہ شارق کے برابر چلتی عرشیہ پر پڑی وہ بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگا۔ اُسے بالکل اُمید نہیں تھی کہ وہ اُسکے بُلانے پر آبھی جائیگی۔ رابیل نے شاندار نمبروں سے میڈیکل کالج کاایڈمیشن ٹیسٹ پاس کیا تھا اور یہ دعوت اِسی خوشی میں تھی۔ روحیل جانتا تھا کہ عرشیہ کبھی نہیں آئے گی لیکن رابیل کے بے حد اِصرار پر وہ اُن دونوں کو بُلانے پر مجبور ہوا تھا۔ رابیل اُس سے ملنا چاہتی تھی، اُس سے ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتی تھی۔روحیل باقی سب سے ایکسکیوز کرتا اُن دونوں کی طرف آیا ۔
‘سو گُڈ ٹو سی یو یار!’ روحیل گرمجوشی سے شارق سے ملا
‘کیسے نہ آتے یار، تو نے جو بُلایا تھا۔ بس یہ محترمہ تھوڑے نخرے دکھا رہی تھیں پر میری تو اِنھیں پھر ماننی ہی پڑتی ہے آخر رِشتہ ہی کچھ ایسا ہے۔ بس میں زبردستی کھینچ لایا۔’ شارق نے شوخی سے اُسے دیکھا
‘کچھ خُدا کا خوف کر لو شیری، سب کچھ کھول کر غیروں کو بتانا ضروری ہے؟’ غیروں پر کافی زور دیا گیا تھا جس پر شارق قہقہہ لگا کر ہنس پڑا
‘ہاہاہا! روحیل بھی کوئی غیر ہے بھلا؟ یہ تو اپنا جگری یار ہے۔ اچھا یار تم ذرا اِس کو اپنے گھر والوں سے ملواؤ میں اپنا فون گھر بھول آیا ہوں بس وہ لیکر آتا ہوں’ روحیل نے اثبات میں سر ہلادیا۔ شارق نے جاتے جاتے ایک بھرپور نگاہ عرشیہ پر ڈالی اور روحیل کو اپنی طرف کھینچ کر بولا
‘اِسکا خاص خیال رکھنا یار یہ میری منگیتر اور تیری ہونے والی بھابھی ہے، جلد ہماری شادی ہونے والی ہے۔’
اطلاع تھی یا بم تھا کہ روحیل کو اپنا آپ سنبھالنا مشکل ہوگیا۔۔
دل میں شدید توڑ پھوڑ شروع ہوچُکی تھی۔۔
ایسا الگ رہا تھا جیسے کسی نے تیز دھار آلے سے اُسکے دل کے ٹکڑے کردئیے ہوں۔۔
جیسے آس پاس کی ہر شے اُسے منہ چِڑا رہی ہو۔۔ اُسکا مذاق اُڑا رہی ہو۔۔
وہ بے یقینی سے شارق اور اُسکے برابر کھڑی عرشیہ کو دیکھ رہا تھا جسکی آنکھوں میں شارق کیلئے ایسی لؤ دیتی چمک تھی کہ روحیل کو اپنا پورا وجود اُس میں جلتا ہوا محسوس ہوا۔یہ وہ مخصوص چمک تھی جو وہ اپنے لئے دیکھنا چاہتا تھا لیکن آج وہ اپنی آنکھوں کے سارے خواب کسی اور کیلئے سجائے بیٹھی تھی۔اُسکی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگیں۔
‘روحیل!’ کتنی دیر بعد وہ خیالوں کی دُنیا سے لوٹا جب شارق نے اُسکا شانہ ہلایا
‘ہوں!’ وہ بس اتنا ہی کہہ سکا
‘یار مجھے پتا ہے تم خفا ہوگے کہ میں نے اتنی بڑی بات پہلے کیوں نہیں بتائی، بس موقع نہیں ملا۔ ابھی میں آجاؤں تو شوق سے لڑ لینا مجھ سے۔اب اسے لیکر اندر جاؤ میں بس آیا’ وہ اور بھی پتا نہیں کیا کیا کہہ رہا تھا پر روحیل تو جیسے کچھ سُن ہی نہیں رہا تھا، وہ یک ٹک اُسے دیکھے جارہا تھا۔ اُسکی محویت کو عرشیہ کی آواز نے توڑا۔
‘پلیز شیری جلدی آنا مجھے عادت نہیں ہے زیادہ دیراجنبیوں میں رہنے کی!’
‘ہاں سوئٹی بس جلدی آیا’ شارق پورچ کی جانب بڑھ گیا جہاں اُسکی گاڑی کھڑی تھی
روحیل کے پاؤں من من بھر کے ہو گئے تھے۔ یہ چار قدم کا فاصلہ اُسے میلوں کا فاصلہ لگ رہا تھا۔ عرشیہ اچانک ہی اُسے دور۔۔ بہت دور کھڑی محسوس ہوئی ۔پھر بھی وہ اپنا وجود گھسیٹتا ہوا اُسکے پاس چلا آیا۔
‘عرشیہ آپ نے کبھی بتایا نہیں کہ آپ کی منگنی ہو چکی ہے شارق سے؟’ عرشیہ نے اِس بات پر کافی اچھنبے سے اُسے دیکھا
‘میں نے آپ کو پہلے اپنے بارے میں ایسا کیا کیا بتا رکھا ہے ؟’ وہ اب بھی طنز سے باز نہیں آئی تھی۔ روحیل نے ہنکارا بھرا
‘اگر تم مجھے بتا دیتی تو میں۔۔۔’ اِس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتا عرشیہ نے اُسکی بات کاٹ دی
‘اب مجھے کسی سے ملواؤگے بھی یا میں شارق کے آنے تک یہیں کھڑی رہوں؟’ وہ چِڑ کر بولی
‘چلو!’ وہ آگے بڑھ گیا اور اُسکے پیچھے پیچھے وہ بھی اندر لاؤنج کی طرف چل گئی
‘رابیل!’ ایک لڑکی کونے میں کھڑی اپنی دوستوں سے باتوں میں مصروف تھی جب روحیل نے اُسے آواز دی۔ اُسکی آواز پروہ پلٹی تھی اور اپنے بھائی کے ساتھ کھڑی لڑکی کو پہچاننے میں ایک لمحہ لگا تھا اُسے۔وہ سمجھ گئی تھی کہ ابائے میں کھڑی یہ لڑکی کوئی اور نہیں عرشیہ ہے کیونکہ جس سوسائٹی سے وہ تعلق رکھتی تھی وہاں ابایا ایک معےّوب چیز سمجھی جاتی تھی۔ وہ تیزی سے اُن دونوں کے قریب آئی ۔
‘آپ! آپ عرشیہ ہیں نا؟’
‘جی! آپ؟’ عرشیہ نے حیرانی سے اُس نٹ کھٹ سی لڑکی کو دیکھا جسے وہ جانتی تک نہ تھی لیکن وہ اُسکا نام لیکر اُسے مُخاطب کر رہی تھی۔ مہرون اور مہندی کلر کے خوبصورت کام کا پیپلم پہنے ، دوپٹّہ گلے میں ڈالے۔ چہرے پر ہلکا سا میک اپ اُس لڑکی کی خوبصورتی کو اور بڑھا رہا تھا۔ وہ گہری سیاہ آنکھوں میں اُسکے لئے بے پناہ اپنائیت لئے کھڑی تھی۔ وہ روحیل سے کافی مُشابہت رکھتی تھی۔
‘یہ رابیل ہے!’ روحیل نے اُسکا تعارف کروایا جب وہ آگے لقمہ لگاتے ہوئے بولی
‘روحیل بھائی کی اکلوتی اور لاڈلی بہن ‘ خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اُسنے عرشیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے عرشیہ نے بھی مسکراتے ہوئے تھام لیا۔ روحیل اُسے چھوڑ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔ عرشیہ نے اُسکے جاتے ہی ایک سکون بھری سانس لیکر ماحول کی خوشگواریت کو اپنے اندر اُتارا۔
‘آئیے میں آپکو ممّی سے ملواتی ہوں۔ ہم کب سے آپکی راہ دیکھ رہے تھے بھابھی ۔’
‘بھابھی؟’ عرشیہ نے چونک کر اُسے دیکھا جو اپنے آپ میں مگن اُسے ساتھ لئے آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی
وہ اُسے لیکر جس ہال میں داخل ہوئی وہ کافی بڑا اور خوبصورت تھا۔ جدید طرز کے صوفے اور کاؤچ سے وہ ہال آراستہ تھا۔ سائٹ ٹیبلز پر رکھے ڈیکوریشن پیسزاپنی قیمت خود بتا رہے تھے۔ نئے طرز کے حسین اور بیش قیمت پردے کھڑکیوں پر جھول رہے تھے۔ غرض کہ ہر چیز اپنی نفاست کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ ہال میں اے سی کی کولنگ نے ماحول کو اور پُر اثر بنا دیا تھا۔ یہاں پر موجود تمام خواتین جدید تراش خراش اور بے حد ماڈرن کپڑوں میں ملبوس تھیں۔ کچھ کے توآستین اور دوپٹّے سِرے سے ہی غائب تھے۔ اُن میں سے کئی خواتین کی نظریں عرشیہ پر اُٹھیں اور حیران رہ گئیں ، وہ کہیں سے بھی اِس ماحول کا حصّہ نہیں لگ رہی تھی۔ وہ امیر لیکن دیندار گھرانے سے تھی اور یہاں وہ روحیل کے ماحول سے بالکل بھی میل نہیں کھاتی تھی۔ (میں نے یہاں آکر غلطی کردی!) ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ رابیل کی چہکتی ہوئی آواز نے اُسکی سوچوں کا تسلسل توڑا
‘ممّی ان سے ملئیے اور پہچانیں کہ یہ کون ہے؟’
‘عرشیہ ہو نا تم؟’ ایک دلکش مسکراہٹ کے ساتھ اُنہوں نے عرشیہ کے گال چھوئے ۔ بلیک شیفون کی خوبصورت ساڑھی پہنے، لائٹ سا میک اپ کئے ، بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنائے وہ بہت خوبرو خاتون تھیں۔رابیل اور روحیل ہو بہو اُن ہی کی کاپی تھے۔
‘السّلامُ علےُکم’ عرشیہ نے سر اثبات میں ہلا کر اُن کو سلام کیا جسکا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اُسکے سر پہ ہاتھ رکھا اور دعا دی
‘خوش رہو ہمیشہ!’
‘ممّی آپ نے انہیں کیسے پہچان لیا؟’ رابیل نے حرا بیگم سے پوچھا
‘پہچانوںگی کیوں نہیں، روز جو اپنے بیٹے کی آنکھوںمیں دیکھتی ہوں!’ حرا بیگم نے مسکراتے ہو ئے اُسے اپنے قریب کیا جس پر رابیل کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
‘سچ ممّی! میں نے بھی فوراً پہچان لیا تھا بھا بھی کو’ رابیل کیا بول رہی تھی اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اُسکا ذہن تو بس حرا بیگم کی بات میںاٹکا ہوا تھا (کیا مطلب تھا انکی اِس بات کا؟ روحیل نے میرے بارے میں سب کو یہاں کیا بتایا ہوا ہے ۔ اُف! یہ سب کیا ہے؟) اِس کے ساتھ ہی اُسکی ذہنی سوچیں منتشر ہونے لگیں۔
‘ہیلو بھابھی کدھر گم ہیں؟ آئیے میں آپکو اپنا گھر دکھاتی ہوں’ رابیل نے اُسکا کندھا ہلایا۔
‘جی؟ کچھ کہا ؟ سوری میں نے سُنا نہیں۔’ عرشیہ کو رابیل کافی پسند آئی تھی۔ اُسے ہمیشہ ایسی نٹ کھٹ لڑکیاں بہت بھاتی تھیں۔ وہ روحیل کی بہن تھی صرف اِس بِنا پر وہ اسے ناپسند نہیں کرسکتی تھی۔ وہ اُسے لئے سیڑھیاں چڑھی اور پھر اُسے ساتھ لئے ایک کمرے میں داخل ہو گئی۔
‘اب آپ اپنا ابایا اُتار دیں اور ایزی ہوجائیں، یہاں کوئی بھی نہیں آئے گابھابھی۔’ عرشیہ نے سر اثبات میں ہلایا اور پوچھا
‘یہ بار بارآپ مجھے بھابھی کیوں کہہ رہی ہیں؟’ وہ اسٹریٹ فاروڈ (straight forward) تو ہمیشہ سے تھی اسلیئے جو سوال اُسکی اُلجھن بڑھا رہا تھا وہ پوچھ بیٹھی جس پر رابیل ہنسی۔
‘بھابھی کو بھابھی نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟’
‘لیکن میں آپکی بھابھی کیسے ہوئی؟’ اب کی بار عرشیہ کے لہجے میں تھوڑی بیزاری در آئی تھی ۔ حرا بیگم کے جُملے اور اس پر رابیل کی ذومعنی باتیں اُسکی سمجھ سے باہر تھیں۔ پہلی ہی مُلاقات میں اِتنی بے تکلفی اُسے کھٹک رہی تھی۔
‘اب اتنی انجان بھی نہ بنیں میری سوئیٹ سی بھابھی، چُپکے چُپکے میرے ہینڈسم بھائی کا دل چُرا لیا تو اب روحیل بھائی کے ناطے سے آپ میری بھابھی ہی ہوئیں نا؟’ رابیل نے لہک کر کہا جس پر عرشیہ کا دوپٹّہ ٹھیک کرتا ہاتھ وہیں رُک گیا
‘واؤ! آپ کتنی زیادہ پیاری ہیں یار۔ اور آپ کے بال، اُف اتنے لمبے! جیسا سُنا تھا اُس سے بڑھ کرحسین پایا ہے آپ کو۔ ایسے ہی تو میرے بھائی فدا نہیں ہوئے تھے آپ پر!’
‘کک۔ کیا مطلب ہے تمھارا؟’ غصّے کی شدت سے عرشیہ کی آواز لڑکھڑا گئی تھی ۔ رابیل نے اُسکے گرد بازو حمائل کیا اور اِس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی اُسکی کزن نے اندر جھانک کر اُسے حرا بیگم کا پیغام دیا ، وہ اسے ایک ضروری کام کیلئے نیچے بُلا رہی تھیں۔
‘آپ یہیں آرام سے بیٹھ جائیں میں بس ممّی کی بات سن کر دو منٹ میں واپس آئی’ وہ بھاگی تھی
رابیل کے جانے کے بعد اُس نے کمرے پر غور کیا ۔ کمرہ ایک خوابگاہ کا منظر پیش کر رہا تھا۔وہاں پر موجود ہر چیز بلو کامبینیشن کی تھی۔ سامنے ٹیرس کی کھڑکی پر لگے نیوی بلو پردوں سے باہر کے در و دیوار پر لگے برقی قمقموں کی جگمگاہٹیں چھن چھن کر اندرآرہی تھیں۔ سائیڈ پر رکھی ٹیبل پر ایک خوبصورت سا ٹیبل لیمپ اور کچھ کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ ٹیبل سے کچھ فاصلے پرایک چھوٹا دروازہ تھا اور اُس سے کچھ ہی فاصلے پر ایک بڑا سا ریک بنا ہوا تھا جس میںڈی وی ڈی پلئیر، کچھ ڈی وی ڈیز ، گٹِار اور نیچے کے پورشن میں باڈی بلڈنگ کا کچھ سامان رکھا تھا۔ عرشیہ کو شک گُزرا کہیں یہ کمرہ روحیل کا تو نہیں ہے؟ اور اسکے ساتھ ہی اُس نے گردن موڑ کر بیڈ کی طرف دیکھا۔ بیڈ کمرے کے این وسط میں رکھا تھا اور پیچھے کی دیوارپر روحیل کی مسکراتی ہوئی بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی۔وہ کچھ قدم آگے بڑھی اور اُس تصویر کو غور سے دیکھا جس میں روحیل نے ہاتھ میں گِٹار پکڑا ہوا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا اور ساتھ ہی اُسکی آنکھیں بھی مُسکرا رہی تھیں۔ بلِا شبہ اُسکی مسکراہٹ میں ایک عجیب سا سحر تھا۔عرشیہ نے آج سے پہلے کبھی اُس کے چہرے پر غور نہ کیا تھا۔
‘کیا دیکھ رہی ہو؟ ‘ عرشیہ کی محویت کو پیچھے سے آتی روحیل کی آواز نے توڑا۔ وہ مُڑی تھی اور روحیل کی نظروں نے ہٹنے سے اِنکار کردیا تھا۔
بلو اور وائٹ کلر کے کُرتے پاجامے میں وہ بھی اسی خواب نگر کا حصّہ لگ رہی تھی ۔ ۔
میک اپ کے نام پرہونٹوں پر ہلکی سی لپ اسٹک ۔۔
لمبے بالوں کی ڈھیلی سی پونی بنائے ۔۔
چھوٹی چھوٹی سی لٹیں اُسکے چہرے کے گرد لِپٹی ہوئی تھیں۔۔
نازک کلی کی طرح کِھلا گُلابی چہرہ اُسے دیکھ کر مزید سُرخ ہو گیا تھا۔۔


روحیل کا دل چاہا یہ لمحے یہیں رُک جائیں اور وہ اُسے دیکھتا رہے۔اُسکی موجودگی کو اپنے آس پاس محسوس کرتا رہے۔ لیکن یہ اُسکے اختیار میں تھا ہی کب! اب تو کچھ بھی اختیار میں نہیں رہا تھا۔ عرشیہ تیزی سے باہر نکلنے کے غرض سے جیسے ہی دروازے کی طرف بڑھی روحیل اُسکی راہ میں حائل ہو گیا۔
‘میری ہر نظر تیری مُنتظر،
تیری ہر نظر کسی اور کی’
میری زندگی تیری بندگی،
تیری زندگی کسی اور کی،
کبھی وقت جو ملے تجھے،
ذرا آ کے دیکھ میرے حال کو،
میری ہر گھڑی تیرے لئے،
تیری ہر گھڑی کسی اور کی،
مجھے صرف تیری طلب تھی پر،
نجانے تو کیوں ملا نہیں،
تو اُسے مِلا میرے صنم،
جسے تھی طلب کسی اور کی!’ روحیل نے غزل پڑھی
‘یہ کیا حرکت ہے؟ ہٹومیرے راستے سے!’ عرشیہ نے اپنے غصّے کو بمشکل دبایا۔ اُسے اندازہ ہورہا تھا کہ اُس نے یہاں آکر غلطی کردی ہے
‘ہٹ جاؤںگا لیکن پہلے آپ کو میری بات سُنّنی پڑیگی’ وہ بہت پرُسکون انداز میں دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا
‘مجھے تمھاری کوئی بات نہیں سنّنی! ہٹ جاؤ جانے دو مجھے پلیز!’ وہ حقیقتاً ڈر گئی تھی وہ یہاںبالکل اکیلی تھی
‘میں بس تمھیں تھینکس کرنا چا ہتا ہوں’ روحیل تھکے ہوئے لہجے میں بولا لیکن عرشیہ کوکچھ بولتادیکھ کر وہ اُسے ٹوک کر دوبارہ گویا ہوا
‘اوہوں! ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی ہے! تم اِس دعوت میں آئیں مجھے بہت اچھا لگا، میں اُمید نہیں کر رہا تھا کہ تم میرے بُلانے پر۔۔۔’
‘کسی خوش فہمی میں مت رہنا روحیل! میں تمھارے بُلانے پر ہرگز نہیں آئی ہوں۔صرف شارق کے مجبور کرنے اور اُنکے اصرار پر آئی ہوں ورنہ تمھارے گھر تو کیا، تمھاری شکل برداشت کرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے مجھ میں!’
‘اتنی نفرت کیوں کرتی ہو مجھ سے؟ کیا کمی نظر آتی ہے مجھ میں؟’ وہ دو قدم آگے بڑھا تھا اور عرشیہ لرز کر پیچھے ہوئی تھی
‘دیکھو روحیل پلیز! مجھے جانے دو، میرے صبر کا اِمتحان مت لو ورنہ میں کچھ کر بیٹھوں گی۔’
‘مثلاً کیا کروگی تم؟’ روحیل اُسی اطمینان سے بولا اور اُسکا یہ انداز عرشیہ کو سُلگا گیا ۔ وہ دبی دبی آواز میں چیخی
‘منہ توڑ دوںگی تمھارا! شرم نہیں آتی تمھیں، اپنے گھر والوں کو میرے بارے میں نجانے کیا کیا بتا رکھا ہے جو وہ ایسی عجیب اور ذومعنی باتیں کر رہے تھے۔تم نے اُنھیں اُسی وقت بتایا کیوں نہیں کہ میں شارق کی منگیتر ہوں؟ ہونہہ! پر تم کیوں بتاؤگے تمھارے اپنے دل میں جو چور ہے۔تم نے مجھے بھی اُن لڑکیوں جیسا سمجھ رکھا ہے جو ایک کے ساتھ منسوب ہوکر بھی دوسروں سے چکر چلائیں اور تمھاری گھٹیا باتوں میں آکر پگھل جائیں۔ یاد رکھنا میں اُن لڑکیوں میں سے ہرگز نہیں ہوں جو تمھاری جھوٹی پیار بھری باتوں میں آجاؤں۔ سمجھے!’
‘اوہ! یو شٹ اپ(Oh you shut up)!’ وہ پوری قوّت سے دھاڑا اور عرشیہ سہم گئی تھی۔ اُسکا سارا غصّہ اور تیز طراری پل بھر میں ہوا ہوگئی تھی۔ وہ اپنے آپ میں سِمٹ سی گئی۔
‘تم!تم سمجھتی کیا ہو اپنے آپ کو ہاں؟’ غصّے کی شدت سے اُسکاچہرہ سُرخ ہوگیا تھا۔ اُسنے تیزی سے باہر نکلتی عرشیہ کا ہاتھ پکڑ کر رُخ اپنی جانب کیا۔
‘جا کہاں رہی ہو، بات سُنو میری!’
‘چھوڑو! چھوڑو میرا ہاتھ گھٹیا انسان!’ عرشیہ کیلئے اُسکا یہ انداز بالکل غیر متوقع تھا اسلئے وہ پوری جی جان سے کانپ گئی تھی
‘اور اگر نہ چھوڑوں تو؟ اگر میں چاہوں تو تمھارے اس ہتک آمیز روّیے کا اچھا سبق سکھا سکتا ہوں ۔ بہت برداشت کیا ہے میں نے، اب اِتنی آسانی سے جانے نہیںدوںگا تمھیں۔’
‘میں کہہ رہی ہوں فوراً چھوڑو میرا ہاتھ! بدتمیز، گھٹیا انسان تمھاری ہمّت۔۔۔’
‘ہش!!!!!! اب آگے ایک لفظ نہیں!’ عرشیہ کے ہاتھ پر اُسکی گرفت کچھ اورسخت ہوئی تھی
‘بتاؤ مجھے کیا گھٹیاپن دیکھ لیاتم نے میرے اندر؟ بچپن سے لیکر آج تک تم صرف میری تذلیل کرتی آئی ہو اورمیں تمھارے نفرت میں ڈوبے ہر ہر کانٹے کو پھول سمجھ کر چُنتا رہا ہوں۔ ایسا کونسا گُناہ کیا ہے میں نے، بولو؟’
‘دیکھو اگر تم نے میرا ہاتھ نہ چھوڑا تو میں چیخ چِلّا کر سب کو اِکٹھا کرلونگی۔’ عرشیہ نے بے چارگی سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔ آج وہ بُرا پھنسی تھی اور زندگی میں پہلی بار اُسے روحیل سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ وہ مسلسل اپنا ہاتھ چُھڑانے کی کوششوں میں تھی لیکن ناکام رہی۔ روحیل کی گرفت مضبوط تھی۔
‘اچھ۔چھا!! تو پھر چیخو چِلّاؤ، پر یہ مت بھولو کہ اسوقت جہاں تم کھڑی ہو یہ میرا کمرہ ہے۔ نُقصان تمھارا ہی ہوگا، اور میں کبھی تمھارا نقصان نہیں چاہوںگا اسلئے بس وجہ بتادو مجھ سے نفرت کی؟ بِنا کسی وجہ کے اتنی شدید نفرت کسی سے نہیں ہو سکتی۔’ عرشیہ نے سہم کر اُسے دیکھا پھر روتے ہوئے بولی
‘ مجھے جانے دو۔ میں تم سے تمھارے تصّور سے بھی زیادہ نفرت کرتی ہوں۔ پلیز مجھے جانے دو۔ میری زندگی، میرا دل، میری روح، میری سانسیں صرف شارق کی امانت ہیں۔ میں شارق کے بغیر نہیں رہ سکتی بہت محبت کرتی ہوں میں اُن سے۔ مجھ پر رحم کرو روحیل اور چلے جاؤ ہماری زندگیوں سے۔ میں تمھاری صورت بھی اپنے آس پاس دیکھنا نہیں چاہتی۔ میری ہنستی مسکراتی زندگی میں زہر مت گھولو۔ جسٹ گو اوے پلیز (just Go away plz)’
الفاظ تھے یا نشتر جس سے روحیل کا پورا وجود بکھر گیاتھا اور اُس کے خوابوں کی دھجّیاں اُڑا گیا تھا (یہ لہجہ، ایسی نفرت و حقارت۔ اُف!) عرشیہ کے ہاتھ پر اُسکی گرفت ڈھیلی پڑگئی ،وہ اپنا ہاتھ اُسکے ہاتھ سے آزاد کراتی دیوانہ وار باہر کی طرف بھاگی اور یہ دیکھنے سے قاصر رہی کہ دروازے کی اوٹ میںچُھپی رابیل سب کچھ سُن چکی تھی۔وہ اپنے جان سے پیارے بھائی کے کرب کا اندازہ بخوبی لگا سکتی تھی۔ رابیل کے اندر بھی کہیں بہت کچھ ٹوٹا تھا لیکن اب اُسے اپنے بھائی کو سنبھالنا تھا۔
************************
چار دن تک وہ شدید بخار میں پُھنکتی رہی تھی۔ شارق سمیت سب ہی اُس کیلئے بہت پریشان تھے جو اچانک اِتنی بیمار پڑ گئی تھی۔نیم بے ہوشی اُس پر طاری رہتی ۔ ڈاکٹرکے مُطابق وہ کسی اِسٹریس میں تھی جس کی وجہ سے اُسکی طبیعت اِتنی خراب ہوگئی تھی اور اُسے ٹھیک ہونے میں کچھ عرصہ لگنا تھا۔شارق نے کسی کو بھی اُس سے کچھ بھی پوچھنے سے منع کردیا تھا، ابھی کسی بھی طرح کا اِسٹریس اُس کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ اب وہ آہستہ آہستہ سنبھل رہی تھی۔ سب بڑوں نے اُسکی ذہنی کیفیت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے شارق کا فیصلہ مان لیااور کچھ ہی دنوں بعد اُن دونوں کی شادی طے کردی گئی۔
اُسکی نیند کا تسلسل دروازہ کُھلنے کی گرجدار آواز نے توڑا ۔ وہ ہڑہڑا کر اُٹھ بیٹھی۔ نائٹ بلب کی ملگجی روشنی میں اُسے وانیہ کا تپا تپا چہرہ نظر آیا تو وہ اپنی ہنسی دباتی دوبارہ بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔ وانیہ نے ہاتھ بڑھا کر سارے بٹن آن کردئیے، پورا کمرہ دودھیا روشنی میں نہا گیا۔
‘اب اُٹھ بھی جاؤ، کتنے سالوں کی نیند پوری کر رہی ہو؟’ وانیہ دھپ سے بیڈ پر چڑھ کر اُسکے سامنے بیٹھ گئی۔ عرشیہ نے کوئی جواب نہ دیا، کچھ دیر وہ اُسکے جواب کی منتظر رہی پھر تیزی سے اُسکی کلائی پکڑ کر اُسے کھینچ لیا۔
‘ہائے الّلہ !ہاتھ توڑ دیا میرا۔’ وہ اپنا ہاتھ سہلانے لگی۔ وانیہ اُسے بڑے غور سے دیکھ رہی تھی
‘کیا ہے؟ ایسے کیا ٹُکر ٹُکر دیکھ رہی ہو؟
‘یہ تمھارے خوابوں کے گھوڑوں کی شاہی سواری کہاں رواں دواں تھی جو نیند ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی؟’ وانیہ کو اب وہ پہلے سے کافی بہتر اور فریش لگ رہی تھی ورنہ پچھلے دنوں بخار کی شدت سے وہ بالکل پیلی پڑگئی تھی۔
‘اب اِتنا بھی نہیں سوئی!’
‘اچھا! رات کے آٹھ بجنے والے ہیں اور کتنا سونا تھا؟’
‘ہائیں! آٹھ۔۔’ وہ اُچھل پڑی (میں اتنی دیر کیسے سو گئی) اسے یاد تھا وہ دوپہر کو تین بجے شارق کو سی ا ف کرکے آکر لیٹی تھی اور اب واقعی گھڑی آٹھ بجا رہی تھی۔
‘چلو اُٹھو یار کیا بور کرتی ہو مجھے بھی۔ جب سے یونیورسٹی ختم ہوئی ہے اِتنے مہینوں سے ہم کہیں باہر نہیں گئے۔ ابھی تم کچھ دن میں شادی کرکے اپنے پیا کو پیاری ہوجاؤگی پھر کہاں ہاتھ آؤگی ۔ شارق بھائی نے چھوڑنا نہیں ہے تمھیں ایک لمحے کیلئے بھی اِسلئے بس ہم آج ہی ڈِنرپر چل رہے ہیں اور وہ میری طرف سے ہوگا۔’ وانیہ نے اُسے چلنے کا الٹی میٹم دیا
‘بلّے بلّے ! کس خوشی میں؟ کہیں کوئی اپنا نصیب خراب تو نہیں کر بیٹھا؟ ‘ اُس نے شرارت کی
‘اوئے! کیا مطلب؟’ وانیہ نے اسے گھورا
‘میرا مطلب کہ کوئی دیوانہ عاشق تمھارے پیچھے تو نہیں پڑگیا جس کی خوشی میں آج ڈنر کروا رہی ہو؟’ وہ ہنستے ہوئے بولی
‘بدتمیز بکو مت! چلو فوراً تیار ہوجاؤ۔’
وہ سر اثبات میں ہلاتی بیڈ سے اُتری، وارڈروب سے کپڑے نکالے اور تیار ہونے چل دی۔
************************
گاڑی ایک خوبصورت ریسٹورانٹ کے سامنے رُکی تھی۔
‘ چھوٹی بی بی یہاں پارکنگ ملنا بہت مشکل ہے’ ڈرائیور نے گاڑی روک دی
‘اوہ! کوئی بات نہیں آپ گاڑی آگے پارک کرلیں، ہم واپسی پر پیدل آجائیںگے وہاں تک!’ وہ دونوں گاڑی سے اُتر کر ریسٹورانٹ میں داخل ہوگئیں۔ دونوں نے کونے کی ٹیبل بُک کروائی تھی جہاں رش قدرے کم تھا۔ عرشیہ نے سیاہ شال اوڑھ رکھی تھی جس پر سفید رنگ کے دھاگے سے نفیس اِمبرائیڈری (embroidery) تھی۔ ویٹر آرڈر لیکر جا چُکا تھا اور اب وہ دونوں خوش گپّیوں میں مصروف تھیں۔
‘یہ بتاؤ شارق بھائی کہاں تھے؟ آج گھر پر نظر نہیں آئے۔’ وانیہ نے نیپکن جھٹک کر بچھا دیا
‘ہاں وہ کراچی میں نہیں ہیں۔اسلام آباد گئے ہوئے ہیں ایک بہت ضروری ڈیلیگیشن آرہا تھا۔وہ بھی میرے زبردستی کرنے پر گئے ہیں ورنہ میری طبیعت کی وجہ سے کب سے ٹال رہے تھے، اب طبیعت بہتر ہوئی تو گئے ہیں۔’ عرشیہ نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ ڈالا
 
‘سانس تو لے لو بہن ۔اوہ! میں تو بھول گئی کہ شارق بھائی کا نام آتے ہی آپکی سانسیں قابو میں کہاں رہتی ہیں۔’ وانیہ نے اُسے چھیڑا
‘وانیہ کی بچّی! ‘ عرشیہ نے دانت پیس کرٹیبل پر رکھا کانٹا اُٹھا لیا جسے فوراً ہی وانیہ نے چھین لیا
‘کیوں اپنے ہاتھوں سے میرا خون کر رہی ہو؟ شادی سے پہلے جیل چلی جاؤگی!’ وانیہ نے آنکھیں مٹکائیں تو عرشیہ کی ہنسی چھوٹ گئی
‘ہا ہا ہا! بہت فضول بولتی ہے یہ لڑکی!’ ویٹر کھانا لیکر آچکا تھا ۔ دونوں نے چائنیز ڈِشز آرڈر کی تھیں۔ عرشیہ نے تھوڑا ہی کھایا تھا شاید طبیعت ٹھیک نہ ہونے کے باعث اُسکی غذا کچھ کم ہوگئی تھی پر وانیہ نے کھانے کے ساتھ پورا انصاف کیا تھا۔کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آئسکریم سرو کی گئی۔ اِسی دوران وانیہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
‘عرشیہ تمھیں کیا پریشانی ہے، کس بات کا اِتنا سٹریس لیا ہے تم نے پچھلے دِنوں؟’
‘نہیں تو! کچھ بھی تو نہیں!میرا خیال ہے اب ہمیں چلنا چاہئیے ، کافی لیٹ ہوگیا ہے۔’ عرشیہ یہ کہتی کھڑی ہی ہوئی تھی کہ وانیہ نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر واپس اُسے کرسی پر بٹھادیا۔
‘بیٹھ جاؤ! جب تک تم اپنی پریشانی مجھ سے کہہ نہیں لیتیں تب تک ہم کہیں نہیں جا ئیںگے۔ معلوم بھی ہے سب پچھلے دِنوں تمھیں لیکر کتنا پریشان رہے ہیں اور اِسپیشلی شارق بھائی۔
لاکھ پردوں میں رہو،
بھید دل کے کھولتی ہے،
شاعری سچ بولتی ہے! ‘
وانیہ نے شعر پڑھا۔ عرشیہ بھی اِتنے دن سے اپنی اُلجھنیںاکیلے سنبھالتے سنبھالتے شاید تھک چکی تھی اسلئے سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے تھک کر کرسی کی پُشت سے ٹیک لگا ئی اور آنکھیں موند لیں۔بچپن سے لیکر آج تک ہونے والے تمام واقعات اور پچھلے دِنوں روحیل کے ساتھ گُزرے دِن کا سارا احوال اُس نے وانیہ کے گوش گُزار کردیا۔ وانیہ کے سر پر گویا بم پھٹا تھا وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی جس نے اِتنا عرصہ چُپ چاپ سب کچھ برداشت کیاتھا ۔
‘اکیلے ہی سب کچھ سہتی رہیں؟ مجھ سے تو کہا ہوتا کبھی!’ وانیہ کو افسوس ہو ا۔ عرشیہ نے افسردہ سی مسکراہٹ دی ، دو انمول موتی اُسکی آنکھ سے ٹپکے اور شال میں جذب ہوگئے۔ اچانک سے ماحول میں ایک عجیب سی خاموشی طاری ہوگئی تھی۔سب کچھ سُننے کے بعد چند لمحے تو وانیہ بھی کچھ بول نہ پائی تھی پھر ماحول کی افسردگی کو کم کرنے وہ شوخ لہجے میں بولی۔
‘اوہ! تو میڈم اور کتنے شیدائی ہیں آپکے؟ جہاں جاتی ہو اچھے اچھوں کے ہوش اُڑادیتی ہو۔’
‘ہائیں! کیا مطلب؟’ عرشیہ نے ہنستے ہوئے پوچھا
‘مطلب یہ کہ اب روحیل بھی آگیا اور شارق بھائی تو پہلے سے ہی تمھارے دیوانے پروانے ہیں۔’ عرشیہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ وہ اب اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔ وانیہ نے بھی اُسکی ہنسی پر سُکھ کا سانس لیا جب عرشیہ بولی
‘اُس شخص کی تو میں بھی دیوانی ہوں۔۔’
‘ہائے! کون نہ مر جائے آپکی اِس ادا پر۔ ابھی شارق بھائی یہاں ہوتے تو نکاح دو ہفتے بعد کے بجائے ابھی پڑھوالیتے اور رخصتی بھی ابھی کروانے پر تُل جاتے اور کمرہ بھی یہیں اِسی جگہ بُک کروالیتے!’ وہ یہ کہتے ساتھ ہی بِل کے پیسے مینیو کارڈ میں رکھ کر باہر کی طرف بھاگی
‘وانیہ کی بچّی۔ ٹھہرو ابھی بتاتی ہوں تمھیں۔۔’ وہ بھی اُسکے پیچھے بھاگی تھی
************************


شدید سردی کے دن تھے۔ پچھلے دِنوں موسمِ سرما کی بارشوں نے موسم میں اچھی خاصی خُنکی اور ٹھنڈ پیدا کردی تھی۔ سڑک بالکل سُنسان تھی۔ ٹھنڈی ہوا اور سڑک پر بکھرے کاوے انجلی کے پتّوں کی سرسراہٹ نے ماحول کو کچھ اور سرد بنادیا تھا۔ گاڑی تک پہنچنے میں کچھ منٹوں کا راستہ طے کرنا باقی تھا، وہ دونوں پیدل ہی چل پڑیں۔ دونوں ہلکی پُھلکی گپ شپ کے ساتھ راستہ طے کر رہی تھیں۔
ایک بہت ہی مانوس سی خوشبو اچانک عرشیہ کو اپنے وجود میں اُترتی محسوس ہوئی۔ خاص پرفیوم کی مہک نے اُسے چونکا دیا تھا۔ اُسے اپنے قریب وہی مخصوص خوشبو محسوس ہو رہی تھی جو روحیل کے پاس آنے پر محسوس ہوتی تھی۔
اِتنی نفرت کیوں کرتی ہو مجھ سے۔۔
کیا کمی نظر آتی ہے تمھیں مجھ میں۔۔
محبت کا جواب محبت سے کیوں نہیں دیتیں۔۔
میں چاہوں تو تمھارے اس ہتک آمیز روّیے کا اچھا سبق سکھا سکتا ہوں ۔۔
عرشیہ کے کان میں ماضی کے کئی سوالات باز گشت کرنے لگے ،اُسے وہ خوفناک رات آج بھی یاد تھی۔ وہ کچھ سہم کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی جیسے کسی کو تلاش کر رہی ہو۔ پر یہاں تو دور دور تک کوئی ذی روح دکھائی نہ دے رہی تھی۔ وہ پوری تسلّی کرکے کچھ پُر سکون ہوگئی اور آگے قدم بڑھانے لگی۔
‘کاش کہ مِل جائے محبت تیری آج یا کل،
اِن ہی سوچوں میں سارے کٹ جاتے ہیں پل،
مُقدر پڑھنا ہوتا گر مُمکن سہی،
تیرا نام لِکھ دیتا ہر سطر پہ وہیں،
بچھڑ کر وجود تجھ سے یہ کہاں جائیگا؟
جہاں ہی چھوڑ دے تو پھر کون اپنائیگا،
خواہش اپنے دل کی اب ہے مُرجھاگئی،
ٹوٹے سپنوں کو اِن پلکوں پہ ہے سجاگئی،
انجانے خوف میںاب تنہا بھٹک رہا ہوں میں،
پل پل تیری یادوں میں اب رو رہا ہوں میں،
دوریوں سے جو خود کو تڑپارہا ہوں میں،
زندگی سے بے نِشاں ہوا جارہا ہوں میں!’
رات کے اندھیرے کی مُقدس خاموشی میں اِس آواز نے ایک خوفناک سا اِرتعاش پیدا کیا تھا۔ اِس آواز کو تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔ عرشیہ کے بڑھتے قدم وہیں رُک گئے، گویا آگے بڑھنے سے اُسکے پاؤں اِنکاری ہو گئے تھے۔ وانیہ کے ہاتھ پر اُسکی گرفت غیر معمولی مضبوط ہوئی تھی۔ اُس نے چونک کر دیکھا۔ چہرہ خوف سے سفید پڑ رہا تھا۔ اِسوقت اُسکی حالت قابلِ رحم لگ رہی تھی۔
‘عرشیہ سُمیر، رائٹ؟’ آواز اسکی پُشت پہ کافی قریب سے سُنائی دی ۔ وہ پتّھر کی بن گئی تھی۔ اُسکے لئے یہ وقت ایک سخت آزمائش ثابت ہوا۔ جس کی پرچھائی سے بھی وہ دور بھاگتی تھی، اُسکی آواز اِس ُسنسان سڑک پر اُسے پّتھر کا بُت بنانے کیلئے کافی تھی۔ وہ بِنا رُخ موڑے اور اِس انجان شخص کو دیکھے تیزی سے قدم آگے بڑھانے لگی کہ روحیل نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسکے آگے بڑھنے کی ساری راہیں روک دیں۔
‘رکو پلیز!’ وہ تیزی سے اُسکے سامنے آگیا۔ عرشیہ کو چند لمحے لگے تھے اُسے پہچاننے میں
وہ یقیناً روحیل ہی تھا۔۔ پر۔۔
بِکھرے بال۔۔
بڑھی ہوئی شیو۔۔
خو بصورت آنکھوں کے گِرد گہرے سیاہ حلقے۔۔
آنکھوں سے بے پناہ سُرخی جھلک رہی تھی جیسے صدیوں کا جاگا ہوا ہو۔۔
شِکن آلود کپڑے۔۔
ایسا تو نہ تھا وہ۔۔
ہر وقت اپنے آپکو خوبصورتی اور نفاست سے تیار کرکے رکھنے والے شخص کا یہ کونسا روپ تھا؟ وہ سمجھ نہ پائی اور ناسمجھی سے اُسے کچھ دیر دیکھتی رہی۔ چند لمحے اِسی طرح سِرک گئے تھے۔
‘کہاں کہاں چُھپوگے تم آنکھوں سے،
کبھی چُھپا ہے چاند بھی سِتاروں سے!’
وہ عرشیہ کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔ عرشیہ پر یہ لمحہ بھاری ثابت ہوا، اُسکا غصّہ حد سے سوا ہوگیاتھا۔ دل چاہا روحیل کا یہ خوبصورت منہ نوچ ڈالے۔اِس سے پہلے کہ عرشیہ غصے سے بے قابو ہوتی وانیہ بول پڑی۔
‘روحیل صاحب! اچھے گھرانوں کے لڑکوں کا یہ شیوہ نہیں ہوتا کہ وہ اکیلی لڑکی دیکھ کر اُسے تنگ کریں۔ آپ پلیز عرشیہ کا ہاتھ چھوڑ دیں، ابھی اُس میں اتنا ظرف باقی ہے کہ وہ آپکی بات سُن سکے۔’ عرشیہ نے اَسکی بات پر غصے سے اُسے دیکھا جب وانیہ نے اُسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر یہ اِشارہ دیا کہ روحیل کی بات سُن لینی چاہئیے۔
‘اوہ سوری! ‘ روحیل کو اپنی غلطی کا احساس ہوااور اس نے فوراً ہاتھ چھوڑ دیا
‘کیسی ہو؟’ روحیل نے طویل خاموشی کے بعد سوال کیا، وہ اسے کچھ کمزور سی لگ رہی تھی۔ عرشیہ نے کوئی جواب نہ دیا اور اپنی شال کو مزید اچھی طرح اپنے اطراف لپیٹ لیا۔
‘عرشیہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم میرے بارے میںایک بار دل سے سوچو؟ میں نے بہت کوشش کی ہے کہ تم سے کبھی نہ ملوں، تمھارے پاس نہ آؤں اور تمھیں بھول جاؤں۔۔ لیکن۔۔ ابھی بھی تمھیں دیکھتے ہی یہ دل بے قرار ہوگیا۔ یونیورسٹی کیا ختم ہوئی ایسا لگتا ہے جیسے میری زندگی کی سانسیں بھی کوئی چھین رہا ہو مجھ سے۔ دیکھو میں کیا سے کیا ہوگیا ہوں۔۔ ٹوٹ گیا ہوں۔۔ بکھر گیا ہوں۔۔ تم کیا دور ہوئیں میرا پورا وجود ختم ہوگیا ہے۔ ۔ جو چیز مجھے پسند آجائے میں اُسے حاصل کرکے رہتا ہوں پھر تم میری دسترس سے اتنی دور کیوں ہو عرشیہ؟’
وہ اب بھی کچھ نہ بولی لیکن اُسکے چہرے سے ظاہر تھا کہ وہ ضبط کے آخری مراحل پرہے۔اُسکا چہرہ اس بات کا غماز تھا کہ اُسے کتنا ناگوار گُزر رہا ہے یہ وقت۔
‘کچھ بولو عرشیہ! پلیز کچھ تو بولو! میں تمھاری آواز تک سُننے کیلئے ترس گیا ہوں۔اب مزید ضبط نہیں ہوتا مجھ سے، پلیز بات کرو مجھ سے۔’
یہ کہہ کر وہ دو قدم آگے آیا، اُسکی چال میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی۔
‘جذبات کا رشتہ دل سے ہوتا ہے روحیل اور میرے دل کا رشتہ شارق کے ساتھ جُڑ چکُا ہے!’ عرشیہ نے ایک ایک لفظ چبا کر بولا ۔ روحیل کی آنکھوں کی سُرخی کچھ مزید بڑھ گئی اور وہ غصے سے چلّایا۔
‘کیوں؟ ایسا کیا ہے شارق میں جو مجھ میں نہیں ہے؟ میرے پاس شارق سے کہیں زیادہ پیسہ،بینک بیلنس ہے۔ شکل و صورت میں بھی اُس سے کہیں زیادہ ہوں۔ تمھیں اُس سے زیادہ چاہتا ہوں اور اس سے کہیں زیادہ خوش رکھ سکتا ہوں۔میرا اسٹیٹس اُس سے بہت اونچا ہے۔ بولو!ایسا کیا کروں میں؟ کتنے روپے کتنا پیسہ تمھارے قدموں میں ڈھیر کروں کہ تم شارق کو دل سے نکال سکو۔ اُس سے منگنی توڑ کر۔۔۔۔۔۔’
‘بس۔۔۔! ‘ اُس کا باقی کا جملہ اُس کے منہ میں ہی رہ گیا تھا، عرشیہ نے آگے بڑھ کر ایک زوردار تھپڑ اُسکے منہ پر دے مارا
‘بہت سن لی تمھاری بکواس۔ اگر اس سے آگے ایک لفظ بھی اور بولا تو یہ خوبصورت چہرہ جس پر تمھیں بہت ناز ہے تھپڑوں سے لال کردوںگی۔ اِسوقت جوتمھارا یہ غرور اور پیسے کا نشہ بول رہا ہے اِسے جاکر اپنی جیسی لڑکیوں پر خرچ کرو۔ میں لعنت بھیجتی ہوںتم پر اور تمھارے اِس پیسے پر۔مجھے تو تمھاری شکل سے بھی نفرت ہے۔ شارق میں اور تم میں یہی فرق ہے کہ میرا دل اُسکے پاس ہے اور تم اُسکے پاؤں کی دھول بھی نہیں بن سکتے۔میں مر تو سکتی ہوں لیکن شارق سے کبھی الگ ہونے کا تصور بھی نہیںکر سکتی۔وہ میرے دل میں بستا ہے۔ تمھیں تمھارے سارے سوالوں کا جواب مل گیا ہے، اسلئے دوبارہ کبھی میری راہ میں حائل ہونے کی کوشش بھی مت کرنا!’
یہ کہہ کر وہ پلٹی تھی اور بہت زور کی آواز کے ساتھ کوئی وجود زمین بوس ہوا تھا۔وہ گرنے کی آواز پر گھبرا کر پلٹی، روحیل زمین پر اوندھے منہ بے ہوش پڑا تھا۔ وہ دونوں ابھی کچھ سمجھنے کی کوششوں میں ہی تھیں کہ قریب کھڑی گاڑی سے اُتر کر ایک بوڑھا شخص بھاگتا ہوا روحیل کے قریب آیا ۔ وہ حلیے سے کوئی ملازم لگ رہا تھا۔
‘روحیل بابا! روحیل بابا!’ اُس شخص نے اُسے پورا جھنجھوڑ ڈالا
‘کک۔۔ کیا ہواِ نھیں؟’ وانیہ اُسکے قریب دوزانو ہو کر بیٹھ گئی
‘آپ لوگ کون ہو بیٹا؟’ بوڑھے نے اُن دونوں سے سوال کیا۔ عرشیہ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی، وہ کچھ بھی بول پانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ اسلئے وانیہ بول پڑی۔
‘ہم روحیل کے کلاس فیلوز ہیں لیکن اِنکو ہوا کیا اچانک؟’ اب وہ بوڑھا آدمی ڈرائیورکے ساتھ سہارا دے کر روحیل کو گاڑی میں ڈال رہا تھا
‘بس بیٹا!ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا ہے انکو چلنے پھرنے سے۔ ِانکا پچھلے دِنوں ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اِسلئے ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ کہا تھا۔پتا نہیں کیا ہو گیا ہے ہمارے روحیل بابا کو۔ وہ ایسے تو نہ تھے۔کچھ دنوں سے اپنا آپ بھلائے بیٹھے ہیں۔ نہ کھانے پینے کا ہوش رہا ہے نہ گھر والوں کا۔ سارا سارا دن اپنے کمرے میں پڑے سگریٹ پھونکتے رہتے ہیں یا اُٹھ کر سڑکوں کی خاک چھاننے اِدھر اُدھر نکل جاتے ہیں۔بابا کو کونسا دکھ کھائے جارہا ہے، نجانے کس کی نظر لگ گئی ہے ہمارے ہنستے کھیلتے روحیل بابا کو۔بیگم صاحبہ اور چھوٹی بی بی بھی بہت پریشان رہتی ہیں انکے لئے۔ اچھا بیٹا چلتا ہوں!’ بوڑھے شخص نے ٹھنڈی آہ بھر ی اور گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیور کو چلنے کا اِشارہ کیا ۔ ڈرائیور نے آگے بڑھا دی۔
وانیہ نے واپسی کیلئے جیسے ہی عرشیہ کا ہاتھ تھاما ، اُسکے پورے وجود میں کرنٹ دوڑ گیا ۔اُس کا ہاتھ یخ بستہ برف کی مانند ٹھنڈا ہورہا تھا اور شدید سردی کے باوجود بھی اُسکی پیشانی پر جا بجا پسینے کے قطرے موجود تھے۔وانیہ کو اِس لمحے اُسکی حالت پر ترس آیا ۔ وہ ابھی طویل بیماری سے اُٹھی تھی ، ابھی اُسکی طبیعت تھوڑی سنبھلی تھی اور ایسے میں کسی بھی قسم کا رِسک اُس کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا تھا۔وہ سمجھ سکتی تھی کہ ِاسوقت عرشیہ کن مراحل سے گُزر رہی ہے اسلئے وہ اُسے ساتھ لیے گاڑی کی طرف بڑھنے لگی پر وہ تو جیسے وہیں جم سی گئی تھی۔
‘پلیز عرشیہ چلو تھوڑی ہمّت کرو، سب ٹھیک ہے!’ وہ اُسے زبردستی کھینچتی ہوئی گاڑی کی طرف لے آئی اورجیسے ہی وہ عرشیہ کو گاڑی میں بٹھا کر دوسری طرف سے آکر اُسکے برابر بیٹھی وہ اپنا ضبط کھو بیٹھی اور وانیہ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔وانیہ نے اُسے روکا نہیں کیونکہ اِسوقت اُسکے دل کا غبار نکلنا بہت ضروری تھا۔کافی دیر رونے کے بعد وہ بمشکل بولی۔
‘کیوں ہورہا ہے میرے ساتھ ایسا؟’
‘کم آن عرشیہ! بھول جاؤ سب کچھ جو بھی ہوا۔ مشکل وقت تھا سمجھو گزر گیا۔آئندہ وہ کبھی تمھیں پریشان نہیں کریگا!’ آج کے واقعے پر وہ خود بھی تھوڑی پریشان ہوگئی تھی لیکن خود کو نارمل رکھے ہوئے تھی۔
‘وہ۔۔ وہ۔۔ اُسکی اِس حالت کی ذمّہ دار میں ہوں؟ میری وجہ سے وہ اتنا۔۔۔’ وہ سہمی ہوئی ، ڈری ہوئی لگ رہی تھی
‘ڈونٹ ایون تھِنک اباؤٹ اِٹ(Don’t even think about it)! تمھارا اِسمیں کوئی قصور نہیں ہے، تم نے کبھی اُسکے جذبوں کی پزیرائی نہیں کی بلکہ ہمیشہ اپنی طرف بڑھتے اُسکے قدموں کو روکا ہے۔ایسی کوئی فضول سوچ اپنے ذہن میںمت لاؤ پلیز اور بس یہ سوچو کی دو ہفتے بعد تمھاری شادی ہے۔’ آخر کا جملہ اِتنے پُرجوش انداز میں کہا گیا تھا کہ عرشیہ بھی مسکرانے لگی اور اُسکی سمت دیکھ کر بولی
‘کیا مجھے شارق کو ابھی یہ سب بتادینا چاہئیے؟’
‘ابھی ضرورت نہیں! ہاں، پر شادی کے بعد ضرور بتادینا۔ اب ہر منفی سوچ کو رد کردو اور بس اپنے دیوانے پروانے کے بارے میں سوچو۔’ وانیہ نے آنکھیں مٹکائیں تو عرشیہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔اب وہ پچھلی تمام باتیں بُھلا کر شارق کے ہمراہ آنے والے صرف اچھے وقتوں کے بارے میں سوچنا چاہتی تھی۔پھر کچھ سوچ کر ایک دم وانیہ کے گلے لگ گئی۔
‘ہائیں! یہ تمھیں کیا ہوا؟ کہیں مجھے شارق بھائی تو نہیں سمجھ رہیں تم؟’ اُسکی بات پر عرشیہ فوراً اُس سے الگ ہوئی اور اسکی کمر پر ایک ہاتھ جڑدیا
‘بہت پٹوگی تم! تھینکس۔۔ تھینکس فار ایوریتھنگ(Thanks….thanks for everything)!’ وہ سچّے دل سے اُسکا شکریہ ادا کر رہی تھی (اگر آج وانیہ نہ ہوتی تو میں کیا کرتی؟) وانیہ نے اُسے محبت سے دیکھا اور مسکرانے لگی۔
************************

بیٹھی ہو کسی کے پہلو میں،
آنکھوںمیں چمکتا پیار لئے،
ہے خوشبو کسی کی قسمت میں،
دُنیا میں کسی کے ہو تو گئے،
تمھیں پیار نبھانا آ تو گیا!
تیز دھوپ کی کرنوں نے اُسکے سوئے ہوئے وجود میں جُنبش پیدا کی۔ اُس نے نیم وا آنکھوں سے کمرے کا جائزہ لیا۔ رابیل پردے ٹھیک کر رہی تھی۔
‘بند رہنے دو اِن پردوں کو رابی!’ روحیل اُٹھ کر بیڈ کی پُشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ آج رابیل غیر معمولی سنجیدہ دکھائی دے رہی تھی
‘جانی بھائی! آپ کل کہاں تھے؟’
‘بتایا تو تھا، شارق کی شادی تھی کل تو میں وہیں۔۔۔’
‘کل دو بار شارق بھائی کا گھر پر فون آیا ہے آپ وہاں نہیں تھے۔’ وہ اُسکی بات کاٹتے ہوئے بولی۔ روحیل نے بِنا کچھ بولے تھک کر آنکھیں موند لیں۔ اب وہ اپنی اِس بہن کو کیا بتاتا کہ وہ رات بھر سڑکوں پر گاڑی دوڑا کر اپنے منتشر ذہن اور بکھرے وجود کو سنبھالنے اور اِکٹھا کرنے میں لگاہوا تھا۔
تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اُس سے دور ۔۔ بہت دور چلی گئی تھی۔۔
سارے خواب بکھر گئے تھے۔۔
سب دعائیں رائیگاں گئی تھیں۔۔
رابیل نے اُسکے ہاتھ پر اپنا نازک ہاتھ رکھا۔
‘بھائی! آپکو وہاں جانا چاہئیے تھا، دیکھتے کہ شارق بھائی اور عرشیہ بھابھی۔۔۔۔’ وہ ایک دم خاموش ہوگئی شاید کچھ غلط بول گئی تھی
‘یوں بھی وہ تمھاری بھابھی ہوئی، شارق کے توسّط سے۔۔’ روحیل کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ آکر ٹھہر سی گئی تھی۔ کتنی کھوکھلی ہنسی تھی۔۔
جس میں صدیوں کا کرب اور تکلیف ایاں تھی۔۔ رابیل کو احساس ہوا کہ وہ تھوڑا نہیں بہت زیادہ غلط بول گئی ہے۔ اُسکی آنکھیں اپنے بھائی کا درد دیکھ کر نمکین پانیوں سے بھرنے لگیں۔
‘بھائی پلیز اُسے بھول جائیں۔ عرشیہ پر دنیا ختم تو نہیں ہو جاتی۔’ وہ کمال ضبط سے اُسے سمجھا رہی تھی جبکہ خود اُس کے اندر بھی کہیں بہت کچھ ٹوٹا ہوا تھا۔ کتنی پیاری سی تھی وہ لڑکی جس کو دل سے اُسنے اپنی بھابھی مان لیا تھا۔ اُسے خود عرشیہ کتنی پسند آئی تھی۔
‘اور میری تو دنیا جیسے اُسکے جاتے ہی ختم سی ہونے لگی ہے۔ رابی میں پل پل مر رہا ہوں۔۔ ٹوٹ رہا ہوں۔۔ بکھر رہا ہوں۔۔ اور مجھے سمیٹنے والا کوئی نہیں ہے۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔’ روحیل نے اپنے بال مُٹھی میں جکڑ لئے۔ اُس پر اِسوقت کا ایک ایک لمحہ عذاب بن کر گزر رہا تھا۔جِسے آپ شدتوں سے چاہتے ہوں اُسکو کسی اور کے ساتھ دیکھنا سوہانِ روح ہوتا ہے۔روح ایسی گھائل ہوجاتی ہے جیسے اُسے خاردار کانٹوں کی سِل پر گھسیٹا گیا ہو۔رابیل تیزی سے اُسکے قریب آئی اور اُسکا چہرہ اوپر اُٹھا کر اپنے ہاتھوں سے اُسکی آنکھوں کے گرد جمے پانی کو صاف کیا۔ وہ اشکبار تھا۔
‘بھائی! خود کو تکلیف مت دیں پلیز۔ میں ہوں، ممّی ہیں، ہم دونوں مل کر سمیٹیں گے آپکو۔ پلیز خود کو سنبھالئے۔ میں کبھی آپکو ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ ڈیڈی کے بعد آپ ہی ہمارا واحد سہارا ہیں، ہمارا سب کچھ ہیں۔ اگر آپکو کچھ ہوگیا تو ہم جیتے جی مر جائیں گے۔آپکو ہمارے لئے جینا ہے۔ آپکو اپنا خیال رکھنا ہے ہما رے لئے۔’ وہ اُسکی گود میں سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رودی۔ سکندر صاحب کا انتقال ہوئے دو سال بیت گئے تھے۔ اُنکے انتقال کے فوراً بعد ہی روحیل انگلینڈ سے واپس لوٹ آیا تھا۔اس کی ممّی اور بہن کو اُس کی سخت ضرورت تھی اور اب وہی اُن دونوں کی کل کائنا ت تھا۔ روحیل اپنا کرب اور دکھ بھول کر اُسے سمجھانے لگا۔
‘ارے تم رو رہی ہو پگلی!اب تم اور مّمی ہی تو میرے جینے کی واحد وجہ ہو۔ ایسے مت رو مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔ تم دونوں کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا میں۔۔ سوری پلیز! دیکھو آج کے بعد تمھیں تمھارا وہی بھائی ملے گا جو کچھ دنوں سے کہیں کھو گیا تھا۔میں کوشش کر رہا ہوں اُسے بُھلانے کی اور دیکھنا ایک نہ ایک دن ضرور کامیاب ہو جاؤنگا۔۔’ اُس کے اندر کوئی زور سے ہنسا تھا۔۔ کیا اِتنا آسان تھا۔۔ عرشیہ کو بُھلا دینا۔۔ جو روم روم میں بستی ہو کیا اِتنا آسان تھا۔۔ اُس بچپن کی محبت سے یوں پل بھر میں دستبردار ہو جانا۔۔
‘دیکھو اب میں مسکرا رہا ہوں۔ تم پلیز خاموش ہوجاؤ۔’ وہ اُسکے سر پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا
‘جانی بھائی پلیز آپ سگریٹ پینا چھوڑ دیں۔ دیر رات تک گھر سے باہر رہنا چھوڑدیں۔ آپکو ممی کی قسم ہے۔’ رابیل فوراً آنسو پونچھ کر اُٹھ بیٹھی اور اُس سے وعدہ لینے لگی۔
‘پکّا وعدہ سوئیٹ ہارٹ! آج کے بعد کبھی سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگاؤنگا اور نہ دیر رات تک گھر سے ہاہر رہونگا، خوش؟’ روحیل نے ایک خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اُس سے وعدہ کرلیا۔ وہ اپنے اِس بھائی کو دیکھے گئی جو کچھ دنوں میں ہی کیا سے کیا ہوگیا تھا۔ ۔ اُسکی سوچ کا تسلسل روحیل کی شوخ آواز نے توڑا۔
‘ویسے ہماری بہن بہت سمجھدار ہوگئی ہے۔ اب لگتا ہے حُذیفہ کے گوش گُزار کرنا ہی پڑیگا کہ تمھاری منگیتر بڑی ہوگئی ہے، اب جلدی سے بارات لاکر۔۔۔’
‘نہیں نہیں ابھی نہیں۔ ابھی تو مجھے بہت سارا پڑھنا ہے۔ ہاؤس جاب کرنی ہے اُسکے بعد آپ اُن سے۔۔۔۔’ روحیل کے منہ پر ہاتھ رکھے وہ جلدبازی میں بول گئی اور جب اُسکی نظر پڑی تو وہ شرارت سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ رابیل کو ڈھیروں شرم نے آگھیرااور وہ شرم کے مارے ایک دم خاموش ہوگئی۔ وہ ایک زبردست قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
‘ہاہاہا! پگلی! چلو فٹافٹ تیار ہوجاؤ، آج ہم باہر لنچ کرتے ہیں۔ اور ہاں! حُذیفہ کو بھی اِنوائٹ کرلینا۔’ وہ اُسکے سر پر ہلکی سی چپت لگاتا باتھروم کی جانب بڑھ گیا اور رابیل جو اُسکی بات پر کِھل اُٹھی تھی، آخر کا جملہ سنتے ہی دوبارہ نظریں جُھکا گئی۔
************************
کمرے کی خاموش فضاء میں سکوت طاری تھا۔ اُسکی ہلکی ہلکی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔شارق جو نیچے دوزانو ہوکر بیٹھا تھا، اُٹھا اور آکر عرشیہ کے برابر بیٹھ گیا ۔اُس نے عرشیہ کو اپنے حصار میں لیا اور سختی سے بھینچ لیا۔پھر دھیرے دھیرے اُسکے بالوں میں اپنی اُنگلیاں پھیرنے لگا۔
‘میں خدا کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اُس نے مجھے اِتنی خوبصورت اورخوب سیرت بیوی سے نوازا ہے۔ یقیناً میری کوئی نیکی الّلہ کو محبوب رہی ہے جو اُس نے میرے نصیب میں تمھیں لکھ دیا۔پلیز اب کسی قسم کا کوئی ڈر یا خوف اپنے دل و دماغ میں مت لاؤ۔ تمھارے کردار میں کسی قسم کا کوئی جھول نہیں ہے۔ تم کسی کی مُجرم نہیں ہو۔ تم نے کچھ غلط نہیں کیا، تمھارا ہر عمل اور ہر بات ہمیشہ بالکل ٹھیک رہی ہے۔ عاشی! تم جیسی با کردار، باحیا اور ایسی پیاری لڑکی یقیناً کسی کی بھی خواہش ہو سکتی ہے۔ اور میں خدا کا کتنا شُکر ادا کروں کہ اُس نے تم جیسا ہیرا میری جھولی میں ڈال دیا۔’
شارق نے اُس کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کی تھی۔ عرشیہ نے سر اُٹھا کر دیکھا ، وہ کتنا خوش اور مطمئن لگ رہا تھا۔ اُسکی رگ و پے میں ایک سکون سرائےّت کر گیا۔کتنے دِنوں کا بوجھ تھا جو اب اُتر گیا تھا۔ وہ ہلکی پُھلکی ہوگئی تھی۔
************************
فون کی تیز گھنٹی پر وہ کچن سے تقریباً بھاگتی ہوئی آئی تھی۔ سانس اِتنا پھولا ہوا تھا کہ وہ بحال بھی نہ کر پائی اور فون اُٹھالیا۔
‘وعلیکم السّلام! یا وحشت کون پیچھے پڑا ہے تمھارے جو تم اِسطرح بھاگتے ہوئے آئی ہو؟’ دوسری طرف شارق تھا۔ ایک پل کو عرشیہ نے فون کان سے ہٹا کر اِدھر اُدھر دیکھا جیسے وہ یہیں کہیں کھڑا ہو اور اُسے بھاگتا ہوا دیکھ چُکا ہو۔
‘آپ کو کیسے پتا کہ میں بھاگتی ہوئی آئی ہوں؟’
‘ہم بھی شاہین کی نظر رکھتے ہیں۔’ پھر ایک ٹھنڈی سانس بھر کر بولا
‘جس طرح ہانپتی کانپتی آواز میں تم نے سلام کیا تھا اُسی سے پتا چل گیا تھا کہ تم دوڑ دوڑ کر آئی ہو۔’
‘اوہ!’ عرشیہ کے اب سمجھ آیا تھا
‘کیسے فون کیا؟’ وہ پوچھ رہی تھی۔ شارق ایک ٹھنڈی سانس بھر کر گنگنانے لگا
‘آ تجھے اِن بانہوں میں بھر کے،
اور بھی کرلوں میں قریب،
تو جُدا ہو، تو لگے ہے،
آتا جاتا ہر پل عجیب،
اِس جہاں میں ہے اور نہ ہوگا،
مجھ سا کوئی بھی خوش نصیب،
تو نے مجھ کو دل دیا ہے،
میں ہوں تیرے سب سے قریب،
میں ہی تو تیرے دل میں ہوں،
میں ہی تو سانسوں میں بسوں،
تیرے دل کی دھڑکنوں میں،
میں ہی ہوں، میں ہی ہوں!!
مینی مینی ہیپّی رٹرنز آف دا ڈے سوئیٹ ہارٹ(Many many happy returns of the day sweetheart)!’ اتنی خوبصورت آواز تھی کہ عرشیہ اُسکی آواز میں چُھپے سچّے جذبوں میں کھو سی گئی۔ جب وہ رُکا تو عرشیہ سرشار لہجے میں بولی۔
‘واہ! آج تو بڑے موڈ میں لگ رہے ہیں اور کتنی اچھی آواز ہے آپکی ، کتنا پیارا گاتے ہیں میں نے تو کبھی غور ہی نہیں کیا!’
‘ہائے!’ پھر ایک آہ بھر کر مزید بولا
‘ابھی تو آپ نے ہمیں ٹھیک سے دیکھا ہی کہاں ہیں۔ ابھی ہم میں کتنے شاہکار چُھپے ہیں جو بروئے کار لانے ہیں۔’ وہ ایک طویل سانس کھینچ کر ذومعنی بولا۔ اُسکا لہجہ جذبوں سے پُر تھا۔
‘میرا خیال ہے میں اے سی بند کردیتی ہوں، آج آپکی آہوں سے ہی کافی ٹھنڈ ہورہی ہے یہاں۔’ شارق کا چھت پھاڑ قہقہہ ریسیور (receiver) میں گونج اُٹھا۔
‘اچھا سا تیار ہوجاؤ فٹافٹ، میں بس مندرہ منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔ لونگ ڈرائیو پر چلیں گے اور ڈنرآج باہر کریںگے۔’
‘مندرہ منٹ میں؟ پر آپ کے آفس کا راستہ کم سے کم پینتالیس منٹ کا ہے۔’ عرشیہ کو حیرت ہوئی
‘ارے تمھارے پاس تو ہم اُڑھ کر پہنچ جائیں لیکن ابھی ہمارے پروں کی سروس معطل ہے۔’ عرشیہ زور سے ہنسی تھی اور فون بند کرتے وقت وہ اُسے احتیاط سے گاڑی ڈرائیو کرنے کا کہنا نہیں بھولی تھی۔
اُسے تیار ہوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ فون کی گھنٹی دوبارہ بج اُٹھی۔ وہ مسکرا کر فون کی طرف بڑھی (یقیناً شارق ہی ہونگے) لیکن ایک اجنبی آواز سُن کر وہ محتاط ہوگئی۔
‘ہیلو!’ آواز کافی بھاری اور خوبصورت تھی
‘جی کون؟’ عرشیہ نے پوچھا ۔
‘یہ شارق حیدر کا گھر ہے؟’ اُسے یہ گمان گزرا کہ وہ اِس آواز کو پہلے بھی کئی دفع سُن چُکی ہے
‘جی یہ شارق کا ہی گھر ہے اور میں اُنکی مسز ہوں، پر آپ کون ہیں؟’ کچھ لمحے دوسری طرف گہری خاموشی چھائی رہی۔۔
اور اُسکے بعد جو کچھ عرشیہ کے کانوں نے سُنا وہ اُسکے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لینے کیلئے کافی تھا۔۔
ریسیور اُسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی ۔۔
‘نہیں! نہیں شارق۔۔ خُدا کیلئے۔۔ ایسا۔۔ پلیز۔۔ ایسا مت کرنا۔۔ امّی۔۔پاپا۔۔ ماما۔۔
انیلہ بیگم کے آکر اُسے تھامنے تک وہ زمین بوس ہوچُکی تھی۔ پورے گھر میں کہرام مچ گیا تھا۔ شارق کا ہائیوے پر بہت بُرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ اُسکی گاڑی ایک تیز رفتاردیو ہیکل گاڑی کے نیچے تقریباً کُچلی گئی تھی۔شارق کو بہت گہرے زخم آئے تھے۔ وہ آئی سی یو(ICU) میں تھا اور ڈاکٹرز نے اُسکے بچنے کی بہت کم اُمید دِلائی تھی۔اب صرف دعائیں ہی تھیں جو اُسے بچا سکتی تھیں۔ عرشیہ پورے دو گھنٹے بعد ہوش میں آئی تھی اور ہوش میں آتے ہی بِنا کسی کی بات سُنے وہ اسپتال بھاگی تھی۔
************************
وہ بھاگتی ہوئی اسپتال کی راہداری عُبور کر رہی تھی جب شارق کے کمرے سے نکلتے روحیل کودیکھ کر وہ ٹھٹکی۔اُن دونوں کاسامنا پورے سال بعد ہورہا تھا، اُن دونوں کی شادی کے بعد روحیل نے شارق سے ملنا جُلنا بہت کم کردیا تھا،وہ اپنے آپکو زیادہ طر کاموں میں مصروف رکھتا ۔ روحیل بھی عرشیہ کو دیکھ چُکا تھا ۔ وہ بِنا کچھ بولے تیزی سے آگے بڑھنے لگا جب پیچھے سے آتی عرشیہ کی آواز نے اُسکے قدم روک لئے۔
‘تم! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟’ وہ ایڑیوں کے بل اُسکی طرف گھوما
‘میں ہی شارق کو ہاسپٹل لایا تھا۔’
‘تو۔۔تو کیا اُنکا ایکسیڈنٹ تمھاری گاڑی سے ہوا ہے؟’ عرشیہ کے لہجے میں خود بخود تلخی در آئی
‘اِتنی بدگمانی بھی اچھی نہیں ہوتی! میں شارق کو صرف زخمی حالت میں یہاں لیکر آیا ہوں۔ میں نہیں جانتا اُسکا ایکسیڈنٹ کس کی گاڑی سے ہوا ہے۔اور آپکو کال بھی میں نے ہی کی تھی۔ بہرحال آپ اندر جائیں شارق کواِسوقت آپکی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔’ وہ اپنی بات ختم کرکے رُکا نہیں تھا، لمبے لمبے ڈگ بھرتا راہداری عُبور کر گیا۔ عرشیہ کو حیرت ہوئی آج پہلی بار اُسکی نظریں جُھکی ہوئی تھیں، وہ عرشیہ کو دیکھنے سے گُریز برت رہا تھا اور اُسکا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔وہ ساری سوچوں کو جھٹک کر ویٹنگ روم میں داخل ہوگئی۔ شارق کو پورے چار دن بعد ہوش آیا تھا لیکن اب بھی اُسکی حالت خطرے سے باہر نہیں تھی۔ سب گھر والے یہیں موجود تھے ۔ روحیل بھی روز چکّر لگا لیا کرتا تھا لیکن وہ زیادہ تر ایسے وقتوں میں آتا تھا جب عرشیہ آس پاس موجود نہ ہویا کسی ضروری کام سے گھر گئی ہو اسلئے اُس دن کے بعد سے عرشیہ سے اُسکا سامنا نہیں ہوا تھا۔
عرشیہ جو شارق کو سوپ پِلا کر برتن سمیٹ رہی تھی۔۔ بے آواز رونے لگی۔۔
پچھلے کچھ دِنوں میں وہ بے تحاشا روئی تھی۔۔
بات بے بات آنسو اُسکی آنکھوں سے برس رہے تھے۔۔
آج بھی آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔
وہ شارق کی آواز پر چونکی جو بمشکل کچھ کچھ بول رہا تھا۔۔
‘عرشیہ! اِدھر آؤ میرے پاس!’ وہ اپنے برابر جگہ بناتے ہوئے آکسیجن ماسک اُتارنے لگا
‘یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ پاگل ہوگئے ہیں کیا؟’ وہ لپک کر اُس تک پہنچی اور اُسکا ہاتھ روکنا چاہاپر جب تک وہ ماسک اُتار چُکا تھا
‘ مجھے تم سے۔۔ بہت ضروری بات کرنی ہے عرشیہ۔۔ شاید۔۔ زندگی۔۔ پھر مہلت نہ دے۔۔’
‘شیری!’ عرشیہ تڑپ ہی توگئی تھی۔ وہ ویسے ہی تاروں اور پٹّیوں میں جکڑا ہوا تھا اور اُس پر سے ایسی باتیں۔ عرشیہ کو اپنا دم گُھٹتا محسوس ہوا
‘آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔ گھر چل کر کریں گے ڈھیر ساری باتیں۔ ابھی آپ۔۔’ شارق نے درمیان سے اُسکی بات کاٹ دی
‘عاشی! جو۔۔ حقیقت ہے اُسے جتنی جلدی قُبول کرلو اُتنا اچھا ہے۔۔ دیکھو میں جو کہہ رہا ہوں وہ غور سے سُنو۔۔’ وہ ایک سانس لیکر رُکا پھر بولا
‘میں مانتا ہوں ماضی میں روحیل سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔۔ لیکن وہ اِتنا بُرا نہیں ہے جتنا تُم اُسے ہمیشہ سمجھتی رہی ہو۔’ عرشیہ اچنبے سے اُسے دیکھنے لگی۔ وہ کچھ بولنے کیلئے لب کھولنے ہی لگی تھی کہ شارق نے اُسے ٹوک دیا۔
‘آں! ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی ہے۔’ پھر وہ کچھ پل کیلئے خاموش ہوگیا۔ شاید اُسے زیادہ بولنے میں تکلیف ہورہی تھی، اسلئے وہ بار بار رُک رہا تھا۔ عرشیہ اُسے یک ٹک نم آنکھوں سے دیکھے جا رہی تھی۔


‘غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں اور جو معاف کردیتا ہے اُسکا رُتبہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ روحیل نے جو کچھ بھی کیا وہ صرف اِسلئے کہ وہ تم سے بہت محبت کرتا تھا۔وہ سب اُسکا ماضی تھا لیکن آج یہ ثابت ہوگیا کہ وہ دل کا بہت اچھا ہے۔ اگر مجھے وقت پر وہ ہاسپٹل نہ لاتا تو شاید میں یہ چند ساعتیں بھی تمھارے ساتھ گُزار نہ پاتا۔۔ فائدہ تو اب بھی کچھ نہیں ہے۔۔ یوں بھی زندگی ریت کی طرح میرے ہاتھوں سے پھسلتی جارہی ہے۔۔’ عرشیہ کی آنکھیں بے تحاشا سُرخ ہوچُکی تھیں اور اب آنسو سارے بند توڑ کر بہہ نکلے ۔
وہ زاروقطار رونے لگی ۔۔
‘آپ کیوں کر رہے ہیںایسی باتیں؟ آپکو کچھ نہیں ہوگا پلیز مجھ پر رحم کریں شیری!’ شارق نے اُسکی تکلیف محسوس کرکے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ دو آنسو اُسکی آنکھوں سے ٹپکے تھے۔ وہ عرشیہ کا چہرہ اوپر اُٹھا کر بولا۔
‘موت تو بر حق ہے، اور ایک نہ ایک دن آنی ہے نا۔ ۔شاید ہمارا ساتھ یہیں تک تھا۔ ۔عاشی! جو دن تمھارے ساتھ ، تمھاری رفاقت میں گُزرے، وہ میری زندگی کے سب سے خو بصورت دن تھے۔۔ لیکن اب جاتے جاتے میں تمھیں اِسطرح روتا تڑپتا چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔۔ تمھیں کسی کے محفوظ ہاتھوں میں، کسی کی پیار بھری بانہوں میں سونپ کر جانا چاہتا ہوں۔۔ کہو مانوگی نا میری بات؟؟ وعدہ کرو مجھ سے!’ شارق نے اُسکے آگے ہاتھ پھیلایا جسے عرشیہ نے ایک لمحے میں تھام کر اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔
‘سب مانوںگی۔ جو کہیںگے وہ کروںگی بس پلیز ایسی باتیں نہ کریں ۔ مجھے آپکی ضرورت ہے ۔آپکی عاشی کو آپکی بہت ضرورت ہے شیری۔مجھے چھوڑ کر کہیں مت جانا پلیز میں جی نہیں پاؤنگی تمھارے بغیر۔۔’ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ شارق نے اُسے زور سے بانہوں میں بھر لیا۔
‘میں کب تم سے دور جانا چاہتا ہوں جان! پر یہ زندگی اب مزید مہلت نہیں دے رہی مجھے۔۔ میں جاتے جاتے ایک آخری فیصلہ کرنا چاہتا ہوں جو تمھیں ماننا ہوگا۔ مانوگی نا؟؟’ عرشیہ نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا
‘تم۔۔۔۔۔’ اُسے بولنے میں تکلیف ہو رہی تھی
‘تم۔۔۔ میرے جانے کے بعد روحیل سے شادی کرلینا۔۔ وہ تمھیں۔۔ بہت چاہتا ہے اور۔۔ تمھیں بہت خوش رکھے گا۔۔’
‘شارق!’ وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی۔ غُصّے اور غم کی شدت سے اُسکی آواز رُندھ گئی اور آنسوؤں کا گولا حلق میں پھنس گیا تھا۔ اُسے شارق سے اِس بات کی اُمید ہرگز نہ تھی۔
‘وعدہ کرو عاشی مجھ سے۔۔وعدہ کرو تم ایسا ہی کروگی؟’ شارق نے اُسکا ہاتھ تھامنا چاہا جسے وہ ایک جھٹکے سے چُھڑا کر پلٹ گئی اور تلخ لہجے میں بولی
‘فضول باتیں بند کریں! میں ایسا کوئی وعدہ نہیں کرونگی ۔ اور اب آپ کچھ نہیں بولیںگے، اسوقت آپکو صرف آرام کی ضرورت ہے۔’ اُسی وقت شارق کی درد سے کراہ سُنائی دی۔ اُسکی تکلیف بڑھ رہی تھی۔ عرشیہ ایک لمحے میں سارا غصہ بھول کر اُسکے قریب آئی ۔
‘کیا۔۔ کیا ہو رہا ہے آپکو؟ میں ڈاکٹر کو بُلا کر لاتی ہوں۔۔’ وہ بھاگنے کے ارادے سے مُڑی تھی جب شارق نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے جانے سے روک لیا۔
‘کوئی فائدہ نہیں ہے عاشی! میری زندگی کا دیا کبھی بھی بجھ سکتا ہے۔۔ وعدہ کرو مجھ سے تم میری بات مانوگی؟ روحیل سے شادی کرلو گی۔۔ میں بہت تکلیف میں ہوں عاشی۔۔ میری دھڑکنوں کو قرار دو۔۔ میں دل پر کوئی بوجھ لیکر یہاں سے جانا نہیں چاہتا۔۔ میں تمھیں اِتنی اذیت اور تنہائی میں نہیں دیکھ سکتا۔۔ پلیز مجھ سے وعدہ کرو۔۔ روحیل تمھیں بہت خوش رکھے گا۔۔ کیوں روحیل، رکھوگے نا خوش میری عاشی کو؟؟’
شارق عرشیہ پر سے نظریں ہٹا کر اُسکے پیچھے دیکھ رہا تھا۔ اُسکی نظروں کے تعاقب میں عرشیہ نے جیسے ہی پلٹ کر دیکھا تو وہ چونک گئی۔ روحیل پیچھے ہی اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالے نظریں جُھکائے کھڑا تھا۔ وہ سب کچھ سُن چکا تھا بلکہ پہلے سے سب کچھ جانتا تھا۔ عرشیہ کے آنسوؤں میں اور بھی روانی آگئی ، اِس بار وہ کچھ نہ بولی تھی۔۔ شاید بولنے کیلئے کچھ بچا ہی نہ تھا۔ روحیل قدم بڑھاتا شارق کے بیڈ کے پاس آکر رُکا اور اُسکا ہاتھ تھام کر اثبات میں سر ہِلادیا اور پھر اُسکی پیشانی چوم لی۔ روحیل کی سیاہ آنکھیں ضبط کے باعث سُرخ ہورہی تھیں۔ جو کچھ بھی تھا شارق اُسکا بہت اچھا دوست تھا۔ آج اُسے اِس حالت میں دیکھ کرروحیل کا دل بھی بہت بوجھل تھا۔ تینوں کیلئے یہ وقت ایک کٹھن اِمتحان تھا۔ ایک تکلیف دہ آزمائش تھی جسمیں وہ تینوں گِھر چُکے تھے۔
شارق نے باری باری اُن دونوں کو دیکھا اور آنکھیں موند لیں۔۔
کچھ ہی لمحے بعد وہ تیز تیز سانسیں لینے لگا۔۔
اُسکی سانسیں اُکھڑ رہی تھیں۔۔
مونیٹر پر چلنے والی پٹّی میں اُسکی سانسوں کے ساتھ اُسکے دِل کی رفتار بھی تیزی سے کم ہورہی تھی ۔۔
عرشیہ نے اُسے دونوں ہاتھوں سے تھاما۔۔ روحیل بھی تیزی سے اُسکے اور قریب آیا ۔۔
‘شارق !’ یہ روحیل کی آواز تھی
‘شیری! تم مجھ سے وعدہ لیکر اسطرح مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔۔ پلیز واپس آجاؤ میں مرجاؤنگی شیری۔۔ شیری!’ شارق نے اُسکے گالوں کو نرمی سے چھوا ۔۔ وہ مسکراتا ہوا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
آہستہ آہستہ اُسکی آنکھوں میں زندگی کی رمق بُجھتی جارہی تھی۔۔
اُسکی سانسیں دم توڑ رہی تھیں۔۔
وہ مسکراتے ہونٹ بے جان ہوگئے تھے۔۔
وہ چمکدار آنکھیں ایک دم ویران لگنے لگی تھیں۔۔
وہ اپنی سانسیں پوری کرچُکا تھا۔۔
عرشیہ بے یقینی سے اُسے جھنجھوڑ رہی تھی ۔روحیل ڈاکٹر کو بُلانے باہر کی طرف بھاگا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔۔ شارق کا وجود بالکل بے جان ہوچُکا تھا۔۔ وہ اپنی زندگی ہار گیا تھا۔۔سب کو روتا بِلکتا چھوڑ کر وہ سکون کی نیند سو گیا تھا۔۔
وانیہ نے جیسے ہی آکر اُسکے شانے پر ہاتھ رکھا وہ تڑپ کر اُسکے گلے لگ گئی اور بِلک بِلک کر رونے لگی۔
‘وانیہ! دیکھو نا کتنا تنگ کر رہا ہے یہ مجھے۔ ۔اِس سے کہو پلیز اُٹھے مجھے یوں تنگ نہ کرے۔ ۔اِس سے کہو اُٹھے۔۔ اِسکی عاشی کو اِسکی بہت ضرورت ہے۔۔دیکھو کتنا بے رحم ہوگیا ہے یہ۔۔ مجھے اِس دنیا میں اکیلا کرکے چلا گیا ہے۔۔ سارے وعدے جھوٹے تھے۔۔ کہتا تھا میرے ساتھ زندگی بھر قدم سے قدم مِلا کر چلے گا۔۔ آج یہ خاموش کیوں ہے۔۔ کیوں اِتنا ظلم کیا ہے مجھ پر۔۔ اِس سے کہو اُٹھے پلیز اُٹھے۔۔’
وانیہ ساکت کھڑی تھی۔ ۔اِتنا بڑا امتحان۔۔ اِتنی بڑی آزمائش۔۔ کیسے برداشت کریگی یہ نازک سی لڑکی۔۔ وہ کتنی ہی دیر عرشیہ کو دیکھتی رہی جو آنسوؤں سے زاروقطار رو رہی تھی۔
‘اوہ میری جان!’ وانیہ نے اُسے سختی سے خود میں چُھپا لیا اور اُسکا سر سہلانے لگی۔ وہ اِسوقت بہت قابلِ رحم لگ رہی تھی۔
‘یا الّلہ! اس لڑکی کو اب روحیل بھائی کے روپ میں دُنیا کی ہر خوشی دینا۔ اب کبھی اِسے کسی آزمائش کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آمین!’ شارق نے عرشیہ کی غیر موجودگی میں سب کو اپنا یہ فیصلہ سنا کر راضی کرلیا تھا کہ روحیل اور عرشیہ کی شادی کردی جائے کیونکہ صرف وہی تھا جو شارق کے بعد اُسے سنبھال سکتا تھا اور خوش رکھ سکتا تھا۔
وہ عرشیہ کو اپنے ساتھ لئے باہر کی طرف چل دی۔ سب کو گھر جانا تھا۔اچانک ہی سارا منظر بدل گیا تھا۔ قسمت نے اپنی چال چل دی تھی ۔ شارق کی ڈیڈ باڈی لئے سب بوجھل قدموں سے گھر کی طرف لوٹ رہے تھے۔
************************
(ختم شد)
 

Create an account or login to comment

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top